آج کا پاکستان: صرف 21 فیصد تعلیم یافتہ
اسپیشل فیچر
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، شرح خواندگی میں پاکستان جنوبی ایشیاء میں صرف افغانستان اور بنگلہ دیش سے اوپر ہے جبکہ چین، ایران، سری لنکا، نیپال اور برما بھی پاکستان سے آگے ہیں۔لمحہ فکریہ یہ ہے کہ پاکستان کی نئی نسل میں تعلیم کا رجحان روز بہ روز کم ہو رہا ہے۔ صرف 2012ء تک کی بات کریں، تو اس سال تک ملک بھر میں صرف 21 فیصد افراد پڑھے لکھے اور 79 فیصد ان پڑھ تھے۔ ان دونوں ہندسوں کا درمیانی فرق 21 ویں صدی کے جدید ترین دور میں حیران کن ہونے کے ساتھ ساتھ افسوسناک بھی ہے۔اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کا کہنا ہے کہ دنیا کے 221 ممالک میں مذکورہ بالا شرح خواندگی کے ساتھ پاکستان 180 ویں نمبر پر ہے۔عمر کے لحاظ سے دیکھیں تو جو لوگ زیادہ پڑھے لکھے ہیں ان کی عمریں 55سے 64سال کے درمیان ہیں اور ان کی شرح خواندگی 57 فیصد بنتی ہے جبکہ 15سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں کی شرح 72فیصد ہے یعنی تعلیم کا گراف گررہا ہے, جنہوں نے پہلے پڑھا ، سو پڑھا، نئی نسل میں تعلیم کا رجحان ہی کم ہے۔پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے یونیسکو کی جاری کردہ اِسی رپورٹ کے حوالے سے کچھ مزید اعداد و شمار بھی جاری کئے ہیں جن کی تفصیل کچھ اس طرح ہے:٭ ملک بھر میں 75 فیصد لڑکے اور لڑکیاں میٹرک یعنی 10 ویں کلاس سے بھی پہلے اسکول کوہمیشہ کے لئے خدا حافظ کہہ دیتے ہیں۔٭ 81 فیصد طالب علم انگریزی کے الفاظ نہیں پڑھ سکتے۔٭ تین سے پانچ سال کی عمر کے سندھ سے تعلق رکھنے والے 72 اور بلوچستان کے 78 فیصد طلبا اسکول نہیں جاتے۔