ازدواجی زندگی کو خوشگوار کیسے بنایا جائے ؟

ازدواجی زندگی کو خوشگوار کیسے بنایا جائے ؟

اسپیشل فیچر

تحریر : غلام حقانی


مرد وعورت اپنا کردار خوش اسلوبی سے نبھائیں تو ازدواجی زندگی باغ وبہار بن جاتی ہےتفریح طبع سے خاندان میں خوشگواری پیدا ہوتی ہے وقتاً فوقتاً مرد کو اس بات کا بھی خیال رکھنا اور اپنی استطاعت کے مطابق اہتمام کرنا چاہیےاپنی بیویوں کی ذات سے سکون میسر آنے کے باوجود جو مرد ان کے ساتھ محبت بھرا، پیار بھرا اور ہمدردانہ برتاؤ نہیں کرتے، کیا وہ اپنے مقصد حیات کو تار تار کرکے نہیں رکھ دیتے؟اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی منشاء سے واقف کروانے اور اپنی منشاء کے مطابق انسان سے عمل کروانے کیلئے ابتدائے آفرینش ہی سے ’’ہدایت‘‘ کا اہتمام فرمایا ہے اور اس مقصد کیلئے ہر زمانے اور ہر قوم میں انبیاء ورسل بھی بھیجے اور ان پر اپنے احکام پر مبنی صحیفے اور کتب بھی نازل فرمائیں۔ ہمارا زمانہ آخری زمانہ ہے۔ اسی لیے ہمارے لیے آخری نبی اور رسول خاتم النبیین اور خاتم المرسلین سیدنا محمد مصطفیﷺ کو مبعوث فرمایا اور ان پر خاتم الکتب قرآن مجید کو نازل فرمایا۔ اگر اس دور کے انسان کو اپنی تخلیق کا مقصد جاننا ہو، اس ارادے کے ساتھ کہ وہ اپنی تخلیق کے مقصد یا اپنے مقصدِ حیات کو ہر حال میں پورا کرے گا تو قرآن مجید اس کے لیے بہترین رہبر، بہترین ہدایت نامہ اور اس کے سفر زندگی کو پوری طرح روشن اور واضح کرنے والی کتاب ثابت ہوگی۔قرآن مجید ایک ایسی شاندار کتاب ہے جس میں دنیاوآخرت کے ہر پہلو کو پوری طرح سے اجاگر اور واضح کردیاگیا ہے۔ ضرورت غوروفکر اور تدبر کی ہے۔ قرآن مجید کے مضامین میں غوروفکر اور تدبر کرنے سے انسان کو اپنے مقصد حیات کے بارے میں سب کچھ معلوم ہوجائے گا۔ مثال کے طور پر شوہر اور بیوی کے تعلقات پر مبنی حسب ذیل آیات: سورۃ النساء کی آیت نمبر 34 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’مرد عورتوں پر قوام ہیں اس بنا پر کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں‘‘۔اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات بنائی اور سجائی انسان کیلئے اور خود انسان کو بنایا اپنے لیے، لیکن انسان کی پیدائش اور دنیا بسانے کا ذریعہ خود انسان ہی کو بنایا جیسا کہ سورۃ النساء کی پہلی ہی آیت میں واضح فرما دیاگیا ہے: ’’لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اْسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد وعورت دنیا میں پھیلا دیے‘‘۔یوں دنیا میں ہر رشتے سے پہلے شوہر اور بیوی کا رشتہ وجود میں آیا۔ اسی لیے یہ رشتہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ شوہر اور بیوی دراصل ایک دوسرے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ احسن الخالقین نے ازدواجی زندگی کا ایک بے حد خوبصورت اور مضبوط ڈھانچا بنایا ہوا ہے جس کے مطابق ازدواجی زندگی میں مرد وعورت دونوں کا اپنا مقام ہے۔ دونوں کی اپنی اپنی ذمے داری اوردونوں کا اپنا اپنا کردار ہے۔ جب مرد وعورت اپنی اپنی ذمے داری اپنا اپنا کردار خوش اسلوبی کے ساتھ نبھاتے ہیں تو ازدواجی زندگی نہایت خوشگوار بلکہ باغ وبہار بن جاتی ہے۔ کیوں کہ دونوں ہی اپنے اپنے مقصد حیات کو پورا کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن اگر دونوں یا دونوں میں سے کوئی اپنی ذمے داری نہ نبھائے تو وہ اپنے مقصد حیات کی خلاف ورزی کر رہا ہوتا ہے، جس کا لازمی نتیجہ دو طرح کی تباہی ہے۔ دنیوی بھی اور اخروی بھی۔ اسی لیے یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شوہر اور بیوی کے لیے کس کس طرح کا کردار پسند فرمایا ہے اور دونوں کو کیا کیا ذمے داریاں سونپی ہیں۔