ازدواجی زندگی کو خوشگوار کیسے بنایا جائے ؟

ازدواجی زندگی کو خوشگوار کیسے بنایا جائے ؟

اسپیشل فیچر

تحریر : غلام حقانی


مرد وعورت اپنا کردار خوش اسلوبی سے نبھائیں تو ازدواجی زندگی باغ وبہار بن جاتی ہےتفریح طبع سے خاندان میں خوشگواری پیدا ہوتی ہے وقتاً فوقتاً مرد کو اس بات کا بھی خیال رکھنا اور اپنی استطاعت کے مطابق اہتمام کرنا چاہیےاپنی بیویوں کی ذات سے سکون میسر آنے کے باوجود جو مرد ان کے ساتھ محبت بھرا، پیار بھرا اور ہمدردانہ برتاؤ نہیں کرتے، کیا وہ اپنے مقصد حیات کو تار تار کرکے نہیں رکھ دیتے؟اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی منشاء سے واقف کروانے اور اپنی منشاء کے مطابق انسان سے عمل کروانے کیلئے ابتدائے آفرینش ہی سے ’’ہدایت‘‘ کا اہتمام فرمایا ہے اور اس مقصد کیلئے ہر زمانے اور ہر قوم میں انبیاء ورسل بھی بھیجے اور ان پر اپنے احکام پر مبنی صحیفے اور کتب بھی نازل فرمائیں۔ ہمارا زمانہ آخری زمانہ ہے۔ اسی لیے ہمارے لیے آخری نبی اور رسول خاتم النبیین اور خاتم المرسلین سیدنا محمد مصطفیﷺ کو مبعوث فرمایا اور ان پر خاتم الکتب قرآن مجید کو نازل فرمایا۔ اگر اس دور کے انسان کو اپنی تخلیق کا مقصد جاننا ہو، اس ارادے کے ساتھ کہ وہ اپنی تخلیق کے مقصد یا اپنے مقصدِ حیات کو ہر حال میں پورا کرے گا تو قرآن مجید اس کے لیے بہترین رہبر، بہترین ہدایت نامہ اور اس کے سفر زندگی کو پوری طرح روشن اور واضح کرنے والی کتاب ثابت ہوگی۔قرآن مجید ایک ایسی شاندار کتاب ہے جس میں دنیاوآخرت کے ہر پہلو کو پوری طرح سے اجاگر اور واضح کردیاگیا ہے۔ ضرورت غوروفکر اور تدبر کی ہے۔ قرآن مجید کے مضامین میں غوروفکر اور تدبر کرنے سے انسان کو اپنے مقصد حیات کے بارے میں سب کچھ معلوم ہوجائے گا۔ مثال کے طور پر شوہر اور بیوی کے تعلقات پر مبنی حسب ذیل آیات: سورۃ النساء کی آیت نمبر 34 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’مرد عورتوں پر قوام ہیں اس بنا پر کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں‘‘۔اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات بنائی اور سجائی انسان کیلئے اور خود انسان کو بنایا اپنے لیے، لیکن انسان کی پیدائش اور دنیا بسانے کا ذریعہ خود انسان ہی کو بنایا جیسا کہ سورۃ النساء کی پہلی ہی آیت میں واضح فرما دیاگیا ہے: ’’لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اْسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد وعورت دنیا میں پھیلا دیے‘‘۔یوں دنیا میں ہر رشتے سے پہلے شوہر اور بیوی کا رشتہ وجود میں آیا۔ اسی لیے یہ رشتہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ شوہر اور بیوی دراصل ایک دوسرے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ احسن الخالقین نے ازدواجی زندگی کا ایک بے حد خوبصورت اور مضبوط ڈھانچا بنایا ہوا ہے جس کے مطابق ازدواجی زندگی میں مرد وعورت دونوں کا اپنا مقام ہے۔ دونوں کی اپنی اپنی ذمے داری اوردونوں کا اپنا اپنا کردار ہے۔ جب مرد وعورت اپنی اپنی ذمے داری اپنا اپنا کردار خوش اسلوبی کے ساتھ نبھاتے ہیں تو ازدواجی زندگی نہایت خوشگوار بلکہ باغ وبہار بن جاتی ہے۔ کیوں کہ دونوں ہی اپنے اپنے مقصد حیات کو پورا کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن اگر دونوں یا دونوں میں سے کوئی اپنی ذمے داری نہ نبھائے تو وہ اپنے مقصد حیات کی خلاف ورزی کر رہا ہوتا ہے، جس کا لازمی نتیجہ دو طرح کی تباہی ہے۔ دنیوی بھی اور اخروی بھی۔ اسی لیے یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شوہر اور بیوی کے لیے کس کس طرح کا کردار پسند فرمایا ہے اور دونوں کو کیا کیا ذمے داریاں سونپی ہیں۔سورۃ النساء کی آیت نمبر34 میں اللہ تعالیٰ نے شوہروں کے کردار اور ذمے داریوں کو صرف ایک لفظ ’’قوام‘‘ میں سمو دیا ہے۔ شوہر ’’قوام‘‘ ہونے کے ناتے اپنے خاندان کے معاملات کو، جس کا اہم ترین حصہ بیوی ہوتی ہے، درست حالت میں چلانے، خاندان کی حفاظت ونگہبانی کرنے اور خاندان کی ساری ضرورتیں پوری کرنے کا ذمے دار ہوتا ہے۔ مرد کا عورتوں پر قوام ہونا ایک فطری عمل ہے۔ اسی لیے دنیا کے صرف مہذب طبقوں ہی میں نہیں بلکہ جاہل اور جنگلی طبقوں میں بھی مرد ہی کو ہمیشہ قوام کا درجہ ملا ہے۔ نئی تہذیب کے بگڑے ہوئے لوگ اور بعض غیر اہم قبائل اس سے مستثنیٰ ہوسکتے ہیں۔نبوت کا تیرہواں سال تھا۔ ہمارے آقا محمد مصطفی ﷺ ابھی مکہ مکرمہ ہی میں تھے۔ حج کے موقع پر سترہ سے زیادہ افراد کا وفد مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ آیا اور انھوں نے اصرار کیا کہ آپ ﷺمدینہ ہجرت فرمائیں۔ اس ضمن میں اس وفد سے چند اہم امور پر بیعت لی گئی۔ اس بیعت کی آخری دفعہ کے تعلق سے سرورِ عالمﷺنے فرمایا: ’’میں تم سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم اس چیز سے میری حفاظت کروگے جس سے اپنے بال بچوں کی حفاظت کرتے ہو‘‘۔ اس پر حضرت براءؓ بن معرور نے آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑا اور کہا: ’’ہاں، اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو نبی برحق بناکر بھیجا ہے ہم یقینا اس چیز سے آپ ﷺ کی حفاظت کریں گے جس سے اپنے بال بچوں کی حفاظت کرتے ہیں‘‘۔یہاں تو جہ طلب بات یہ ہے کہ مدینہ منورہ کے باشندوں کو جو نئے نئے اسلام کی آغوش میں چلے آئے تھے، یہ بات پہلے ہی سے معلوم تھی کہ مرد اپنی بیوی بچوں کی جان، مال اور ناموس کی حفاظت کے ذمے دار ہوتے ہیں، کسی مذہبی قانون کی بنا پر نہیں بلکہ بالکل فطری طور پر۔ اس ذمے داری کے علاوہ مرد پر، ’’قوام‘‘ ہونے کی حیثیت سے اور بھی ذمے داریاں عائد ہوتی ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں:(1)گرمی، سردی، بارش اور موسمی اثرات، چوروں، غنڈوں سے حفاظت کیلئے اور اپنے آپ کو محفوظ تصور کرتے ہوئے سکون واطمینان حاصل کرنے کیلئے اپنی استطاعت کے مطابق وہ ایک مکان فراہم کرے۔(2)اپنی استطاعت کے مطابق کھانے پینے کا بندوبست کرے۔ اکثر یہ ذمے داری دو حصوں میں بانٹی جاتی ہے، کھانے پینے کا سامان فراہم کرنے کی ذمے داری مرد پر اور پکوان کی ذمے داری عورت پر۔(3)اپنی استطاعت کے مطابق بیوی بچوں کے لئے لباس کا بندو بست کرے۔ لباس کا بندوبست کرتے ہوئے نہ مرد بخل سے کام لے اور نہ عورت مرد کی استطاعت سے بڑھ کر فرمائش کرے۔