کیا عظیم رومانوی داستان ’’ انا رکلی ‘‘ جھوٹ پہ مبنی ہے؟

کیا عظیم رومانوی داستان ’’ انا رکلی ‘‘ جھوٹ پہ مبنی ہے؟

اسپیشل فیچر

تحریر :


اُردو ڈراما کی تاریخ میں امتیاز علی تاج کی تخلیق ڈراما ’’انار کلی‘‘ کو جو مقبولیت حاصل ہوئی ہے وہ اپنی مثال آ پ ہے۔ یہ ڈراما پہلی بار 1932ء میں شائع ہوا۔ اس کے بعد اب تک اس کے متعدد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور اس ڈرامے کی مقبولیت بر قرار ہے۔ بھارت میں انارکلی کی کہانی کی اساس پر ایک فلم ’’مغل اعظم‘‘بنائی گئی جسے فلم بینوں نے بہت پسند کیا۔ اپنی نوعیت کے لحاظ سے انارکلی ایک ایسی رومانی داستان ہے جس کے حقیقی مآخذ کے بارے میں اب تک کوئی ٹھوس تاریخی حقیقت یا دستاویزی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ نور جہاں اور جہانگیر کے کبوتروں والا معاملہ ہے جو کبھی تھا ہی نہیں مگر لوگ اب تک اسے کالنقش فی الجر قرار دیتے ہیں۔ انار کلی کی پوری داستان ایسے واقعات سے لبریز ہے جو سرے سے کبھی وجود میں ہی نہیں آئے۔ خود امتیاز علی تاج نے اس ڈرامے کی حقیقت کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اس کو تاریخی واقعات سے متصادم سمجھتے ہوئے اس کی افسانوی حیثیت کو واضح کیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ انار کلی کا واقعہ 1599ء میں وقوع پذیر ہوا۔ یورپی سیاح ولیم فنچ جو 1618ء میں لاہور پہنچا، اس نے اپنی یاد داشتوں میں اس المیے کا ذکر بڑے دردناک انداز میں کیا ہے۔ اس نے پوری کوشش کی کہ کسی نہ کسی طرح اس من گھڑت واقعے کے ذریعے مغل شہنشاہ اکبر کو بد نام کیا جائے۔ اس نے اکبر کی توہین، تذلیل، تضحیک اور بے توقیری میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ اس کے بعد 1618ء میں ایک اور یورپی سیاح ایڈورڈ ٹیری لاہور آیا، اس نے بھی اپنے پیش رو سیاح کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے اس فرضی داستان کو خوب نمک مرچ لگا کر پیش کیا۔ دراصل یہ ایک سازش تھی جسے مسلسل آگے بڑھایا جا رہا تھا۔ چار سال بعد یعنی 1622ء میں یورپ سے سیاحت کی غرض سے آنے والے ایک اور سیاح ہربرٹ نے بھی اس قصے کو اپنی چرب زبانی سے خوب بڑھا چڑھا کر بیان کیا۔ اس کے باوجود کسی نے ان بے سروپا الزامات پر کان نہ دھرا۔ اس زمانے میں ادب کے سنجیدہ قارئین نے اس قسم کے عامیانہ نوعیت کے بیانات کو کبھی لائق اعتنا نہ سمجھا۔ پورے دو سو سال تک بر صغیر کے لوگ اس قصے سے لا علم رہے کسی غیر جانب دار مورخ کے ہاں اس کا ذکر نہیں ملتا۔ نور الدین جہانگیر نے تزک جہانگیری میں کہیں اس کا ذکر نہیں کیا۔ اس عہد کے ممتاز مورخ والہ داغستانی اور خافی خان جو اکبر اور جہانگیر کی معمولی نوعیت کی لغزشوں پر بھی نظر رکھتے تھے، انھوں نے بھی کسی مقام پر اس قصے کو ذکر نہیں کیا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام قصہ محض تخیل کی شادابی ہے۔ یورپی سیاحوں نے اپنی منفی سوچ کو بروئے کا لاتے ہوئے سازش کا جو بیج بویا وہ رفتہ رفتہ نمو پاتا رہا۔ 1864ء میں مولوی نور احمد چشتی نے اپنی تصنیف ’’تحقیقات چشتی‘‘میں انار کلی اور اکبر کے اس رومان کا ذکر کیا ہے۔ 1882ء میں کنہیا لال ہندی نے اپنی تصنیف ’’تاریخ لاہور‘‘میں انار کلی، اکبر اور سلیم کے اس المیہ قصے کا احوال بیان کیا ہے۔ یہ سلسلہ مقامی ادیبوں کے ہاں ایک طویل عرصے کے بعد اس قصے کی باز گشت سنائی دینے لگی۔ سید محمد لطیف نے بہت بعد میں انار کلی اور اکبر کے اس المیے کا ذکر اپنی تصنیف (History of Lahore) میں کیا ہے۔ یہ انگریزی کتاب 1892ء میں شائع ہوئی۔ تاریخ حقائق سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ انار کلی، اکبر اور سلیم کا یہ رومانی المیہ جسے ابتدا میں یورپی سیاحوں نے محض تفنن طبع کے لیے اختراع کیا، آنے والے دور میں اس پر لوگوں نے اندھا اعتماد کرنا شروع کر دیا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حقیقت کو خرافات کے سرابوں کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ آثار قدیمہ، تاریخی حقائق اور دستاویزی ثبوت اس تمام المیہ ڈرامے کو جھوٹ کا پلند قرار دیتے ہیں۔ وہ دیوار جس کے بارے میں یہ شو شہ چھوڑا گیا کہ اس میں انار کلی کو زندہ دفن کیا گیا۔ اس کے آثار لاہور شہر میں کہیں موجود نہیں۔ انار کلی کے تنازع پر جنرل مان سنگھ اور شہزادہ سلیم کی مسلح افواج کے درمیان جو خونریز جنگ ہوئی اس کے میدان جنگ، مرنے والوں اور زخمیوں کی تعداد کا کوئی علم نہیں۔ جنرل مان سنگھ تو مغل افواج کی کمان کر رہا تھا شہزادہ سلیم نے ایک بڑی فوج کہاں سے حاصل کی اور اس کی تنخواہ اور قیام و طعام کا بندوبست کیسے ہوا؟ جنرل مان سنگھ کی کامیابی کے بعد شہزادہ سلیم کی حامی اور اکبر کی مخالف فوج پر کیا گزری؟کیا اکبر کی سراغ رسانی اس قدر کم زور تھی کہ اسے دلآرام کے علاوہ کسی سراغ رساں نے اس بات کی مخبری نہ کی کہ ولی عہد شہزادہ ایک کنیز کے چنگل میں پھنس کر بغاوت پر آمادہ ہو سکتا ہے۔ کیا اکبر اعظم کا نظام سلطنت اس قدر کم زور تھا کہ اسے اپنے خلاف سازش اور بغاوت کی کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ یہ سب سوال ایسے ہیں جو اس قصے کو نہ صرف من گھڑت ثابت کرتے ہیں بلکہ اسے یورپی سیاحوں کی بد نیتی اور ذہنی افلاس پر مبنی ایک صریح جھوٹ قرار دیتے ہیں۔لاہور سول سیکرٹیریٹ میں جو انارکلی کے نام سے موسوم ہے وہ انار کلی کا مقبرہ نہیں بلکہ زین خان کوکہ کی صاحب زادی \"صاحب جمال \"کی آخری آرام گاہ ہے۔ یہ شہزادہ سلیم کی منکوحہ تھی۔ اس کا مقبرہ شہزادہ سلیم نے اپنے عہد میں تعمیر کروایا۔(فضہ پروین کی کتاب’’ادب دریچے ‘‘ سے انتخاب)٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
مسجد صادق گڑھ پیلس