سورۃ النساء کی آیت نمبر34 میں اللہ تعالیٰ نے شوہروں کے کردار اور ذمے داریوں کو صرف ایک لفظ ’’قوام‘‘ میں سمو دیا ہے۔ شوہر ’’قوام‘‘ ہونے کے ناتے اپنے خاندان کے معاملات کو، جس کا اہم ترین حصہ بیوی ہوتی ہے، درست حالت میں چلانے، خاندان کی حفاظت ونگہبانی کرنے اور خاندان کی ساری ضرورتیں پوری کرنے کا ذمے دار ہوتا ہے۔ مرد کا عورتوں پر قوام ہونا ایک فطری عمل ہے۔ اسی لیے دنیا کے صرف مہذب طبقوں ہی میں نہیں بلکہ جاہل اور جنگلی طبقوں میں بھی مرد ہی کو ہمیشہ قوام کا درجہ ملا ہے۔ نئی تہذیب کے بگڑے ہوئے لوگ اور بعض غیر اہم قبائل اس سے مستثنیٰ ہوسکتے ہیں۔نبوت کا تیرہواں سال تھا۔ ہمارے آقا محمد مصطفی ﷺ ابھی مکہ مکرمہ ہی میں تھے۔ حج کے موقع پر سترہ سے زیادہ افراد کا وفد مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ آیا اور انھوں نے اصرار کیا کہ آپ ﷺمدینہ ہجرت فرمائیں۔ اس ضمن میں اس وفد سے چند اہم امور پر بیعت لی گئی۔ اس بیعت کی آخری دفعہ کے تعلق سے سرورِ عالمﷺنے فرمایا: ’’میں تم سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم اس چیز سے میری حفاظت کروگے جس سے اپنے بال بچوں کی حفاظت کرتے ہو‘‘۔ اس پر حضرت براءؓ بن معرور نے آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑا اور کہا: ’’ہاں، اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو نبی برحق بناکر بھیجا ہے ہم یقینا اس چیز سے آپ ﷺ کی حفاظت کریں گے جس سے اپنے بال بچوں کی حفاظت کرتے ہیں‘‘۔یہاں تو جہ طلب بات یہ ہے کہ مدینہ منورہ کے باشندوں کو جو نئے نئے اسلام کی آغوش میں چلے آئے تھے، یہ بات پہلے ہی سے معلوم تھی کہ مرد اپنی بیوی بچوں کی جان، مال اور ناموس کی حفاظت کے ذمے دار ہوتے ہیں، کسی مذہبی قانون کی بنا پر نہیں بلکہ بالکل فطری طور پر۔ اس ذمے داری کے علاوہ مرد پر، ’’قوام‘‘ ہونے کی حیثیت سے اور بھی ذمے داریاں عائد ہوتی ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں:(1)گرمی، سردی، بارش اور موسمی اثرات، چوروں، غنڈوں سے حفاظت کیلئے اور اپنے آپ کو محفوظ تصور کرتے ہوئے سکون واطمینان حاصل کرنے کیلئے اپنی استطاعت کے مطابق وہ ایک مکان فراہم کرے۔(2)اپنی استطاعت کے مطابق کھانے پینے کا بندوبست کرے۔ اکثر یہ ذمے داری دو حصوں میں بانٹی جاتی ہے، کھانے پینے کا سامان فراہم کرنے کی ذمے داری مرد پر اور پکوان کی ذمے داری عورت پر۔(3)اپنی استطاعت کے مطابق بیوی بچوں کے لئے لباس کا بندو بست کرے۔ لباس کا بندوبست کرتے ہوئے نہ مرد بخل سے کام لے اور نہ عورت مرد کی استطاعت سے بڑھ کر فرمائش کرے۔(4)بیماریوں سے بچنے کیلئے جو بھی احتیاطی تدابیر ممکن ہوں، اختیار کرے۔ بیوی بچوں میں سے کوئی بھی بیمار پڑجائے تو علاج معالجے میں کسی طرح کی بے پروائی نہ برتے۔(5) مرد وعورت سماج کا حصہ ہوتے ہیں۔ اسی لیے وہ اپنی بیوی بچوں کو، حسب استطاعت، اس حال میں رکھے کہ انھیں سماج میں شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔(6) تفریح طبع سے خاندان میں خوشگواری پیدا ہوتی ہے۔ وقتاً فوقتاً مرد کو اس بات کا بھی خیال رکھنا اور اپنی استطاعت کے مطابق اہتمام کرنا چاہیے۔(7)بچوں کی تعلیم وتربیت مرد وعورت دونوں کی ذمے داری ہے لیکن تعلیم کے سارے اخراجات کی ذمے داری مرد پر ہوگی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہر وہ ذمے داری جس میں مال خرچ کیا جاتا ہے یہ فرماکر مرد کو سونپ دی کہ ’’اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں‘‘۔ اگر کوئی مرد استطاعت کے باوجود جان بوجھ کر اپنے اس منصب ’’قوام‘‘ کو نہ نبھائے تو وہ اسلامی آئین، اسلامی قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب اوراللہ تعالیٰ کی ناراضی کا مستحق ہوجاتا ہے اور اخلاقی اعتبار سے انسانیت سے خارج بھی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے مرد کو خاندان میں ’’قوام‘‘ کا منصب عطا فرمایا اور خاندان کی دیکھ بھال کی ساری ذمے داری اْس کو سونپ دی۔ اسی لیے خاندانی امور کو خوش اسلوبی کے ساتھ چلانے کے لیے مرد کا حکم مانا جائے گا۔ اپنا فرض یا ڈیوٹی نبھانے کے لیے، محکومیت کے طور پر نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کے فرائض کی ادائی کے تعلق سے بھی سورۃ النساء کی اس آیت میں اپنی منشاء اور مرضی کو یوں ظاہر فرمایا ہے:’’پس صالح عورتیں فرماں بردار ہوتی ہیں اور مردوں کے غیاب میں، اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور نگرانی میں اْن کے (شوہروں کے) حقوق کی حفاظت کرتی ہیں‘‘۔یہاں قرآن حکیم کایہ اعجاز توجہ طلب ہے کہ عورتوں کو براہ راست یہ حکم نہیں دیاگیا کہ شوہروں کی فرماں برداری کریں، شوہروں کی اطاعت شعار بن کر رہیں بلکہ یہی بات عورتوں تک پہنچانے کیلئے ایک انتہائی موثرکن اسلوب اختیار کیاگیا، وہ یہ کہ اگر عورتیں صالحات ہوں گی تو یقینا اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، ربوبیت ،الوہیت اور اللہ تعالیٰ کی ہمہ گیر حاکمیت ان کے دلوں میں جاگزیں ہوگی۔ اللہ کے رسولوں ، اللہ کی کتابوں، اللہ کے فرشتوں، یوم آخرت، دوزخ اور جنت کے تعلق سے ان کاایمان مستحکم ہوگا اوراسی بنا پر وہ اپنی زندگی کے ہر ہر شعبے میں اللہ تعالیٰ کے احکام کو بجا لانے میں کسی بھی قسم کی بے پروائی او رغفلت کو بالکل بھی جگہ نہیں دیں گی۔ بلکہ ہر دم اور ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کی منشاء اور مرضی ہی کو مقدم رکھتی ہوں گی تو ایسی عورتوں کیلئے یہ سمجھ لینا بالکل بھی دشوار نہیں ہوگا کہ شوہر کی فرماں برداری ، شوہر کی اطاعت شعاری بھی اللہ تعالیٰ کی منشاء و مرضی ہی میں شامل ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کی اطاعت گزاری سے ایمان کی لذت ، سکون واطمینان کی دولت اور دنیا وآخرت کی کامیابی نصیب ہوتی ہے، اُسی طرح اللہ تعالیٰ کی منشاء اور مرضی کو پورا کرنے کیلئے شرعی حدود کے اندر، اندر شوہر کی اطاعت و فرماں برداری سے بھی ایمان کی لذت، سکون و اطمینان کی دولت اور دنیا وآخرت کی کامیابی نصیب ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ فرماں بردار ی کسی کو حاکم اور کسی کو محکوم کا درجہ دینے کیلئے نہیں بلکہ خاندانی امور کو خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دینے کیلئے ہے اور ایک صحت مند خاندان ، صحت مند سماج کا ضامن ہوتا ہے۔یہ قرآن حکیم کا اعجاز ہے کہ سورۃ النساء کی آیت نمبر34کے صرف چند الفاظ کے ذریعے شوہر اور بیوی کے رشتے کے تعلق سے سارے رہنما نہ خطوط ، شوہر اور بیوی کے رشتے کے سارے مقتضیات اولوالالباب یا عقل مندوں کیلئے روز روشن کی طرح واضح کردیے گئے، جن پر عمل پیرا ہونا انتہائی خوش نصیبی اور دنیوی زندگی کو جنت نشان بنانے کیلئے کافی ہے اور آخرت میں جنت کے حصول کا ذریعہ بھی۔ اور اگر شوہر یا بیوی یا دونوں ہی اس آیت مبارکہ میں دیے ہوئے رہنمایانہ خطوط کو یکسر نظرانداز کردیتے ہیں، شوہر اور بیوی کے رشتے کے مقتضیات پر بالکل بھی عمل پیرا نہیں ہوتے تو وہ حقیقت میں اللہ عزوجل کی ’’عبادت‘‘ سے منھ موڑ رہے ہوتے ہیں، بلکہ انجانے میں شیطان کی ’’عبادت‘‘ کر رہے ہوتے ہیں۔ اس طرح اپنے مقصدِ حیات کو اپنے ہی ہاتھوں پامال کرتے ہوئے اپنے آپ کو انسانیت کے دائرے اور اولوالالباب یا عقلمندوں کی فہرست سے خارج کر رہے ہوتے ہیں۔(2)خالق کائنات نے شوہر اور بیوی کے رشتے کی جاذبیت اور ایک دوسرے کی جانب فطری میلان، فطری جھکاؤ اور ایک دوسرے کے لیے فطری ہمدردی کے راز پر سے سورۃ الروم کی آیت نمبر21 میں اس طرح پردہ اٹھایا ہے اور اس کو اپنی نشانی کا درجہ عطا فرمایا ہے:’’اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمھارے لیے تمھاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمھارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کردی‘‘۔ انسان کی تخلیق کے موقع پر ہی اللہ تعالیٰ نے یہ بات عورت کی فطرت میں رکھ دی کہ اس کی ذات سے مرد یعنی شوہر کو سکون و اطمینان حاصل ہو اور اسی طرح تخلیق ہی کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے مرد وعورت دونوں ہی کے درمیان محبت بھی رکھ دی ، رحمت وہمدردی اورلگائو کے جذبات بھی رکھ دیے۔ حتیٰ کہ کوئی بھی کسی دوسرے کی ذرا سی پریشانی سے خود بھی بے چین اور پریشان ہوجائے۔ اور یہ انسان کے لیے اتنی بڑی نعمتیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی نشانیوں میں شمار فرمایا۔ اگر مرد وعورت ازدواجی زندگی کے ان فطری قواعد کے مطابق اپنی زندگی گزارتے ہیں تو وہ اپنے مقصدِ حیات کی تکمیل کر رہے ہوتے ہیں جس کے باعث ان کی زندگی باغ وبہار بنی رہتی ہے۔ لیکن اس کے برخلاف اگر عورت مرد کے ساتھ کچھ ایسا برتائو اپناتی ہے کہ مرد کو عورت کی ذات سے سکون و اطمینان حاصل ہونے کی بجائے کوفت، جھنجھلاہٹ، تلخی اور کڑواہٹ سے دوچار ہونا پڑتا ہے تو یہ اسی بات کی واضح علامت ہے کہ عورت اپنی فطرت سے روگردانی کر رہی ہے اور اپنے مقصدِ حیات کو اپنے ہی ہاتھوں پامال و تباہ کر رہی ہے۔ اسی طرح مرد و عورت دونوں ہی کے درمیان محبت، رحمت اور ہمدردی کے جذبات نہیں پائے جاتے یا بہت ہی کم پائے جاتے ہیں یا کسی میں پائے جاتے ہیں کسی میں نہیں تو یہ بھی فطرت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے :’’ہم نے نے انسان کو بہت خوبصورت سانچے میں ڈھالا ہے یا ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا ہے‘‘۔ (سورہ التین:4)یعنی صورت بھی بہترین عطا کی اور سیرت بھی بہترین۔ لیکن مرد وعورت یا دونوں میں سے کوئی ایک اپنی من مانی کرکے، ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے احکامات، اللہ تعالیٰ کی تعلیمات سے روگردانی کرتے ہوئے اپنے آپ کو ’’اسفل سافلین‘‘ یعنی پستی کی انتہا میں پہنچادیتے ہیں اور اپنی زندگی کو دنیا ہی میں جہنم بنادیتے ہیں۔’’وہ خواتین جو اپنے شوہروں کے سکون کا باعث بننے کی بجائے ان کا سکون غارت کرکے رکھ دیتی ہیں اور اسی وجہ سے ان کی باہمی محبت اور رحمت بھی داؤ پر لگ جاتی ہے یا وہ مرد جن کو اپنی بیویوں کی ذات میں سکون میسر آنے کے باوجود بیویوں کے ساتھ محبت بھرا، پیار بھرا اور ہمدردانہ برتاؤ نہیں کرتے، کیا وہ اپنے مقصد حیات کو تار تار کرکے نہیں رکھ دیتے؟ پھر وہ عقلمندوں یا اولوالالباب کے زمرے میں یا انسانیت کی فہرست میں کس طرح شامل رہ سکتے ہیں؟ آئے دن جہیز کیسز میں اضافہ کیا ازدواجی زندگی کو منھ نہیں چڑا رہا ہوتا؟ اسلام نے تو مرد و عورت کو وہ سب کچھ دیا جس سے زندگی میں بہار لائی جاسکتی ہے۔ لیکن مسلم مرد اور مسلم عورت نے اسلام ہی سے منھ موڑ لیا اور اپنے آپ کو طاغوتی طوفان کے حوالے کردیا۔ اسلام پر ایک بڑا دھبا، انسانیت پر ایک بدنما داغ بن کر رہ گئے۔(3)احسن الخالقین نے شوہر او ربیوی کے باہمی رشتے کی اہمیت کو سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر187 کے چند الفاظ : ’’وہ تمھارے لباس ہیں اور تم ان کے لباس ہو‘‘۔کے ذریعے کس خوبصورتی کے ساتھ سمجھایا ہے اس کی مثال ملنی ناممکن ہے۔مرد اپنے لباس کو اپنے لیے باعثِ زینت اور اپنی شخصیت کا نکھار سمجھتے ہیں اسی لیے اپنے لباس کی پوری پوری توجہ کے ساتھ دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ کوشش کی جاتی ہے کہ لباس دھول، داغ دھبوں سے محفوظ رہے۔ لباس کو غلطی سے بھی ہلکی کھروچ تک نہ آنے پائے۔ لباس کو پھاڑنے یا تار تار کرنے کا تو تصور تک نہیں کیاجاتا۔ بل کہ لباس کو خوشبو میں بسایاجاتا ہے۔ لباس ہی کی طرح بیوی مرد کے لیے باعث زینت اور اس کی شخصیت کا نکھار ہوتی ہے اور اسی لیے پوری توجہ کے ساتھ دیکھ بھال کی حقدار بھی۔ مرد پر لازم ہے کہ اپنے لباس ہی کی طرح اپنی بیوی کو غیر ضروری شک وشبہ یا الزام تراشی کے داغ دھبوں اور دھول سے محفوظ رکھے۔ اپنی زبان یا اپنے کسی عمل سے بیوی کے دل پر ہلکی سی کھروچ تک نہ آنے دے۔ اپنے ظلم یا اپنی زیادتیوں کے ذریعے بیوی کے دل کو تار تار کرنے کا تصور تک نہ کرے۔ عورت کو ہمیشہ اپنی محبت کی خوشبو میں بسائے رکھے تو یہ عمل مرد ہی کیلئے نشان امتیاز ہوگا اور کامیاب ازدواجی زندگی کی علامت بھی اور اگر کوئی مرد ایسانہیں کرتا تو گویا وہ اپنا لباس خود ہی گندہ میلا کر بیٹھتا ہے ، خود ہی اپنے لباس کو پھاڑ پھاڑ کر تارتار کررہا ہوتا ہے۔ کسی بھی مرد سے پوچھیے کیا وہ ایسی بدحالی کو برداشت کر پائے گا؟ لیکن کتنے ہی مرد ہیں جو ایسی بدحالی کا شکار ہوجاتے ہیں اور انھیں احساس تک نہیں ہوتا۔عورت تو اپنے لباس کو اپنے لیے کچھ زیادہ ہی باعث زینت اور اپنی شخصیت کا نکھار سمجھتی ہے۔اسی لئے کوئی بھی عور ت اپنے لباس پر مرد کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہی توجہ دیتی ہے اور اپنے لباس کی دھول داغ دھبوں یا کھروچ وغیرہ سے کچھ زیادہ ہی حفاظت کرتی ہے۔ اپنے لباس کو پھاڑنے یا تارتار کرنے کا تصور ہی اس کے دل کی دنیا کو درہم برہم کرسکتا ہے۔ اگر بیوی اپنے لباس ہی کی طرح اپنے شوہر کی پوری پوری توجہ کے ساتھ دیکھ بھال کرے ، اپنی بدکلامی یا اپنی تلخ کلامی ، اپنی بدتمیزی یا بے رخی کے ذریعے مرد کے دل کو تار تار نہ کرے تو عورت ہی کی زندگی خوشگوار اور محبت کی خوشبو سے معطر ہوجائے گی۔ وہ بیوی کیسی لگتی ہوگی جو خود ہی اپنے لباس کو میلا، گندہ کردے، اپنے لباس کو پھاڑ پھاڑ ڈالے اوراس کے جسم پر بہترین زینت وزیبائش والے لباس کی جگہ چیتھڑے جھول رہے ہوں؟ کیا کوئی بھی عورت اس طرح کی بدحالی کو برداشت کرسکتی ہے ؟ لیکن کتنی ہی عورتیں ہوتی ہیں جنھیں اپنی بدحالی کی خبر ہی نہیں ہوتی۔ کیونکہ وہ حقیقت کے آئینے میں اپنے آپ کو کبھی دیکھتی ہی نہیں اور نہ انھیں کسی طرح کی شرمندگی کا احساس ہی ہوتا ہے۔ صاحبِ قرآن محمد مصطفیﷺکی زوجہ محترمہ اْم المومنین خدیجہؓ کی ازدواجی زندگی میں ہر کسی کیلئے بہترین نمو نہ ہے۔ یہ وہ نمونہ ہے جس کو صاحب عرش نے نہ صرف یہ کہ پسند فرمایا اور شرف قبولیت بخشا بلکہ اپنی پسند اور شرف قبولیت کو دنیا والوں پر ظاہر بھی فرما دیا۔صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام نبی کریمﷺ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے اللہ کے رسولﷺ ! یہ خدیجہؓ تشریف لارہی ہیں۔ ان کے پاس ایک برتن ہے جس میں سالن یا کھانا یا کوئی مشروب ہے۔ جب وہ آپ ﷺ کے پاس آپہنچیں تو آپ ﷺ انھیں ان کے رب کی طرف سے سلام کہیں اور جنت میں موتی کے ایک محل کی بشارت دیں جس میں نہ شور وشغب ہوگا نہ درماندگی اور تکان۔یہ درجہ اْم المومنین کو صرف اور صرف اس لیے ملا کہ تبلیغ اسلام کے سلسلے میں آپ ﷺ پر جب مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے، دل پاش پاش ہوجاتا تو آپﷺ کو اْم المومنین حضرت خدیجہ ؓ کی معیت میں سکون واطمینان ملتا، راحت ملتی، چین ملتا اور یہ ’’لِتَسکْنْوا اِلَیہَا‘‘ کی بہترین تفسیر ہوتی۔ اْم المومنین حضرت خدیجہؓ اپنے والہانہ تعلق خاطر کے ذریعے ’’مودۃ ورحمۃ‘‘ کی جیتی جاگتی تصویر بھی تھیں۔ ہر عقد کے موقع پر دعا ہوتی ہے کہ ’’اے اللہ! اس نئے شادی شدہ جوڑے کے درمیان ایسی ہی الفت رکھ دے جیسی الفت سیدنا محمد مصطفیﷺ اور حضرت خدیجہؓ کے درمیان رکھی تھی۔٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
ایل نینو کی واپسی