(4)بیماریوں سے بچنے کیلئے جو بھی احتیاطی تدابیر ممکن ہوں، اختیار کرے۔ بیوی بچوں میں سے کوئی بھی بیمار پڑجائے تو علاج معالجے میں کسی طرح کی بے پروائی نہ برتے۔(5) مرد وعورت سماج کا حصہ ہوتے ہیں۔ اسی لیے وہ اپنی بیوی بچوں کو، حسب استطاعت، اس حال میں رکھے کہ انھیں سماج میں شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔(6) تفریح طبع سے خاندان میں خوشگواری پیدا ہوتی ہے۔ وقتاً فوقتاً مرد کو اس بات کا بھی خیال رکھنا اور اپنی استطاعت کے مطابق اہتمام کرنا چاہیے۔(7)بچوں کی تعلیم وتربیت مرد وعورت دونوں کی ذمے داری ہے لیکن تعلیم کے سارے اخراجات کی ذمے داری مرد پر ہوگی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہر وہ ذمے داری جس میں مال خرچ کیا جاتا ہے یہ فرماکر مرد کو سونپ دی کہ ’’اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں‘‘۔ اگر کوئی مرد استطاعت کے باوجود جان بوجھ کر اپنے اس منصب ’’قوام‘‘ کو نہ نبھائے تو وہ اسلامی آئین، اسلامی قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب اوراللہ تعالیٰ کی ناراضی کا مستحق ہوجاتا ہے اور اخلاقی اعتبار سے انسانیت سے خارج بھی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے مرد کو خاندان میں ’’قوام‘‘ کا منصب عطا فرمایا اور خاندان کی دیکھ بھال کی ساری ذمے داری اْس کو سونپ دی۔ اسی لیے خاندانی امور کو خوش اسلوبی کے ساتھ چلانے کے لیے مرد کا حکم مانا جائے گا۔ اپنا فرض یا ڈیوٹی نبھانے کے لیے، محکومیت کے طور پر نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کے فرائض کی ادائی کے تعلق سے بھی سورۃ النساء کی اس آیت میں اپنی منشاء اور مرضی کو یوں ظاہر فرمایا ہے:’’پس صالح عورتیں فرماں بردار ہوتی ہیں اور مردوں کے غیاب میں، اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور نگرانی میں اْن کے (شوہروں کے) حقوق کی حفاظت کرتی ہیں‘‘۔یہاں قرآن حکیم کایہ اعجاز توجہ طلب ہے کہ عورتوں کو براہ راست یہ حکم نہیں دیاگیا کہ شوہروں کی فرماں برداری کریں، شوہروں کی اطاعت شعار بن کر رہیں بلکہ یہی بات عورتوں تک پہنچانے کیلئے ایک انتہائی موثرکن اسلوب اختیار کیاگیا، وہ یہ کہ اگر عورتیں صالحات ہوں گی تو یقینا اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، ربوبیت ،الوہیت اور اللہ تعالیٰ کی ہمہ گیر حاکمیت ان کے دلوں میں جاگزیں ہوگی۔ اللہ کے رسولوں ، اللہ کی کتابوں، اللہ کے فرشتوں، یوم آخرت، دوزخ اور جنت کے تعلق سے ان کاایمان مستحکم ہوگا اوراسی بنا پر وہ اپنی زندگی کے ہر ہر شعبے میں اللہ تعالیٰ کے احکام کو بجا لانے میں کسی بھی قسم کی بے پروائی او رغفلت کو بالکل بھی جگہ نہیں دیں گی۔ بلکہ ہر دم اور ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کی منشاء اور مرضی ہی کو مقدم رکھتی ہوں گی تو ایسی عورتوں کیلئے یہ سمجھ لینا بالکل بھی دشوار نہیں ہوگا کہ شوہر کی فرماں برداری ، شوہر کی اطاعت شعاری بھی اللہ تعالیٰ کی منشاء و مرضی ہی میں شامل ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کی اطاعت گزاری سے ایمان کی لذت ، سکون واطمینان کی دولت اور دنیا وآخرت کی کامیابی نصیب ہوتی ہے، اُسی طرح اللہ تعالیٰ کی منشاء اور مرضی کو پورا کرنے کیلئے شرعی حدود کے اندر، اندر شوہر کی اطاعت و فرماں برداری سے بھی ایمان کی لذت، سکون و اطمینان کی دولت اور دنیا وآخرت کی کامیابی نصیب ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ فرماں بردار ی کسی کو حاکم اور کسی کو محکوم کا درجہ دینے کیلئے نہیں بلکہ خاندانی امور کو خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دینے کیلئے ہے اور ایک صحت مند خاندان ، صحت مند سماج کا ضامن ہوتا ہے۔یہ قرآن حکیم کا اعجاز ہے کہ سورۃ النساء کی آیت نمبر34کے صرف چند الفاظ کے ذریعے شوہر اور بیوی کے رشتے کے تعلق سے سارے رہنما نہ خطوط ، شوہر اور بیوی کے رشتے کے سارے مقتضیات اولوالالباب یا عقل مندوں کیلئے روز روشن کی طرح واضح کردیے گئے، جن پر عمل پیرا ہونا انتہائی خوش نصیبی اور دنیوی زندگی کو جنت نشان بنانے کیلئے کافی ہے اور آخرت میں جنت کے حصول کا ذریعہ بھی۔ اور اگر شوہر یا بیوی یا دونوں ہی اس آیت مبارکہ میں دیے ہوئے رہنمایانہ خطوط کو یکسر نظرانداز کردیتے ہیں، شوہر اور بیوی کے رشتے کے مقتضیات پر بالکل بھی عمل پیرا نہیں ہوتے تو وہ حقیقت میں اللہ عزوجل کی ’’عبادت‘‘ سے منھ موڑ رہے ہوتے ہیں، بلکہ انجانے میں شیطان کی ’’عبادت‘‘ کر رہے ہوتے ہیں۔ اس طرح اپنے مقصدِ حیات کو اپنے ہی ہاتھوں پامال کرتے ہوئے اپنے آپ کو انسانیت کے دائرے اور اولوالالباب یا عقلمندوں کی فہرست سے خارج کر رہے ہوتے ہیں۔(2)خالق کائنات نے شوہر اور بیوی کے رشتے کی جاذبیت اور ایک دوسرے کی جانب فطری میلان، فطری جھکاؤ اور ایک دوسرے کے لیے فطری ہمدردی کے راز پر سے سورۃ الروم کی آیت نمبر21 میں اس طرح پردہ اٹھایا ہے اور اس کو اپنی نشانی کا درجہ عطا فرمایا ہے:’’اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمھارے لیے تمھاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمھارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کردی‘‘۔ انسان کی تخلیق کے موقع پر ہی اللہ تعالیٰ نے یہ بات عورت کی فطرت میں رکھ دی کہ اس کی ذات سے مرد یعنی شوہر کو سکون و اطمینان حاصل ہو اور اسی طرح تخلیق ہی کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے مرد وعورت دونوں ہی کے درمیان محبت بھی رکھ دی ، رحمت وہمدردی اورلگائو کے جذبات بھی رکھ دیے۔ حتیٰ کہ کوئی بھی کسی دوسرے کی ذرا سی پریشانی سے خود بھی بے چین اور پریشان ہوجائے۔ اور یہ انسان کے لیے اتنی بڑی نعمتیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی نشانیوں میں شمار فرمایا۔ اگر مرد وعورت ازدواجی زندگی کے ان فطری قواعد کے مطابق اپنی زندگی گزارتے ہیں تو وہ اپنے مقصدِ حیات کی تکمیل کر رہے ہوتے ہیں جس کے باعث ان کی زندگی باغ وبہار بنی رہتی ہے۔ لیکن اس کے برخلاف اگر عورت مرد کے ساتھ کچھ ایسا برتائو اپناتی ہے کہ مرد کو عورت کی ذات سے سکون و اطمینان حاصل ہونے کی بجائے کوفت، جھنجھلاہٹ، تلخی اور کڑواہٹ سے دوچار ہونا پڑتا ہے تو یہ اسی بات کی واضح علامت ہے کہ عورت اپنی فطرت سے روگردانی کر رہی ہے اور اپنے مقصدِ حیات کو اپنے ہی ہاتھوں پامال و تباہ کر رہی ہے۔ اسی طرح مرد و عورت دونوں ہی کے درمیان محبت، رحمت اور ہمدردی کے جذبات نہیں پائے جاتے یا بہت ہی کم پائے جاتے ہیں یا کسی میں پائے جاتے ہیں کسی میں نہیں تو یہ بھی فطرت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے :’’ہم نے نے انسان کو بہت خوبصورت سانچے میں ڈھالا ہے یا ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا ہے‘‘۔ (سورہ التین:4)یعنی صورت بھی بہترین عطا کی اور سیرت بھی بہترین۔ لیکن مرد وعورت یا دونوں میں سے کوئی ایک اپنی من مانی کرکے، ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے احکامات، اللہ تعالیٰ کی تعلیمات سے روگردانی کرتے ہوئے اپنے آپ کو ’’اسفل سافلین‘‘ یعنی پستی کی انتہا میں پہنچادیتے ہیں اور اپنی زندگی کو دنیا ہی میں جہنم بنادیتے ہیں۔’’وہ خواتین جو اپنے شوہروں کے سکون کا باعث بننے کی بجائے ان کا سکون غارت کرکے رکھ دیتی ہیں اور اسی وجہ سے ان کی باہمی محبت اور رحمت بھی داؤ پر لگ جاتی ہے یا وہ مرد جن کو اپنی بیویوں کی ذات میں سکون میسر آنے کے باوجود بیویوں کے ساتھ محبت بھرا، پیار بھرا اور ہمدردانہ برتاؤ نہیں کرتے، کیا وہ اپنے مقصد حیات کو تار تار کرکے نہیں رکھ دیتے؟ پھر وہ عقلمندوں یا اولوالالباب کے زمرے میں یا انسانیت کی فہرست میں کس طرح شامل رہ سکتے ہیں؟ آئے دن جہیز کیسز میں اضافہ کیا ازدواجی زندگی کو منھ نہیں چڑا رہا ہوتا؟ اسلام نے تو مرد و عورت کو وہ سب کچھ دیا جس سے زندگی میں بہار لائی جاسکتی ہے۔ لیکن مسلم مرد اور مسلم عورت نے اسلام ہی سے منھ موڑ لیا اور اپنے آپ کو طاغوتی طوفان کے حوالے کردیا۔ اسلام پر ایک بڑا دھبا، انسانیت پر ایک بدنما داغ بن کر رہ گئے۔(3)احسن الخالقین نے شوہر او ربیوی کے باہمی رشتے کی اہمیت کو سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر187 کے چند الفاظ : ’’وہ تمھارے لباس ہیں اور تم ان کے لباس ہو‘‘۔کے ذریعے کس خوبصورتی کے ساتھ سمجھایا ہے اس کی مثال ملنی ناممکن ہے۔مرد اپنے لباس کو اپنے لیے باعثِ زینت اور اپنی شخصیت کا نکھار سمجھتے ہیں اسی لیے اپنے لباس کی پوری پوری توجہ کے ساتھ دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ کوشش کی جاتی ہے کہ لباس دھول، داغ دھبوں سے محفوظ رہے۔ لباس کو غلطی سے بھی ہلکی کھروچ تک نہ آنے پائے۔ لباس کو پھاڑنے یا تار تار کرنے کا تو تصور تک نہیں کیاجاتا۔ بل کہ لباس کو خوشبو میں بسایاجاتا ہے۔ لباس ہی کی طرح بیوی مرد کے لیے باعث زینت اور اس کی شخصیت کا نکھار ہوتی ہے اور اسی لیے پوری توجہ کے ساتھ دیکھ بھال کی حقدار بھی۔ مرد پر لازم ہے کہ اپنے لباس ہی کی طرح اپنی بیوی کو غیر ضروری شک وشبہ یا الزام تراشی کے داغ دھبوں اور دھول سے محفوظ رکھے۔ اپنی زبان یا اپنے کسی عمل سے بیوی کے دل پر ہلکی سی کھروچ تک نہ آنے دے۔ اپنے ظلم یا اپنی زیادتیوں کے ذریعے بیوی کے دل کو تار تار کرنے کا تصور تک نہ کرے۔ عورت کو ہمیشہ اپنی محبت کی خوشبو میں بسائے رکھے تو یہ عمل مرد ہی کیلئے نشان امتیاز ہوگا اور کامیاب ازدواجی زندگی کی علامت بھی اور اگر کوئی مرد ایسانہیں کرتا تو گویا وہ اپنا لباس خود ہی گندہ میلا کر بیٹھتا ہے ، خود ہی اپنے لباس کو پھاڑ پھاڑ کر تارتار کررہا ہوتا ہے۔ کسی بھی مرد سے پوچھیے کیا وہ ایسی بدحالی کو برداشت کر پائے گا؟ لیکن کتنے ہی مرد ہیں جو ایسی بدحالی کا شکار ہوجاتے ہیں اور انھیں احساس تک نہیں ہوتا۔عورت تو اپنے لباس کو اپنے لیے کچھ زیادہ ہی باعث زینت اور اپنی شخصیت کا نکھار سمجھتی ہے۔اسی لئے کوئی بھی عور ت اپنے لباس پر مرد کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہی توجہ دیتی ہے اور اپنے لباس کی دھول داغ دھبوں یا کھروچ وغیرہ سے کچھ زیادہ ہی حفاظت کرتی ہے۔ اپنے لباس کو پھاڑنے یا تارتار کرنے کا تصور ہی اس کے دل کی دنیا کو درہم برہم کرسکتا ہے۔ اگر بیوی اپنے لباس ہی کی طرح اپنے شوہر کی پوری پوری توجہ کے ساتھ دیکھ بھال کرے ، اپنی بدکلامی یا اپنی تلخ کلامی ، اپنی بدتمیزی یا بے رخی کے ذریعے مرد کے دل کو تار تار نہ کرے تو عورت ہی کی زندگی خوشگوار اور محبت کی خوشبو سے معطر ہوجائے گی۔ وہ بیوی کیسی لگتی ہوگی جو خود ہی اپنے لباس کو میلا، گندہ کردے، اپنے لباس کو پھاڑ پھاڑ ڈالے اوراس کے جسم پر بہترین زینت وزیبائش والے لباس کی جگہ چیتھڑے جھول رہے ہوں؟ کیا کوئی بھی عورت اس طرح کی بدحالی کو برداشت کرسکتی ہے ؟ لیکن کتنی ہی عورتیں ہوتی ہیں جنھیں اپنی بدحالی کی خبر ہی نہیں ہوتی۔ کیونکہ وہ حقیقت کے آئینے میں اپنے آپ کو کبھی دیکھتی ہی نہیں اور نہ انھیں کسی طرح کی شرمندگی کا احساس ہی ہوتا ہے۔ صاحبِ قرآن محمد مصطفیﷺکی زوجہ محترمہ اْم المومنین خدیجہؓ کی ازدواجی زندگی میں ہر کسی کیلئے بہترین نمو نہ ہے۔ یہ وہ نمونہ ہے جس کو صاحب عرش نے نہ صرف یہ کہ پسند فرمایا اور شرف قبولیت بخشا بلکہ اپنی پسند اور شرف قبولیت کو دنیا والوں پر ظاہر بھی فرما دیا۔صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام نبی کریمﷺ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے اللہ کے رسولﷺ ! یہ خدیجہؓ تشریف لارہی ہیں۔ ان کے پاس ایک برتن ہے جس میں سالن یا کھانا یا کوئی مشروب ہے۔ جب وہ آپ ﷺ کے پاس آپہنچیں تو آپ ﷺ انھیں ان کے رب کی طرف سے سلام کہیں اور جنت میں موتی کے ایک محل کی بشارت دیں جس میں نہ شور وشغب ہوگا نہ درماندگی اور تکان۔یہ درجہ اْم المومنین کو صرف اور صرف اس لیے ملا کہ تبلیغ اسلام کے سلسلے میں آپ ﷺ پر جب مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے، دل پاش پاش ہوجاتا تو آپﷺ کو اْم المومنین حضرت خدیجہ ؓ کی معیت میں سکون واطمینان ملتا، راحت ملتی، چین ملتا اور یہ ’’لِتَسکْنْوا اِلَیہَا‘‘ کی بہترین تفسیر ہوتی۔ اْم المومنین حضرت خدیجہؓ اپنے والہانہ تعلق خاطر کے ذریعے ’’مودۃ ورحمۃ‘‘ کی جیتی جاگتی تصویر بھی تھیں۔ ہر عقد کے موقع پر دعا ہوتی ہے کہ ’’اے اللہ! اس نئے شادی شدہ جوڑے کے درمیان ایسی ہی الفت رکھ دے جیسی الفت سیدنا محمد مصطفیﷺ اور حضرت خدیجہؓ کے درمیان رکھی تھی۔٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
ٹیکنالوجی کی دوڑ میں ماحول اور صحت داؤ پر