مسجد صادق گڑھ پیلس

مغل روایت اور عباسی وقار کی علامتریاستِ بہاولپور کے سنہرے دور کی یادگار عمارتوں میں صادق گڑھ پیلس کا نام نمایاں ہے مگر اس عظیم الشان محل کے مغربی گوشے میں واقع ایک چھوٹی سی پُر وقار مسجد اپنی خاموش عظمت کے ساتھ آج بھی تاریخ کی گواہی دیتی ہے۔1882ء سے 1895ء کے درمیان تعمیر ہونے والی یہ مسجد خاص طور پر عباسی شاہی خاندان، بالخصوص نواب امیر صادق محمد خان چہارم کے لیے بنائی گئی تھی جو 1866ء سے 1899ء تک تخت نشین رہے۔صادق گڑھ پیلس کا وسیع رقبہ تقریباً ایک ہزار میٹر شمالاً جنوباً اور 330 میٹرشرقاً غرباً پھیلا ہوا ہے۔ اس وسیع و عریض احاطے کے مقابلے میں مسجد کا حصہ بڑا مختصر ہے اور یہ مرکزی عمارت کے عین مغرب میں واقع ہے۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ عباسی دور کی کئی دیگر عمارتوں مثلاً قلعہ دراوڑ کی نسبت یہ مسجد آج بھی نسبتاً بہتر حالت میں ہے۔ وقت کی گرد ضرور چڑھی ہے مگر اس کا تاریخی وقار باقی ہے۔چونکہ یہ مسجد عوامی نہیں بلکہ شاہی خاندان کی نجی عبادت گاہ تھی اس لیے اس کی ساخت بھی سادہ مگر مزین ہے۔ یہ تین دروں والی مسجد ہے جس کے اوپر پیاز نما گنبد ایستادہ ہیں۔ اس مسجد کے نقشے میں مغلیہ دور کی دو مساجد کے اثرات نمایاں نظر آتے ہیں۔ پہلی ہے پشاور کی مہابت خاں مسجد، جس کے کنگرے دار محرابی دروازے، مربع نما داخلی پورٹل اور ابھار دار گنبد اس مسجد سے مشابہت رکھتے ہیں۔ دوسری ہے لاہور کی سنہری مسجد، جس کے بلند و بالا کونے دار مینار اس طرز کی یاد دلاتے ہیں۔یوں صادق گڑھ پیلس کی یہ مسجد مغل فنِ تعمیر کی بازگشت معلوم ہوتی ہے۔مغل روایت کا تسلسل اور عباسی شناختمغل سلطنت کے زوال کے باوجود اس کی تہذیبی و انتظامی روایت برصغیر کے مسلم ریاستوں کے لیے ایک مثالی نمونہ رہی۔ ممتاز مورخ کیتھرین بی ایشر کے مطابق اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں بھی مغل بادشاہت مسلم ثقافت کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ ریاستِ بہاولپور کے عباسی حکمران چونکہ مابعد مغلیہ ریاستوں میں خوشحال اور بااثر شمار ہوتے تھے اس لیے ان کے لیے مغل طرزِ تعمیر سے وابستگی اختیار کرنا فطری امر تھا۔محلات کی تعمیر میں اگرچہ یورپی طرز اور جدید مواد کا استعمال دیکھا جاتا ہے مگر مساجد کی تعمیر میں ایک طرح کی روایت پسندی غالب رہتی ہے۔ عبادت گاہ کو عموماً کلاسیکی اسلوب ہی میں ڈھالا جاتا ہے تاکہ روحانی وقار برقرار رہے۔ صادق گڑھ کی مسجد بھی اسی روایت کی امین ہے۔ایک ایسا بصری اشارہ کہ عباسی خاندان نے مغلیہ عظمت سے اپنی نسبت جوڑی اور اپنے اقتدار کو اسی تسلسل میں دیکھا۔تاہم یہ مسجد مکمل طور پر کلاسیکی مغل انداز کی نقل نہیں۔ ممتاز ماہرِ تعمیرات ایبّا کوخ کے مطابق مغل عہد کے آخری دور میں آرائش کا انداز زیادہ شگفتہ، پھول دار اور ابھری ہوئی اشکال پر مشتمل ہو گیا تھا۔ اسی رجحان کی جھلک صادق گڑھ کی مسجد میں نمایاں ہے۔اولاً اس کی سجاوٹ زیادہ تر سٹکو (Stucco) یعنی پلستر کی تہوں پر مشتمل ہے، جو اینٹوں پر چڑھائی گئی ہیں۔ دوم، اندرونی اور بیرونی دیواروں پر رنگین فریسکو پینٹنگز موجود ہیں جن میں بیل بوٹے، خم دار شاخیں، سرو کے درخت اور نباتاتی نقوش نمایاں ہیں۔ یہ آرائش نہایت دلکش مگر کسی قدر پر تکلف معلوم ہوتی ہے۔مزید برآں، سامنے کے برآمدے کے ستون اور پلاسٹر اپنی بنیادوں پر پھیلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جس سے ان کی شکل گول اور ابھری ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ بعض ستونوں کی بنیادیں یوں تراشی گئی ہیں جیسے وہ زمین سے اگتے ہوئے پھول ہوں‘ایک شاعرانہ تاثر، جو مغل دور کے آخری مرحلے کی تزئینی نفاست کو ظاہر کرتا ہے۔وقت کی دستبرد اور مرمت کی ضرورتاگرچہ سٹکو آرائش دیدہ زیب ہوتی ہے مگر یہ پتھر کی نسبت زیادہ نازک اور جلد متاثر ہونے والی ہے۔ اسی باعث مسجد کے کارنس (Cornice) کا بڑا حصہ جو پتوں کی قطار جیسا دکھائی دیتا تھا اب تقریباً معدوم ہو چکا ہے۔ عمارت کے ماتھے کے فریسکو مدھم پڑ چکے ہیں اور داخلی دروازے کے اطراف کے پلاسٹر کے نچلے حصے جھڑ چکے ہیں۔تاہم مسجد کی مجموعی ساخت سلامت ہے اور اگر بروقت مرمت، صفائی اور تحفظ کا اہتمام کیا جائے تو اس کے تاریخی حسن کو بڑی حد تک بحال کیا جا سکتا ہے۔ یہ محض اینٹ اور پلستر کی عمارت نہیں بلکہ ایک عہد کی تہذیبی علامت ہے، جس کی بقا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔صادق گڑھ پیلس کی یہ چھوٹی سی مسجد اپنے حجم میں مختصر مگر معنی میں وسیع ہے۔ یہ عباسی ریاست کی خوشحالی، مغلیہ روایت سے وابستگی اور مذہبی سنجیدگی کی عکاس ہے۔ اس کی محرابوں میں تاریخ کی بازگشت سنائی دیتی ہے اور اس کے گنبدوں میں ماضی کی شان جھلکتی ہے۔وقت کی رفتار بے رحم سہی مگر سنجیدہ اقدامات کیے جائیں تو یہ مسجد آئندہ نسلوں کے لیے بھی اسی شان سے قائم رہ سکتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنے ورثے کی قدر پہچاننے کو تیار ہیں؟