ایل نینو کی واپسی

کیا پاکستان شدید موسموں کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے؟دنیا ایک بار پھر ایک ایسے موسمی رجحان کے اثرات کی طرف بڑھ رہی ہے جس نے ماضی میں کئی ممالک کو شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور قدرتی آفات سے دوچار کیا تھا۔ عالمی موسمیاتی ادارے (WMO) نے خبردار کیا ہے کہ ایل نینو نامی موسمیاتی نظام دوبارہ فعال ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف خطوں میں موسم کے معمولات بری طرح متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جو اس عالمی موسمیاتی تبدیلی کے زیر اثر آ سکتے ہیں۔ایل نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے لیکن موجودہ دور میں بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ اس کے اثرات کو مزید شدید بنا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارے مسلسل حکومتوں اور عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت کر رہے ہیں۔ایل نینو کیا ہے ؟ایل نینو(El Niño) بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصوں میں سمندر کے پانی کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کو کہا جاتا ہے۔ جب سمندر کا پانی معمول سے زیادہ گرم ہو جاتا ہے تو دنیا بھر میں ہوا کے دباؤ، بارشوں کے نظام اور درجہ حرارت کے توازن میں تبدیلی آتی ہے۔یہ رجحان عام طور پر ہر چند سال بعد نمودار ہوتا ہے اور کئی مہینوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ اس دوران بعض علاقوں میں شدید بارشیں اور سیلاب آتے ہیں جبکہ دیگر خطوں میں خشک سالی اور گرمی کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ اگرچہ ایل نینو ایک قدرتی عمل ہے لیکن موسمیاتی تبدیلی کے باعث اس کے اثرات پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔پاکستان کیلئے ممکنہ خطراتپاکستان کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ عالمی کاربن اخراج میں پاکستان کا حصہ نہایت کم ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ملک شدید گرمی کی لہروں، غیر معمولی بارشوں، گلیشیئرز کے پگھلاؤ اور تباہ کن سیلابوں کا سامنا کر چکا ہے۔ایل نینو کی صورت میں پاکستان میں مون سون بارشوں کا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق اس رجحان کے دوران جنوبی ایشیا کے کئی علاقوں میں بارشیں معمول سے کم ہو جاتی ہیں جس سے پانی کی قلت اور زرعی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب بعض خطوں میں اچانک اور شدید بارشوں کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے، جو سیلابی صورتحال کو جنم دے سکتا ہے۔ جنوبی پنجاب،سندھ اور بلوچستان جیسے علاقے پہلے ہی پانی کی کمی اور شدید گرمی کا سامنا کرتے ہیں۔ اگر ایل نینو کے باعث درجہ حرارت مزید بڑھتا ہے تو ان علاقوں میں خشک سالی کے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں میں بجلی کی طلب بڑھنے سے توانائی کا بحران بھی شدت اختیار کر سکتا ہے۔زراعت اور معیشت پر اثراتپاکستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے۔ چاول، کپاس، گندم اور گنے جیسی فصلیں موسمی حالات پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں۔ اگر بارشوں کے نظام میں تبدیلی آتی ہے یا گرمی کی شدت غیر معمولی حد تک بڑھ جاتی ہے تو زرعی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔پانی کی قلت نہ صرف فصلوں بلکہ مویشیوں کے شعبے کے لیے بھی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ زرعی پیداوار میں کمی کا براہ راست اثر خوراک کی قیمتوں پر پڑتا ہے جس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موسمیاتی ماہرین کسانوں کو جدید زرعی طریقوں اور پانی کے بہتر استعمال کی طرف توجہ دینے کا مشورہ دے رہے ہیں۔عالمی سطح پر بھی ایل نینو غذائی اجناس کی پیداوار کو متاثر کر سکتا ہے جس کے نتیجے میں بین الاقوامی منڈیوں میں قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ ایسے حالات پاکستان جیسے درآمدی ضروریات رکھنے والے ممالک کے لیے معاشی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔صحت اور زندگی کیلئے چیلنجزشدید گرمی کی لہریں انسانی صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔ پاکستان میں ہر سال گرمی کے موسم میں ہیٹ سٹروک اور پانی کی کمی کے واقعات سامنے آتے ہیں۔ اگر ایل نینو کے باعث درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔اس کے علاوہ شدید بارشیں اور سیلاب مختلف متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔ صحت کے شعبے کو ان ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر پیشگی منصوبہ بندی کی ضرورت ہوگی۔ تیاری اور احتیاط موسمیاتی خطرات سے مکمل طور پر بچنا ممکن نہیں لیکن بہتر منصوبہ بندی سے نقصانات کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کو موسمیاتی نگرانی کے نظام، ارلی وارننگ سسٹمز اور آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہوگا۔زرعی شعبے میں پانی بچانے والی ٹیکنالوجی، بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے منصوبے اور موسمی پیش گوئیوں کی بنیاد پر کاشتکاری کے طریقوں کو فروغ دینا ہوگا۔ اسی طرح شہری علاقوں میں درخت لگانے، پانی کے ضیاع کو روکنے اور توانائی کے متبادل ذرائع اختیار کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ایل نینو کی متوقع واپسی صرف ایک موسمی خبر نہیں بلکہ ایک ایسا انتباہ ہے جس کے اثرات پاکستان کے ماحول، معیشت، زراعت اور عوامی زندگی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ اس کے حتمی اثرات کا اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے لیکن عالمی اداروں کی وارننگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آنے والے مہینوں میں غیر معمولی موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ایسے میں حکومت، متعلقہ اداروں اور عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ موسمیاتی تبدیلی کے اس دور میں بروقت تیاری ہی مستقبل کے نقصانات کو کم کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔

تہذیبوں میں مکالمے کا عالمی دن

تہذیبوں میں مکالمے کا عالمی دن

امن اور باہمی احترام کی ضرورتدنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، ذرائع ابلاغ اور گلوبلائزیشن نے مختلف ممالک، ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان فاصلے کم کر دیے ہیں۔ آج مختلف پس منظر کے حامل لوگ ایک دوسرے کے ساتھ نہ صرف رابطے میں ہیں بلکہ تجارت، تعلیم، کاروبار، سیاحت اور دیگر شعبوں میں مسلسل تعاون بھی کر رہے ہیں۔ تاہم اس قربت کے باوجود دنیا کو تعصب، نفرت، نسلی امتیاز اور ثقافتی تنازعات جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ انہی چیلنجز کے پیشِ نظر اقوامِ متحدہ نے 10 جون کوInternational Day for Dialogue among Civilization کے طور پر منانے کا اعلان کیا تاکہ مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان افہام و تفہیم، احترام اور تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔تہذیبوں کے درمیان مکالمے کی اہمیتانسانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مختلف تہذیبوں کے درمیان رابطے اور تبادلہ خیال نے ترقی کی نئی راہیں کھولی ہیں۔ علم، ادب، فنونِ لطیفہ، سائنس اور فلسفے کے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت مختلف معاشروں کے باہمی تعامل کا نتیجہ رہی ہے۔ جب قومیں ایک دوسرے کے تجربات اور خیالات سے استفادہ کرتی ہیں تو نہ صرف علم میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ باہمی اعتماد بھی فروغ پاتا ہے۔تہذیبوں میں مکالمہ مختلف ثقافتی اور فکری پس منظر رکھنے والے افراد اور معاشروں کے درمیان تعمیری گفتگو کا نام ہے۔ اس کا مقصد اختلافات کو ختم کرنا نہیں بلکہ انہیں سمجھنا اور ان کے باوجود باہمی احترام کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔آج دنیا کو متعدد سماجی اور ثقافتی چیلنجز درپیش ہیں۔ نسلی امتیاز، ثقافتی تعصبات، انتہا پسندانہ رویے، پناہ گزینوں کے مسائل اور نفرت انگیز بیانیے عالمی سطح پر تشویش کا باعث ہیں۔ ایسے مسائل صرف سیاسی یا قانونی اقدامات سے مکمل طور پر حل نہیں ہو سکتے بلکہ مختلف معاشروں کے درمیان اعتماد سازی اور مسلسل مکالمہ بھی ضروری ہے۔جب لوگ ایک دوسرے کی تاریخ، ثقافت اور نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو غلط فہمیاں کم ہوتی ہیں اور تنازعات کے امکانات بھی محدود ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے مکالمے کو امن کے قیام کا ایک مؤثر ذریعہ قرار دیتے ہیں۔پاکستان میں تہذیبی ہم آہنگی پاکستان ایک متنوع معاشرہ ہے جہاں مختلف زبانیں، ثقافتیں اور علاقائی روایات پائی جاتی ہیں۔ پنجابی، سندھی، پشتون، بلوچ، سرائیکی، کشمیری اور دیگر ثقافتی اکائیاں ملک کی اجتماعی شناخت کو مضبوط بناتی ہیں۔ اس تنوع کو مثبت انداز میں قبول کرنا قومی یکجہتی اور سماجی استحکام کے لیے ضروری ہے۔پاکستان میں تعلیمی ادارے، سماجی تنظیمیں اور ذرائع ابلاغ مختلف ثقافتوں کے درمیان احترام اور ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر نوجوان نسل کو برداشت، احترامِ اختلاف اور مکالمے کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے تو زیادہ پُرامن اور متحد معاشرے کی تشکیل ممکن ہے۔نوجوانوں اور میڈیا کا کردارڈیجیٹل دور میں نوجوان نسل اور میڈیا معاشرتی رویوں کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا مختلف معاشروں کو قریب لانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے لیکن اس کا غیر ذمہ دارانہ استعمال نفرت اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کا سبب بھی بنتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان اور میڈیا مثبت گفتگو، تحقیق پر مبنی معلومات اور تعمیری خیالات کو فروغ دیں۔ ثقافتی تبادلوں، آن لائن مباحثوں اور تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعے مختلف معاشروں کے درمیان بہتر روابط قائم کیے جا سکتے ہیں۔تہذیبوں کے مابین مکالمے کا بین الاقوامی دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اختلافات انسانی معاشروں کا فطری حصہ ہیں لیکن ان اختلافات کو تصادم کے بجائے مکالمے کے ذریعے حل کرنا ہی دانشمندی ہے۔ موجودہ دور میں امن، ترقی اور سماجی ہم آہنگی کے لیے ضروری ہے کہ مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان احترام، برداشت اور تعاون کو فروغ دیا جائے۔ یہی اس عالمی دن کا بنیادی مقصد ہے اور یہی ایک بہتر، محفوظ اور پُرامن دنیا کی ضمانت بھی۔