ٹیکنالوجی کی دوڑ میں ماحول اور صحت داؤ پر

ایلون مسک کے ڈیٹا سینٹر پر آلودگی پھیلانے کے الزاماتمصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے جہاں دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز کی اہمیت میں بے پناہ اضافہ کیا ہے، وہیں ان کے ماحولیاتی اور صحت سے متعلق اثرات بھی توجہ کا مرکز بنتے جا رہے ہیں۔ حالیہ دنوں ایلون مسک کی کمپنی سے منسوب ایک ڈیٹا سینٹر کے خلاف دائر مقدمے نے اس بحث کو مزید شدت دے دی ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر چلائے جانے والے اس مرکز سے سرطان سے منسلک مضر کیمیکل قریبی امریکی رہائشی علاقوں میں خارج کیے جا رہے ہیں۔ اگرچہ ان الزامات کی عدالتی سطح پر جانچ ابھی جاری ہے اور ان پر حتمی فیصلہ نہیں آیا، تاہم یہ معاملہ جدید ٹیکنالوجی، صنعتی ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور عوامی صحت کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کرتا ہے۔ایک نئے وفاقی مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایلون مسک کی کمپنی ''ایکس اے آئی‘‘ (xAI) کے وسیع ڈیٹا سینٹر کے اردگرد واقع رہائشی علاقوں میں سرطان سے منسلک کیمیکل خارج کیے جا رہے ہیں۔ نیشنل ایسوسی ایشن فار دی ایڈوانسمنٹ آف کلرڈ پیپل (NAACP) نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ ایکس اے آئی مسیسیپی کے علاقے ساؤتھ ہیون میں فضائی آلودگی کیلئے درکار اجازت نامے کے بغیر 27 گیس ٹربائنز چلا رہی ہے، جس کے ذریعے اپنے کولوسس 2ڈیٹا سینٹر کیلئے ایک بجلی گھر قائم کر لیا گیا ہے۔ یہی ڈیٹا سینٹر کمپنی کے چیٹ بوٹ 'گروک‘ کو طاقت فراہم کرتا ہے۔مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ان ٹربائنز سے یا تو دھواں اور آلودگی پیدا کرنے والے مضر مواد خارج ہوئے یا ان کے اخراج کا امکان موجود تھا۔ ان میں سموگ پیدا کرنے والے آلودہ ذرات، انتہائی باریک معلق ذرات (فائن پارٹیکیولیٹ میٹر) اور فارملڈیہائیڈ شامل ہیں، جو سرطان پیدا کرنے والا ایک معروف کیمیکل ہے۔ درخواست گزاروں کے مطابق یہ آلودہ مادے سانس کی نالی میں سوزش پیدا کر سکتے ہیں، پھیپھڑوں اور خون کی گردش تک گہرائی میں پہنچ سکتے ہیں جبکہ دمہ، دل کی بیماریوں اور سرطان کے خطرات میں بھی اضافہ کر سکتے ہیں۔مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان مبینہ خلاف ورزیوں کے باعث زیادہ تر سیاہ فام آبادی پر مشتمل وہ علاقے مزید مضر آلودگی کا شکار ہوئے، جہاں پہلے ہی سانس کی بیماریوں کی شرح نسبتاً زیادہ ہے۔ یہ قانونی تنازع ایکس اے آئی کی تیزی سے ہونے والی توسیع کے گرد گھومتا ہے۔ کمپنی نے اپنے چیٹ بوٹ گروک کی تربیت کیلئے دنیا کا سب سے بڑا مصنوعی ذہانت پر مبنی سپر کمپیوٹر تعمیر کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔مقدمے کے مطابق قومی بجلی کے نظام سے مطلوبہ مقدار میں بجلی حاصل نہ ہونے کے باعث کمپنی نے مبینہ طور پر ضروری اجازت نامے کے بغیر گیس سے چلنے والا ایک بجلی گھر تعمیر کیا تاکہ اس ڈیٹا سینٹر کو مسلسل بجلی فراہم کی جا سکے۔ اب این اے اے سی پی (NAACP) نے وفاقی عدالت سے درخواست کی ہے کہ ان گیس ٹربائنز کے آپریشن کو فوری طور پر روکا جائے، کمپنی پر مالی جرمانے عائد کیے جائیں اور ایکس اے آئی کو آلودگی پر قابو پانے کے مؤثر انتظامات نصب کرنے کا پابند بنایا جائے۔ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی نے مسیسیپی کے علاقے ساؤتھ ہیون میں میکروہارڈرنامی ڈیٹا سینٹر کی تعمیر پر 20 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے، جسے مسیسیپی کے گورنر ٹیٹ ریوز کی مکمل حمایت حاصل ہے۔یہ کمپنی کا تیسرا ڈیٹا سینٹر ہوگا۔ ایکس اے آئی کے چیف فنانشل آفیسر انتھونی آرمسٹرانگ کے مطابق، ان ڈیٹا سینٹرز کا مجموعہ دو گیگا واٹ کمپیوٹنگ صلاحیت کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑا سپر کمپیوٹر بنائے گا۔این اے اے سی پی نے ارتھ جسٹس اور سدرن انوائرمنٹل لا سینٹر کی نمائندگی میں رواں سال اپریل میں ایکس اے آئی اور اس کی ذیلی کمپنی ایم زیڈ ایکس ٹیک کیخلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ گزشتہ ماہ ایکس اے آئی نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ یہ مقدمہ خارج کر دیا جائے۔