کم کارب یا کم چکنائی؟

کم کارب یا کم چکنائی؟

دل کی صحت کا اصل راز کچھ اور نکلادل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے برسوں سے ایک بحث جاری ہے کہ کیا کم کارب غذا بہتر ہے یا کم چکنائی والی خوراک؟ کبھی ماہرین کاربوہائیڈریٹس کو قصوروار ٹھہراتے ہیں تو کبھی چکنائی کو مگر حالیہ سائنسی تحقیق نے اس بحث کا رخ بدل دیا ہے۔ یہ تحقیق ہاورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کی زیر نگرانی کی گئی جس میں تقریباً دو لاکھ مرد و خواتین کو لگ بھگ تیس برس تک فالو کیا گیا۔ تحقیق کا دائرہ کار وسیع تھا اور52 لاکھ ''person-years‘‘ سے زائد ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ نتائج حیران کن تھے مگر سادہ بھی۔ اگر کم کارب یا کم چکنائی والی غذا صحت بخش اجزا پر مشتمل ہو تو وہ دل کے لیے فائدہ مند ہے لیکن اگر وہی غذا پراسیسڈ اور غیر معیاری اشیا پر مبنی ہو تو اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا۔گویا اصل سوال یہ نہیں کہ آپ کتنے کارب لیتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ کارب کہاں سے آرہے ہیں۔ اسی طرح چکنائی کی مقدار سے زیادہ اہم اس کی نوعیت ہے۔تحقیق کے مطابق جن افراد نے سبزیاں، پھل، دالیں، ثابت اناج، گری دار میوے اور صحت بخش چکنائی استعمال کیں ان میں دل کی بیماریوں کا خطرہ نمایاں حد تک کم دیکھا گیا۔ ان افراد میں:اچھے کولیسٹرول (HDL) کی سطح بہتر رہی،جسم میں سوزش کے اشاریے کم رہے،کورونری ہارٹ ڈیزیز کا خطرہ کم ہوا۔اس کے برعکس وہ افراد جو بظاہر کم کارب یا کم چکنائی والی غذا لے رہے تھے مگر ان کی خوراک میں ریفائنڈ آٹا، میٹھے مشروبات، فاسٹ فوڈ اور ٹرانس فیٹس شامل تھیں انہیں دل کی صحت کے حوالے سے کوئی واضح فائدہ حاصل نہ ہوا۔یہ نتائج اس روایتی سوچ کو چیلنج کرتے ہیں کہ صرف کارب یا چکنائی کم کر دینا ہی کافی ہے۔کم کارب بمقابلہ کم چکنائیگزشتہ دہائیوں میں کم کارب ڈائیٹ اور کم چکنائی والی غذا کے حامیوں کے درمیان خاصی گرما گرمی رہی ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ کاربوہائیڈریٹس موٹاپے اور ذیابیطس کی جڑ ہیں جبکہ دوسرا گروہ چکنائی کو دل کا دشمن قرار دیتا ہے۔مگر اس تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ اگر کم کارب غذا میں سبزیاں، دالیں اور صحت بخش پروٹین شامل ہوں تو وہ مفید ہے اور اگر کم چکنائی والی غذا میں مکمل اناج اور قدرتی اجزا ہوں تو وہ بھی دل کے لیے بہتر ثابت ہوتی ہے۔ یعنی اصل مقابلہ کم کارب بمقابلہ کم چکنائی کا نہیں بلکہ معیاری خوراک بمقابلہ غیر معیاری خوراک کا ہے۔دل کی صحت کیلئے کوئی جادوئی فارمولا موجود نہیں۔ نہ مکمل کارب ترک کرنا ضروری ہے نہ ہر قسم کی چکنائی سے خوف زدہ ہونا۔ اصل حکمت یہ ہے کہ خوراک قدرتی، متوازن اور کم سے کم پراسیسڈ ہو۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ صحت مند دل کا راستہ کچن سے ہو کر گزرتا ہے‘مگر اس شرط کے ساتھ کہ وہاں تازہ، سادہ اور معیاری اجزا استعمال ہوں۔

