فروغِ علم میں ترجمے کی اہمیتہر سال 30 ستمبر کو عالمی یومِ ترجمہ (International Translation Day) منایا جاتا ہے۔ یہ دن دنیا بھر میں مترجمین، ترجمانوں اور زبان و ادب سے وابستہ ماہرین کی خدمات کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ترجمہ محض ایک زبان کے الفاظ کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ علم، فکر، تہذیب، ادب اور تجربات کو ایک معاشرے سے دوسرے معاشرے تک پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ انسانی تاریخ میں علم کے پھیلاؤ اور تہذیبوں کے باہمی رابطے میں ترجمے نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ علم کی منتقلی کا ذریعہدنیا میں مختلف زبانوں کے وجود نے جہاں انسانی تہذیب کو رنگا رنگی عطا کی وہیں زبان کا فرق علم کے تبادلے میں ایک رکاوٹ بھی بن سکتا تھا۔ ترجمے نے اس رکاوٹ کو بڑی حد تک ختم کیا۔ ایک زبان میں پیدا ہونے والا علمی سرمایہ دوسری زبان بولنے والے لوگوں تک ترجمے کے ذریعے پہنچا اور یوں علم کسی ایک خطے یا قوم تک محدود نہیں رہا۔قدیم زمانے سے ہی فلسفہ، طب، ریاضی، فلکیات، جغرافیہ اور دیگر علوم کی کتابوں کے تراجم نے انسانی علم کے ارتقا میں اہم کردار ادا کیا۔ اسلامی تاریخ میں عباسی دور کا علمی و ترجمے کا کام اس کی نمایاں مثال ہے جب یونانی، فارسی اور دیگر زبانوں کے علمی ذخیرے کا عربی میں ترجمہ ہوا۔ اس علمی سرگرمی نے مسلمانوں کے علمی اور سائنسی ارتقا میں اہم کردار ادا کیا اور بعد ازاں یہی علمی سرمایہ مختلف راستوں سے یورپ تک پہنچا۔آج بھی یہی اصول برقرار ہے۔ دنیا کے کسی ایک حصے میں ہونے والی سائنسی تحقیق، نئی دریافت، ادبی تخلیق یا فکری بحث اس وقت عالمی سطح پر زیادہ مؤثر ہوتی ہے جب اسے دوسری زبانوں میں منتقل کیا جائے۔ادب اور ثقافت کے درمیان رابطہترجمہ صرف سائنسی اور فنی معلومات تک محدود نہیں۔ عالمی ادب کے فروغ میں بھی اس کا کردار بنیادی ہے۔ ایک ملک کے ناول، افسانے، شاعری اور فلسفیانہ ادب جب دوسری زبانوں میں منتقل ہوتے ہیں تو مختلف معاشروں کے لوگ دوسری تہذیبوں کے جذبات، روایات، تاریخ اور طرزِ فکر کو سمجھنے کے قابل ہوتے ہیں۔اسی طرح ترجمہ ثقافتی فاصلے کم کرنے کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ کسی معاشرے کو سمجھنے کے لیے صرف اس کے اعداد و شمار جاننا کافی نہیں، بلکہ اس کی زبان، ادب اور ثقافتی اظہار کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اچھا مترجم صرف الفاظ منتقل نہیں کرتا بلکہ مفہوم، سیاق و سباق اور ثقافتی حساسیت کو بھی دوسری زبان کے قارئین تک پہنچاتا ہے۔آئی ٹی نے ترجمے کی دنیا بدل دیگزشتہ چند دہائیوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ترجمے کے شعبے میں غیر معمولی تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ پہلے ایک طویل کتاب یا دستاویز کا ترجمہ کرنے میں کئی ماہ یا بعض اوقات سال لگ سکتے تھے، جبکہ آج کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور جدید سافٹ ویئر نے اس عمل کو کہیں زیادہ تیز اور منظم بنا دیا ہے۔کمپیوٹر اسسٹڈ ٹرانسلیشن (CAT) ٹولز، آن لائن لغات، اصطلاحاتی ڈیٹابیس، ٹرانسلیشن میموری اور مشینی ترجمے کے نظام نے مترجمین کی کارکردگی میں اضافہ کیا ہے۔ اب ایک مترجم پہلے سے ترجمہ کیے گئے جملوں اور اصطلاحات کو دوبارہ استعمال کر سکتا ہے، جس سے وقت کی بچت اور زبان میں یکسانیت پیدا ہوتی ہے۔انٹرنیٹ نے بھی اس شعبے میں انقلاب برپا کیا ہے۔ مترجم کو اب لغت یا حوالہ جاتی کتاب کے لیے لازماً کتب خانے جانے کی ضرورت نہیں۔ مختلف آن لائن ذرائع، ڈیجیٹل لغات، علمی جرائد اور اصطلاحاتی ذخائر چند لمحوں میں دستیاب ہو جاتے ہیں۔مصنوعی ذہانت اور مشینی ترجمہحالیہ برسوں میں مصنوعی ذہانت (AI) نے ترجمے کے شعبے میں ایک نئی تبدیلی پیدا کی ہے۔ AI صرف لفظ بہ لفظ ترجمہ کرنے کے بجائے جملے کے سیاق و سباق، زبان کے انداز اور بعض اوقات پورے متن کے مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مشینی ترجمہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ رواں اور قابلِ فہم ہوا ہے۔AI کی مدد سے اب بڑی مقدار میں مواد مختصر وقت میں دوسری زبان میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ ویب سائٹس، تعلیمی مواد، کاروباری دستاویزات، تکنیکی معلومات اور عام مواصلات میں اس ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ آواز کی شناخت اور خودکار سب ٹائٹلنگ جیسی ٹیکنالوجیز نے زبانوں کے درمیان فوری رابطے کے امکانات وسیع کیے ہیں۔تاہم مصنوعی ذہانت نے مترجم کی ضرورت ختم نہیں کی۔ پیچیدہ ادبی، قانونی، طبی، سفارتی اور حساس نوعیت کے متن میں انسانی فہم اور دانش اب بھی اہم ہے۔ AI بعض اوقات اصطلاح، محاورے، مفہوم یا مخصوص پس منظر کو غلط سمجھ لیتا ہے۔ اس لیے مستقبل میں انسان اور AI کے اشتراک پر مبنی ترجمہ زیادہ اہم دکھائی دیتا ہے۔مترجم کا کردار بدل گیا مستقبل کا مترجم AI سے تیار کردہ ابتدائی ترجمے کی جانچ، اصلاح، ثقافتی مطابقت اور حتمی معیار کی ذمہ داری سنبھالے گا۔ اس کے لیے زبان پر عبور کے ساتھ ٹیکنالوجی کو سمجھنا بھی ضروری ہوگا۔