موسمیاتی بحران، پاکستان کیلئے بڑا معاشی چیلنج

موسمیاتی بحران، پاکستان کیلئے بڑا معاشی چیلنج

قدرتی آفات سے مؤثر تحفظ کیلئے بروقت  منصوبہ بندی، زرعی تحفظ اور عالمی تعاون وقت کی اہم ضرورتپاکستان اس وقت دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے سب سے زیادہ منفی اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ اگر موسمیاتی تبدیلی کی رفتار اسی طرح برقرار رہی تو پاکستان کو مستقبل میں مزید شدید سیلاب، خشک سالی، پانی کی قلت، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، شدید گرمی کی لہروں اور زرعی پیداوار میں نمایاں کمی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ عالمی حدت میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، مگر اس کے باوجود موسمیاتی آفات کا بوجھ سب سے زیادہ انہی ممالک پر پڑ رہا ہے جو ترقی پذیر ہیں۔2022ء کے تباہ کن سیلاب نے دنیا کو یہ حقیقت دکھا دی تھی کہ موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک معاشی، سماجی اور انسانی بحران بھی ہے۔ لاکھوں ایکڑ زرعی زمین زیر آب آگئی، ہزاروں کلومیٹر سڑکیں اور پل تباہ ہوئے، لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور ملکی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ اس سانحے نے واضح کر دیا کہ پاکستان کے پاس آفات سے نمٹنے کیلئے مضبوط مالیاتی تحفظ کا نظام موجود نہیں۔بدقسمتی سے پاکستان میں قدرتی آفات کے بعد زیادہ تر انحصار ہنگامی امداد، بین الاقوامی مالی معاونت اور عطیات پر کیا جاتا ہے۔ یہ امداد اگرچہ متاثرین کیلئے اہم ہوتی ہے، لیکن اکثر دیر سے پہنچتی ہے، جبکہ متاثرہ خاندانوں کو فوری مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر آفت کے بعد بحالی کا عمل طویل اور دشوار ثابت ہوتا ہے۔دنیا کے کئی ممالک نے اس مسئلے کا حل پہلے ہی تلاش کر لیا ہے۔ افریقہ، ایشیاء اور بحرالکاہل کے متعدد ممالک نے ایسے مالیاتی نظام متعارف کرائے ہیں جن کے ذریعے قدرتی آفات کی صورت میں فوری مالی وسائل دستیاب ہو جاتے ہیں۔ ان ممالک نے زرعی بیمہ، قومی ہنگامی فنڈز، پیشگی مالی معاونت، موسمی خطرات سے متعلق بیمہ اور علاقائی تعاون کے ذریعے اپنی معیشت کو زیادہ محفوظ بنایا ہے۔ ان اقدامات کی بدولت آفت آنے کے بعد بحالی کا عمل تیز ہوتا ہے اور معاشی نقصان نسبتاً کم رہتا ہے۔پاکستان کیلئے بھی یہی راستہ اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سب سے پہلے ایک جامع قومی موسمیاتی مالیاتی پالیسی مرتب کی جانی چاہیے جس میں وفاق اور صوبوں کے درمیان واضح ذمہ داریاں طے ہوں۔ اس پالیسی کے تحت ایک مستقل قومی موسمیاتی تحفظ فنڈ قائم کیا جائے تاکہ قدرتی آفات کی صورت میں فوری مالی وسائل دستیاب ہوں اور متاثرہ علاقوں کی بحالی میں تاخیر نہ ہو۔زرعی شعبہ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، مگر یہی شعبہ موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ شدید بارشیں، خشک سالی، ژالہ باری اور درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ کسانوں کی محنت کو چند گھنٹوں میں ضائع کر دیتا ہے۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ حکومت چھوٹے اور متوسط درجے کے کسانوں کیلئے آسان، سستی اور قابلِ رسائی زرعی بیمہ اسکیمیں متعارف کرائے تاکہ فصل تباہ ہونے کی صورت میں انہیں فوری مالی سہارا مل سکے۔ اس سے نہ صرف کسانوں کا معاشی تحفظ ممکن ہوگا بلکہ ملکی غذائی سلامتی بھی مضبوط ہوگی۔اس کے ساتھ بینکاری اور مالیاتی اداروں کو بھی موسمیاتی خطرات کو اپنی منصوبہ بندی کا حصہ بنانا ہوگا۔ ایسے قرضے اور مالیاتی سہولیات متعارف کرائی جائیں جو پانی کی بچت، جدید آبپاشی، شمسی توانائی، بارش کے پانی کو محفوظ بنانے، ماحول دوست صنعتوں اور موسمیاتی موافق زراعت کی حوصلہ افزائی کریں۔ اس سے ماحول کا تحفظ بھی ہوگا اور معیشت زیادہ مضبوط بنیادوں پر استوار ہوگی۔ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ بروقت وارننگ سسٹم آفات سے ہونے والے نقصانات میں نمایاں کمی لا سکتے ہیں۔ جدید موسمیاتی پیش گوئی، سیلاب کی بروقت اطلاع، گلیشیئرز کی نگرانی، مقامی سطح پر آگاہی اور موثر انخلاء کے منصوبے ہزاروں جانیں بچانے کے ساتھ اربوں روپے کے معاشی نقصانات سے بھی محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک آفات کے بعد تعمیر نو کے بجائے آفات سے پہلے تیاری پر زیادہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔بین الاقوامی برادری کی بھی اس حوالے سے اہم ذمہ داری ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے صنعتی ترقی کے دوران سب سے زیادہ کاربن فضا میں خارج کی، جبکہ پاکستان جیسے ممالک اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ اس لیے عالمی موسمیاتی فنڈز تک پاکستان کی آسان رسائی، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی، کم سود مالی معاونت اور موسمیاتی موافقت کے منصوبوں میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ پاکستان کو اندرونی سطح پر بھی کئی بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی۔ جنگلات کے رقبے میں اضافہ، آبی ذخائر کی تعمیر، زیر زمین پانی کے بے دریغ استعمال پر قابو، شہری منصوبہ بندی میں موسمیاتی خطرات کو شامل کرنا، ندی نالوں پر غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ، قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کی توسیع اور ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر ان شعبوں میں مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے تو مستقبل کے خطرات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا خدشہ نہیں بلکہ پاکستان کیلئے ایک موجودہ قومی چیلنج بن چکی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، نجی شعبہ، مالیاتی ادارے، زرعی ماہرین اور بین الاقوامی شراکت دار مشترکہ طور پر ایسا نظام تشکیل دیں جو آفات آنے سے پہلے ہی ملک کو مالی اور انتظامی طور پر تیار کر دے۔اگر آج موسمیاتی تحفظ، مالیاتی منصوبہ بندی، جدید ٹیکنالوجی، ماحول دوست ترقی اور قدرتی وسائل کے موثر انتظام میں سرمایہ کاری کی گئی تو پاکستان نہ صرف آنے والی موسمیاتی آفات کے نقصانات کو کم کر سکے گا بلکہ پائیدار ترقی، غذائی تحفظ اور معاشی استحکام کی جانب بھی مضبوط قدم بڑھا سکے گا۔

موستار کا پل

موستار کا پل

تاریخ، تہذیب اور امن کی لازوال علامتموستار کا پل محض پتھروں سے تعمیر کیا گیا ایک قدیم شاہکار نہیں بلکہ تہذیبوں، ثقافتوں اور انسانوں کو جوڑنے والی ایک زندہ علامت ہے۔ بوسنیا و ہرزیگووینا کے تاریخی شہر موستار میں دریائے نیریتوا پر قائم یہ پل صدیوں تک مشرق اور مغرب، مختلف قومیتوں اور مذاہب کے درمیان باہمی ہم آہنگی اور بقائے باہمی کی علامت رہا۔ 16ویں صدی میں سلطنت عثمانیہ کے دور میں تعمیر ہونے والا یہ منفرد پل اپنے دلکش طرزتعمیر اور تاریخی اہمیت کے باعث عالمی شہرت رکھتا ہے۔ اگرچہ 1993ء میں بوسنیائی جنگ کے دوران یہ پل تباہ کر دیا گیا، مگر بعد ازاں بین الاقوامی تعاون سے اس کی ازسرِنو تعمیر نے یہ ثابت کر دیا کہ نفرت اور جنگ کے مقابلے میں امن، محبت اور اتحاد کی قوت کہیں زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔ موستار کا مطلب ہے پرانا پل، روسی زبان میں موست بمعنی پل اور سٹار یا سٹاری پرانا۔ یعنی موستار کا شہر اس کے درمیان بہنے والے دریائے نریتوا کے اوپر بنے ہوئے پرانے پل کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ ترکش معمار خیر الدین کی نگرانی میں بنایا گیا تھا۔ دریائے نریتواپر اس پل کی تعمیر کا آغاز 1557 ء میں ہوا اور 1566 ء میں مکمل ہوا۔ پل اس لیے بھی شہرت کا حامل ہے کہ یہ ایک محراب کی شکل میں بنایا گیا ہے۔ اس کی تعمیر میں پتھر اور چونا استعمال کیا گیا تھا۔ یہ پل ساڑھے چار سو سال سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ یہ پل پورے علاقے میں اپنی نوعیت کا واحد پل ہے، جو اپنی محرابی ساخت کی وجہ سے تاریخی شہرت رکھتا ہے۔ اس کی لمبائی 95 فٹ، چوڑائی 13 فٹ اور اونچائی 79 فٹ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پل کی تکمیل کے وقت اس کے افتتاح سے قبل سلطنت عثمانیہ کے سلطان نے قسم کھائی تھی کہ پل کے نیچے عارضی ستون ہٹانے کے بعد پل اگر نیچے گر گیا تو معمار خیرالدین کو قتل کر دیا جائے گا۔کہا جاتا ہے کہ معمار خیرالدین کو اپنے آپ پر اور اپنی کاریگری پر بھروسہ تو تھا لیکن سلطان کا خوف اس کے ذہن پر غالب آ گیا۔ جس دن پل کے نیچے سے عارضی ستون ہٹائے جانے تھے، اس دن معمار خیرالدین نے اپنی قبر بھی تیار کروانا شروع کر دی، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ وہ پل آج بھی قابل استعمال چلا آ رہا ہے۔ بقول محترمہ ساجدہ سلاجک صاحبہ گزشتہ جنگ میں اس موستار پل کو تباہ کرنے میں سربوں اور کروٹوں کو ڈیڑھ سال کا عرصہ لگا۔ پہلے سرب زور آزمائی کرتے رہے، پھر کروٹ گولہ باری کرتے رہے پھر کہیں جا کردہ اس پل کے کچھ حصے کو نقصان پہنچانے میں کامیاب ہو سکے۔ جنگ کے خاتمے کے بعد اس پل کو دوبارہ بنانے کا منصوبہ بنایا گیا۔ اس میں ورلڈ بینک ''یونیسکو‘‘ اورآغا خاں ٹرسٹ نے خاص طور پر مددکی۔ اس کے علاوہ اٹلی، ہالینڈ،ترکی، کروشیا اور بوسنیا کی حکومت نے خاص تعاون کیا۔ پھر کہیں 2004 ء میں اس تاریخی پل کو پیدل چلنے والوں کیلئے کھولا گیا۔ تقریباً 80 فٹ کی بلندی سے پیشہ ور غوطہ خور دریائے نریتوا میں ایک خاص سٹائل میں غوطہ لگا کر حاضرین سے داد وصول کرتے ہیں۔ جبکہ دریا کا پانی بہت ٹھنڈا ہوتا ہے۔ آج موستار کا پل نہ صرف ایک سیاحتی مرکز ہے بلکہ یہ انسانیت کیلئے اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ دلوں اور معاشروں کو جوڑنے والے پل ہمیشہ دیواروں سے زیادہ دیرپا ثابت ہوتے ہیں۔