رمضان کے مشروب وپکوان:دال قیمے کے سموسے

رمضان کے مشروب وپکوان:دال قیمے کے سموسے

اجزاء:بھنا ہوا قیمہ ایک پیالی، مونگ کی دھلی دال آدھا پیالی، پیاز دو عدد درمیانی، سویا تین سے چار ڈنٹھل، ہری مرچیں تین سے چار عدد، سموسے کی پٹیاں حسب ضرورت، کوکنگ آئل حسب ضرورت۔ترکیب:دال کو دھو کر بیس سے پچیس منٹ کیلئے بھگو کر رکھ دیں۔ پھر اسے پانی سے نکال کر قیمے میں ڈالیں اور اچھی طرح بھون لیں۔ جب یہ مکسچر ٹھنڈا ہو جائے تو اس میں باریک کٹی ہوئی پیاز، نمک، باریک کٹی ہوئی ہری مرچیں اور سویا ڈال کر ملا لیں۔ سموسے کی پٹیوں سے تکونے سموسے بنا کر اس میں یہ مکسچر بھر دیں۔ آٹے کی لئی سے چپکا کر کوکنگ آئل میں سنہری فرائی کر لیں۔ ٹماٹر اور سیب کا جوس: وٹامنز اور آئرن کا مجموعہٹماٹر اور سیب کا جوس وٹامنز، آئرن اور فائبر سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس جوس کو تیار کرنے کے لیے چھلے ہوئے سیب اور ٹماٹر کو پانی، لیموں کے قطرے اور شہد کے ساتھ بلینڈ کریں۔ یہ مشروب نہ صرف لذیذ ہوتا ہے بلکہ یہ جسم کو ضروری غذائیت بھی فراہم کرتا ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!قوی خان ورسٹائل اداکار(2023-1942)

آج تم یاد بے حساب آئے!قوی خان ورسٹائل اداکار(2023-1942)

٭...محمد قوی خان 13 نومبر 1942ء کوشاہجہاں پور (ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔٭... قیام پاکستان کے بعد ان کے والدین نے پشاور کو اپنا مسکن بنایا اور وہیں قوی خان نے گورنمنٹ ہائی سکول سے اور پھر ایڈورڈ کالج سے تعلیم حاصل کی۔ ٭...سکول اور کالج کے ڈراموں میں حصہ لیتے تھے جس کی وجہ سے ریڈیو سے رغبت ہوئی اور تھیٹر کی طرف مائل ہوئے۔٭... 1952میں فنی زندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان پشاور سے بطور چائلڈ سٹارپروگرام ''ننھے میاں‘‘ سے کیا۔کئی سال تک اس پروگرام کے ساتھ وابستہ رہے۔٭... لاہور میں پاکستان ٹیلی ویژن کا آغاز ہوا تو انہیں اس کے پہلے ڈرامے ''نذرانہ‘‘ میں کام کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ براہ راست نشر ہونے والے اس ڈرامہ میں ان کے مقابل کنول نصیر نے مرکزی کردار نبھایا تھا۔٭...1964ء میں فلمی دنیا میں قدم رکھا اور فلم ''رواج‘‘ سے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ 35سال تک فلموں میں کام کیا ان کے کریڈٹ پر 250فلمیں ہیں۔٭...زیادہ تر معاون کرداروں میں نظر آئے ، مثبت اور منفی کرداروں میں جلوہ گر ہوئے ، اولڈ ، ولن اور کامیڈین کے طور پر بھی کردار نبھائے لیکن کبھی سولو ہیرو نہیں آئے۔٭... تادمِ مرگ ٹیلی وژن سے وابستہ رہے، یہ عرصہ لگ بھگ سات دہائیوں پر مشتمل ہے۔٭... سب سے زیادہ شہرت 1980ء کی دہائی میں نشر ہونے والے ڈرامے ''اندھیرا اجالا‘‘ سے ملی۔٭...1985ء کے غیرجماعتی انتخابات میں حصہ لیا ، کامیاب نہ ہوسکے۔٭... 1990ء کی دہائی میں ایک ڈرامے کیلئے مرزا غالب کا کردار بھی نبھایا اوراسے امرکردیا۔٭... بطور پروڈیوسر 13فلمیں بنائیں،کچھ فلمیں ڈائریکٹ بھی کیں جن میں پاسبان، اور روشنی وغیرہ شامل ہیں۔٭...1980 ء میں حکومت پاکستان کی طرف سے انہیں ''صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی‘‘ جبکہ 2012ء میں ''ستارہ امتیاز‘‘ سے نوازا گیا۔٭...5 مارچ 2023ء کو کینیڈا میں 80 سال کی عمر میں سرطان سے انتقال ہوا۔ میڈوویل قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔قوی خان کی مقبول فلمیں: محبت زندگی ہے ، ٹائیگر گینگ ، سوسائٹی گرل، سرفروش ، کالے چور، آج اور کل ، صائمہ، بیگم جان ، ناگ منی، رانگ نمبر ، انٹرنیشنل لٹیرے، سر کٹا انسان ، پری، قائداعظم زندہ باد ، چراغ کہاں روشنی کہاں ، پازیب، مسٹربدھو‘، بے ایمان ، منجی کتھے ڈاہواں ، نیلام، روشنی ، پہچان ، وطن ،جوانی دیوانی ، چوری چوری، محبت مر نہیں سکتی ۔مقبول ڈرامے: لاکھوں میں تین، دہلیز، الف نون، دورِ جنوں، اندھیرا اُجالا، انگار وادی، اُڑان، آشیانہ، سسر اِن لا، لاہوری گیٹ، مٹھی بھر مٹی، منچلے، مشعل، بیٹیاں، داستان، میرے قاتل میرے دلدار، پھر چاند پہ دستک، زندگی دھوپ تم گھنا سایہ، جو چلے تو جان سے گزر گئے، دُرِ شہوار، کلموہی، دو قدم دور تھے، حیا کے دامن میں، یہ عشق، سہیلیاں، نظرِ بد، الف اللہ اور انسان، خانی، آنگن، پرچھائیں، میراث۔