عید ملنا!

عید ملنا!

مرزا صاحب ہمارے ہمسائے تھے، یعنی ان کے گھر میں جو درخت تھا اس کا سایہ ہمارے گھر میں بھی آتا تھا۔ اللہ نے انہیں سب کچھ وافر مقدار میں دے رکھا تھا۔ بچے اتنے تھے کہ بندہ ان کے گھر جاتا تو لگتا اسکول میں آگیا ہے۔ ان کے ہاں ایک پانی کا تالاب تھا جس میں سب بچے یوں نہاتے رہتے کہ وہ تالاب میں 500 گیلن پانی بھرتے اور سات دن بعد 550 گیلن نکالتے۔ وہ مجھے بھی اپنے بچوں کی طرح سمجھتے، یعنی جب انہیں مارتے تو ساتھ میں مجھے بھی پیٹ ڈالتے، انہیں بچوں کا آپس میں لڑنا جھگڑنا سخت ناپسند تھا۔ حالانکہ ان کی بیگم سمجھاتیں کہ مسلمان بچے ہیں، آپس میں نہیں لڑیں گے تو کیا غیروں سے لڑیں گے۔ ایک روز ہم لڑ رہے تھے، بلکہ یوں سمجھیں رونے کا مقابلہ ہو رہا تھا۔ یوں بھی رونا بچوں کی لڑائی کا ٹریڈ مارک ہے۔ اتنے میں مرزا صاحب آگئے۔''کیوں لڑ رہے ہو؟‘‘ہم چپ! کیونکہ لڑتے لڑتے ہمیں یہ بھول گیا تھا کہ کیوں لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے ہمیں خاموش دیکھا تو دھاڑے، ''چلو گلے لگ کر صلح کرو۔‘‘ وہ اتنی زور سے دھاڑے کہ ہم ڈر کر ایک دوسرے کے گلے لگ گئے۔ اس بار جب میں نے عید پر لوگوں کو گلے ملتے دیکھا تو یہی سمجھا کہ یہ سب لوگ بھی ہماری طرح صلح کر رہے ہیں۔عید کے دن گلے ملنا، عید ملنا کہلاتا ہے۔ پہلی بار اس دن انسان گلے ملا، جب خدا نے اسے ایک سے دو بنایا۔ یوں آج بھی گلے ملنے کا عمل دراصل انسان کے ایک نہ ہونے کا اعلان ہوتا ہے۔ یہ عمل ہمیں دوسرے جانوروں سے ممتاز کرتا ہے کہ وہ گلے پڑ تو سکتے ہیں، گلے مل نہیں سکتے۔ہمارے ہاں عید ملنا، عید سے بہت پہلے شروع ہو جاتا ہے۔ دکاندار گاہکوں سے، کلرک سائلوں سے اور ٹریفک پولیس والے گاڑی والوں کو روک روک کر ان سے عید ملتے ہیں۔ بازاروں میں عید سے پہلے اتنا رش ہوتا ہے کہ وہاں سے گزرنا بھی عیدملنا ہی لگتا ہے۔ کچھ نوجوان تو لبرٹی اور بانو بازار میں عید ملنے کی ریہرسل کرنے جاتے ہیں۔عید کے دن میں خوشبو لگا کر عید گاہ کا رخ کرتا ہوں۔ واپسی پر کپڑوں سے ہر قسم کی خوشبو آ رہی ہوتی ہے سوائے اس خوشبو کے جو لگاکر جاتا ہوں۔ عید مل مل کر وہی حال ہوجاتا ہے جو سومیٹر کی ریس جتنے کے بعد ہوتا ہے۔ اوپر سے گوجرانوالہ کی عید ملتی مٹی ایسی کہ جب واپس آکر گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہوں تو گھر والے گردن نکال کر پوچھتے ہیں،''جی! کس سے ملنا ہے؟‘‘سیاست دان تو عید یوں ملنے نکلتے ہیں، جیسے الیکشن کمپین پر نکلے ہوں۔ جیتنے سے پہلے عید تو وہ آگے بڑھ کر ملتے ہیں اور جیتنے کے بعد عید مل کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ پنجاب کے ایک سابق گورنر کا عید ملنے کا انداز نرالہ ہوتا تھا۔ ان کا حافظہ ہمارے ایک ادیب دوست جیسا تھا جو ایک ڈاکٹر سے اپنے مرض نسیان کاعلاج کروا رہے تھے، دو ماہ کے مسلسل علاج کے بعد ایک دن ڈاکٹر نے پوچھا،''اب تو نہیں بھولتے آپ؟‘‘۔''بالکل نہیں، مگر آپ کون ہیں اور یہ کیوں پوچھ رہے ہیں؟‘‘وہ سابق گورنر بھی عید پر معززین شہر سے عید ملنا شروع کرتے، ملتے ملتے درمیان تک پہنچتے تو بھول جاتے کہ کس طرف کے لوگوں سے مل لیا اور کس طرف کے لوگوں سے ابھی ملنا ہے۔ یوں وہ پھر نئے سرے سے عید ملنے لگتے۔ ایسے ہی ایک صاحب تیز دریا عبور کرنے کی کوشش میں تھے مگر عین دریا کے درمیان سے واپس پلٹ آئے۔ لوگوں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے، دراصل جب میں دریا کے درمیان پہنچا تو بہت تھک گیا تھا سو واپس لوٹ آیا۔شاعر وہ طبقہ ہے جو خوشی غمی ہر دوموقعوں پر شعر سناتا ہے۔ کہتے ہیں کہ سکھ کرپان کے بغیر، بنگالی پان کے بغیر اور شاعر دیوان کے بغیر گھر سے نہیں نکلتا۔ اس لیے شاعر عید ملنے کیلئے بھی مشاعرے ہی کرتے ہیں۔ یوں مشاعروں کو لفظوں کا عید ملنا کہہ لیں اگرچہ وہ ہوتی تو لفظوں کی ہاتھا پائی ہے۔بچے پیار سے عید کو عیدی کہتے ہیں۔ اس لیے ان کو عیدی ملناان کا عید ملنا ہے۔ عورتیں بھی اکٹھی ہوکر عید ملتی ہیں، لیکن جہاں چار عورتیں اکٹھی ہوں وہاں وہ ایک دوسری سے نہیں، پانچویں سے خوب خوب ملتی ہیں۔ اور کوئی وہاں سے اٹھ کر اس لیے نہیں جاتی کہ جانے کے بعد وہاں بیٹھی رہنے والیاں اس سے ''عید ملنا‘‘ نہ شروع کردیں۔عید کے روز امام مسجد سے عید ملنے کا یہ طریقہ ہے کہ اپنی مٹھی مولوی صاحب کی ہتھیلی پر یوں رکھیں کہ ان کے منہ سے جزاک اللہ کی آواز نکلے۔ چھوٹے شہروں میں نوجوانوں کی اکثریت سنیما گھروں میں بھی عید ملنے جاتی ہے۔ بکنگ کے سامنے وہ عید ملن ہوتی ہے کہ جو سفید سوٹ پہن کر آتا ہے وہ براؤن سوٹ بلکہ کبھی کبھی تو کالے سوٹ میں لوٹتا ہے، اکثر بنیان میں بھی واپس آتے ہیں۔ عید ملنا وہ ورزش ہے جس سے وزن بہت کم ہوتا ہے۔ میرا ایک دوست بتاتا ہے کہ بیرون ملک میں نے عید پر سو پونڈ کم کیے۔