آج کا دن

آج کا دن

جوزف سٹالن کی وفات5 مارچ 1953ء کو سوویت یونین کے رہنما جوزف سٹالن کا انتقال ہوا۔ وہ 1920ء کی دہائی کے وسط سے سوویت سیاست کے مرکز میں رہے اور 1924ء میں لینن کی وفات کے بعد اقتدار پر مکمل گرفت حاصل کر لی۔ سٹالن کے دورِ حکومت کو صنعتی ترقی، سخت مرکزی کنٹرول اور سیاسی جبر کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ان کے دور میں سوویت یونین نے تیزی سے صنعتی ترقی کی، زراعت کو اجتماعی نظام کے تحت منظم کیا گیا اور ملک کو ایک بڑی فوجی طاقت میں تبدیل کیا گیا۔ دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی کے خلاف سوویت فتح میں بھی ان کا کردار اہم تھا۔ چرچل کی فولٹن تقریر 5 مارچ 1946ء کو برطانوی رہنما ونسٹن چرچل نے امریکہ کی ریاست میسوری کے شہر فولٹن میں ویسٹ منسٹر کالج میں ایک تاریخی تقریر کی جسے آئرن کرٹن (IronCurtain) تقریر کہا جاتا ہے۔ اس خطاب میں انہوں نے کہا کہ یورپ پرآہنی پردہ گر چکا ہے جو مشرقی یورپ کو سوویت اثر و رسوخ میں لے جا رہا ہے۔چرچل کی اس تقریر کو سرد جنگ کے آغاز کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے امریکہ اور برطانیہ کے درمیان قریبی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا تاکہ سوویت یونین کے پھیلتے ہوئے اثر کو روکا جا سکے۔ اس تقریر نے عالمی سیاست میں دو بلاکوں ،مغربی سرمایہ دارانہ اور مشرقی سوشلسٹ کی واضح تقسیم کو نمایاں کیا۔بوسٹن قتل عام5 مارچ 1967ء کو این بی اے کی تاریخ کے ایک بدنام زمانہ واقعے کو ''بوسٹن میساکر‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ باسکٹ بال ٹیموں کے درمیان کھیلے جانے والے میچ کے دوران پیش آیا۔میچ کے دوران کھلاڑیوں میں سخت جھگڑا شروع ہوا جو ہاتھا پائی تک جا پہنچا۔ اس واقعے نے این بی اے انتظامیہ کو سخت قوانین نافذ کرنے پر مجبور کیا تاکہ کھیل کے دوران تشدد پر قابو پایا جا سکے۔یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ کھیلوں میں مسابقت بعض اوقات جذباتی شدت اختیار کر لیتی ہے۔ ٹائیپولو کی وفات5 مارچ 1770ء کو اٹلی کے مشہور مصور جیوانی باتیستا ٹائیپولو کا انتقال ہوا۔ وہ اٹھارویں صدی کے نمایاں طرز کے فنکار تھے۔ ان کی پینٹنگز اپنی روشنی، رنگوں کی چمک اور ڈرامائی انداز کے لیے مشہور ہیں۔ٹائیپولو نے اٹلی، جرمنی اور سپین میں اہم شاہی عمارتوں اور گرجا گھروں کی تزئین کی۔ ان کے فن پارے مذہبی اور اساطیری موضوعات پر مبنی ہوتے تھے اور ان میں آسمانی مناظر اور وسیع فریسکو پینٹنگز نمایاں تھیں۔ان کی وفات کے بعد بھی یورپی فنِ مصوری پر ان کا اثر برقرار رہا۔ 1956اولمپکس5 مارچ 1956ء کو اٹلی کے شہر کورٹینا ڈی امپیزو میں منعقد ہونے والے سرمائی اولمپکس کی اختتامی تقریب منعقد ہوئی۔ یہ سرمائی اولمپکس یورپ میں جنگِ عظیم دوم کے بعد ہونے والے کھیلوں کے اہم مقابلوں میں سے ایک تھے۔ان میں دنیا بھر سے کھلاڑیوں نے حصہ لیا اور یہ کھیل سرد جنگ کے ماحول میں بھی بین الاقوامی ہم آہنگی کی علامت بنے۔ اس اولمپکس میں پہلی بار ٹیلی ویژن نشریات کے ذریعے کھیلوں کو وسیع پیمانے پر دکھایا گیا جس سے عالمی کھیلوں کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ سرمائی اولمپکس نے اٹلی کو ایک عالمی کھیلوں کے میزبان کے طور پر متعارف کرایا اور بعد ازاں بڑے عالمی ایونٹس کے انعقاد کی راہ ہموار کی۔

لودھی مسجد

لودھی مسجد

انتدائی اسلامی فن تعمیر کی نادریادگارضلع گوجر انوالہ کے تاریخی قصبے ایمن آباد میں واقع لودھی دور کی قدیم مسجد برصغیر میں اسلامی فنِ تعمیر کی ابتدائی روایت کی ایک نہایت اہم مثال ہے۔ یہ مسجد اپنی سادگی، قدامت اور منفرد تعمیراتی ساخت کے باعث تاریخی اور ثقافتی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ ماہرینِ فنِ تعمیر کے مطابق اس مسجد کی تعمیر پندرہویں صدی کے آخر یا سولہویں صدی کے اوائل میں لودھی دور (1451ء تا 1525ء) کے دوران ہوئی، جس سے یہ پاکستان میں قائم قدیم ترین مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ یہ ایک منزلہ مسجد ایمن آباد کے مشرقی حصے میں ایک چھوٹے حوض کے کنارے پر واقع ہے، جسے عہدِ جہانگیر سے منسوب کیا جاتا ہے۔ مسجد اور حوض کی باہمی قربت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ مقام نہ صرف عبادت بلکہ سماجی و مذہبی سرگرمیوں کا بھی مرکز رہا ہوگا۔ قدیم اسلامی روایت کے مطابق عبادت گاہوں کو پانی کے ذخائر کے قریب تعمیر کرنا وضو اور طہارت کی سہولت کے لیے عام تھا۔ایمن آباد خود ایک قدیم تاریخی بستی ہے جہاں مختلف ادوار کی تہذیبی یادگاریں موجود رہی ہیں۔ اسی تسلسل میں لودھی دور کی یہ مسجد اس علاقے کی اسلامی تاریخ اور مذہبی روایت کا ایک اہم مظہر ہے۔لودھی دور سے نسبت معروف ماہرِ تعمیرات اور مؤرخ کامل خاں ممتاز کے مطابق اس مسجد کی تعمیرلودھی دور میں ہوئی۔ ان کی رائے میں مسجد کی اینٹوں کی ساخت، سادہ ڈیزائن اسے مغل دور سے پہلے کے فنِ تعمیر سے واضح طور پر جوڑتے ہیں۔ اسی بنیاد پر یہ مسجد پاکستان میں موجود قدیم ترین قائم مساجد میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔لودھی عہد کی تعمیرات عموماً سادگی، مضبوطی اور عملی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر کی جاتی تھیں جس کی جھلک اس مسجد کے مجموعی ڈھانچے میں نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔یہ مسجد ایک مختصر اور سادہ یک منزلہ عمارت ہے جو پکی اینٹوں سے تعمیر کی گئی ہے۔ اس میں بھاری آرائش یا نقش و نگار کی بجائے مضبوط ساخت اور عبادتی افادیت کو ترجیح دی گئی ہے، جو لودھی دور کے فنِ تعمیر کی نمایاں خصوصیت ہے۔مسجد کی دیواریں پکی اینٹوں سے تیار کی گئی ہیں جن کی ترتیب اور چنائی نہایت متوازن ہے۔ اینٹوں کا یہ استعمال نہ صرف عمارت کو استحکام فراہم کرتا ہے بلکہ اس دور کی تعمیراتی مہارت کی بھی عکاسی کرتا ہے۔گنبد اور اندرونی ساخت مسجد کا مرکزی حصہ مربع شکل میں ہے جبکہ اس کے اوپر گول گنبد تعمیر کیا گیا ہے۔ مربع کمرے اور گول گنبد کے درمیان ربط قائم کرنے کے لیے جو تعمیراتی طریقہ اختیار کیا گیا وہ اس مسجد کی سب سے منفرد تعمیراتی خصوصیت ہے۔اس مقصد کے لیے کونی محرابیں اور معلق محرابی سہارادونوں کا بیک وقت استعمال کیا گیا ہے۔کونی محرابیں (Squinches) مربع کمرے کے کونوں کو سہارا دے کر گنبد کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہیں جبکہ معلق محرابی سہارا (Pendentives) گنبد کے دائرہ نما ڈھانچے کو مربع بنیاد سے جوڑنے کا کام دیتے ہیں۔یہ تعمیراتی تکنیک اس بات کا ثبوت ہے کہ اُس دور کے معمار نہایت انجینئرنگ کی اعلیٰ مہارت رکھتے تھے اور پیچیدہ ساختی مسائل کو نہایت سادہ انداز میں حل کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ دونوں طریقوں کا بیک وقت استعمال برصغیر کی ابتدائی اسلامی تعمیرات میں ایک نادر مثال سمجھا جاتا ہے۔مسجد کے ساتھ واقع تالاب جسے عہدِ جہانگیر سے منسوب کیا جاتا ہے اس مقام کی تاریخی اہمیت کو مزید واضح کرتا ہے۔ حوض کی موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ علاقہ طویل عرصے تک آباد اور فعال رہا۔ ممکن ہے کہ بعد کے ادوار میں اس حوض نے مسجد کی مذہبی اہمیت میں مزید اضافہ کیا ہو۔یہ مسجد ایک تاریخی یادگار عمارت کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کی تعمیراتی خصوصیات ہمیں قبل از مغل اسلامی فنِ تعمیر کے ارتقائی مراحل کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ایسی قدیم مساجد کے تحفظ اور سائنسی بحالی کی اشد ضرورت ہے تاکہ یہ قومی ثقافتی ورثہ آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رہ سکے۔ باقاعدہ دستاویز سازی ، آثارِ قدیمہ کی تحقیق اور ماہرینِ تعمیرات کی نگرانی میں مرمتی کام اس کی بقا کے لیے ناگزیر ہیں۔اگر اس تاریخی مقام کو مناسب معلوماتی بورڈز، رہنمائی اور سیاحتی منصوبہ بندی کے ساتھ ترقی دی جائے تو یہ نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی سیاحت کے لیے بھی اہم مقام بن سکتا ہے۔ فنِ تعمیر، تاریخ اور آثارِ قدیمہ سے دلچسپی رکھنے والے محققین کے لیے یہ مسجد ایک قیمتی تحقیقی مطالعہ ثابت ہو سکتی ہے۔یہ مسجد نہ صرف لودھی دور کے فنِ تعمیر کی ایک نادر مثال ہے بلکہ پاکستان کے قدیم اسلامی ثقافتی ورثے کا ایک اہم حصہ بھی ہے۔ اس تاریخی یادگار کے مؤثر تحفظ، بحالی اور علمی مطالعے کے ذریعے ہم اپنی تہذیبی شناخت کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں اور آنے والی نسلوں کو اپنے شاندار ماضی سے جوڑے رکھ سکتے ہیں۔