آج تم یاد بے حساب آئے! کیپٹن محمد سرور شہید(نشان حیدر) (1948-1910ء)

آج تم یاد بے حساب آئے! کیپٹن محمد سرور شہید(نشان حیدر) (1948-1910ء)

٭...10نومبر 1910ء کو راولپنڈی کے گاؤں سنگھوری میں پیدا ہوئے۔٭...آپ کے والد راجہ محمد حیات خاں بھی فوج میں حوالدار تھے۔٭...ابتدائی تعلیم گورنمنٹ مسلم ہائی سکول فیصل آباد سے حاصل کی۔٭... 1927 ء میں دسویں جماعت میں اول پوزیشن حاصل کی۔٭...15 اپریل 1929ء کو فوج میں بطور سپاہی شمولیت اختیار کی۔٭... 1944ء میں پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔٭... دوسری جنگ عظیم میں شاندار فوجی خدمات پر 1946ء میں کیپٹن کے عہدے پر ترقی پائی۔٭...قیام پاکستان کے بعد پاک فوج میں شمولیت اختیار کرلی۔٭... 1948ء میں جب پنجاب رجمنٹ کی سیکنڈ بٹالین میں کمپنی کمانڈر کے عہدے پر فائز تھے انہیں کشمیر میں آپریشن پر مامور کیا گیا۔٭...27 جولائی 1948ء کو اوڑی سیکٹر میں دشمن کی اہم فوجی پوزیشن پر حملہ کیا۔اس حملے میں ایک گولی کیپٹن سرور کے سینے میں لگی اور آپ نے شہادت پائی۔٭...27اکتوبر 1959ء کو انہیں نشانِ حیدرسے نوازا گیا۔

آج کا دن

آج کا دن

انسولین کی ایجاد27 جولائی 1921ء کو ٹورنٹو یونیورسٹی کے بائیو کیمسٹ ڈاکٹر فریڈریک بینٹنگ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر انسولین دریافت کی، جو ذیابیطس کے علاج میں ایک انقلابی پیش رفت ثابت ہوئی۔ بینٹنگ پیشے کے لحاظ سے ہڈیوں کے سرجن تھے، لیکن انہوں نے لبلبے (Pancreas) پر تجربات کرتے ہوئے یہ اہم دریافت کی۔انسولین کی دریافت سے قبل ذیابیطس ایک لاعلاج اور مہلک بیماری سمجھی جاتی تھی۔ جنیوا کنونشنجنگی قیدیوں سے متعلق جنیوا کنونشن پر27 جولائی 1929ء کو دستخط ہوئے جبکہ یہ 19 جون 1931ء کو نافذ ہوا۔ یہ بین الاقوامی قوانین کا ایک مجموعہ ہے جو جنگوں کے دوران انسانی ہمدردی کے اصولوں کو یقینی بنانے کیلئے بنایا گیا۔ اس کا بنیادی مقصد جنگ کے دوران زخمیوں، بیماروں، قیدیوں اور عام شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ریڈ کراس کا قیام بھی اسی کنونشن کے تحت عمل میں آیا۔جیٹ طیارے کی پہلی اڑان 1949ء میں آج کے روزدنیا کے پہلے جیٹ انجن سے لیس مسافر بردار طیارے نے اپنی پہلی کامیاب پرواز کی۔''ڈی ہیولینڈ ڈی ایچ 106‘‘ دنیا کا پہلا کمرشل جیٹ ہوائی جہاز ہے۔اس میں چار ڈی ہیولینڈ گھوسٹ ٹربو جیٹ انجن نصب تھے۔ اس نے اپنی پہلی تجارتی پرواز مئی 1952ء میں بھری ۔یوکرین ائیر شو حادثہ27جولائی2015ء کو یوکرین میں ہونے والے فضائی شو میں ایک حادثہ پیش آیا۔یہ شو یوکرین کی فضائیہ کے زیر اہتمام کروایا گیا تھا۔ اس میں ایک جہاز اپنی محارت دکھاتا ہوا ائیر فیلڈ کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔اس حادثے میں 77افراد جان بحق جبکہ543کے قریب زخمی ہوئے۔ یہ حادثہ دنیا میں کسی بھی ائیر شو کے دوران ہونے والے حادثات میں سب سے بھیانک تصور کیا جاتا ہے۔سی زیروک قتل عام27جولائی 1997ء کو الجزائر کے علاقے سی زیروک میں ایک قتل عام کیا گیا جسے ''زیروک قتل عام‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس میں تقریباً 50 لوگ مارے گئے۔ 1997ء میں الجزائر میں خانہ جنگی عروج پر تھی۔دوگوریلا گروہ حکومت سے لڑائی میں مصروف تھے۔اس حملے سے قبل گاؤں کی بجلی کو منقطع کر دیا گیا اور آرمی بیرکس کے قریب حملہ کیا گیا۔