آج کا دن

آج کا دن

فریڈرک بارباروسا کی موت 10 جون 1190ء کورومی سلطنت کا شہنشاہ فریڈرک اول جو بارباروسا کے نام سے مشہور تھا تیسری صلیبی جنگ کے دوران دریائے سیلیف (موجودہ ترکی) عبور کرتے ہوئے ڈوب گیا۔ یہ واقعہ قرونِ وسطیٰ کی تاریخ کا ایک نہایت اہم موڑ سمجھا جاتا ہے۔ بارباروسا اس وقت یورپ کے طاقتور ترین حکمرانوں میں شمار ہوتا تھا۔اس کی فوج ہزاروں سپاہیوں پر مشتمل تھی اور یورپ سے مشرقِ وسطیٰ کی طرف پیش قدمی کر رہی تھی تاہم دریائے سیلیف کو عبور کرتے ہوئے وہ پانی کے تیز بہاؤ کا شکار ہو گیا اور ڈوب کر ہلاک ہوگیا۔ اس کی اچانک موت نے صلیبی فوج کے حوصلے شدید متاثر کیے۔ بہت سے سپاہی واپس لوٹ گئے جبکہ باقی منتشر ہو گئے۔ سیلم وِچ ٹرائلز10 جون 1692ء کو بریجٹ بشپ نامی عورت کو امریکی نوآبادیاتی تاریخ کے مشہور سیلم وِچ ٹرائلز (Salem witch trials) کے دوران پھانسی دی گئی۔ وہ اس سلسلے میں سزائے موت پانے والی پہلی شخص تھی۔یہ مقدمات میساچوسٹس کی نوآبادی میں اس وقت شروع ہوئے جب چند نوجوان لڑکیوں نے دعویٰ کیا کہ وہ جادو کے اثر میں ہیں۔ اس کے بعد خوف اور افواہوں کا ایسا ماحول پیدا ہوا کہ تقریباً دو سو افراد پر جادوگری کے الزامات لگائے گئے۔ ان میں سے متعدد افراد کو قید کیا گیا اور بیس افراد کو موت کی سزا دی گئی۔بعد ازاں مؤرخین نے اس واقعے کو اجتماعی خوف، مذہبی انتہاپسندی اور عدالتی غلطیوں کی ایک مثال قرار دیا۔ اٹلی دوسری جنگِ عظیم میں شامل 10 جون 1940ء کو اٹلی کے آمر مسولینی نے برطانیہ اور فرانس کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا اور یوں اٹلی باضابطہ طور پر دوسری جنگِ عظیم میں شامل ہو گیا۔ اس وقت جرمنی یورپ میں تیزی سے کامیابیاں حاصل کر رہا تھا اور مسولینی کو یقین تھا کہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور اٹلی کو بھی فتح کے ثمرات حاصل ہوں گے۔جنگ میں شمولیت کے بعد اٹلی نے شمالی افریقہ، بحیرہ روم اور یورپ کے مختلف محاذوں پر کارروائیاں شروع کیں تاہم اٹلی کی فوجی تیاری جرمنی کے مقابلے میں کمزور تھی اور اسے متعدد محاذوں پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد میں جرمنی کو اپنے اتحادی کی مدد کے لیے کئی علاقوں میں مداخلت کرنا پڑی۔ اورادورسرگلان قتلِ عام 10 جون 1944ء کو فرانس کے گاؤں اورادورسرگلان (Oradour-s ur-Glane) میں دوسری جنگِ عظیم کے دوران جرمن فوجیوں نے ایک ہولناک قتلِ عام کیا۔ اس واقعے میں 642 شہریوں کو قتل کر دیا گیا۔گاؤں کو گھیر کر تمام لوگوں کو جمع کیا گیا۔ مردوں کو الگ کر کے گولیوں سے نشانہ بنایا گیا جبکہ خواتین اور بچوں کو ایک چرچ میں بند کر کے آگ لگا دی گئی۔ چند افراد ہی زندہ بچ سکے۔ یہ واقعہ نازی جرائم کی بدترین مثالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔جنگ کے بعد فرانسیسی حکومت نے گاؤں کے کھنڈرات کو اسی حالت میں محفوظ رکھا تاکہ آنے والی نسلیں اس سانحے کو یاد رکھ سکیں۔

مصنوعی ذہانت اور پانی کی کھپت

مصنوعی ذہانت اور پانی کی کھپت

اقوام متحدہ نے خبر دار کر دیامصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) نے حالیہ کچھ عرصے میں دنیا کو حیران کن رفتار سے بدل دیا ہے۔ تعلیم، طب، صنعت، تجارت، صحافت اور تحقیق سمیت زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں AI کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ تاہم اس ٹیکنالوجی کے فوائد کے ساتھ کچھ ایسے چیلنجز بھی سامنے آ رہے ہیں جن پر ابھی تک خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ حال ہی میں یونائیٹڈ نیشنز یونیورسٹی کے محققین کی ایک رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر AI کا پھیلاؤ اسی طرح جاری رہا تو 2030 ء تک اس سے وابستہ ڈیٹا سینٹرز اتنا پانی استعمال کر سکتے ہیں جو دنیا بھر کے انسانوں کیلئے مجموعی پینے کے پانی کی مقدار سے بھی زیادہ ہو گا۔ یہ پیشگوئی ماہرینِ ماحولیات، پالیسی سازوں اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کے لیے تشویش کا باعث بن گئی ہے۔مصنوعی ذہانت اور پانی کا تعلقعام طور پر جب ہم AI کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمارے ذہن میں کمپیوٹر، سافٹ ویئر اور جدید الگورتھمز آتے ہیں۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک مکمل ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ہے جس کا قدرتی وسائل سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔AI ماڈلز کو چلانے اور تربیت دینے کے لیے ہزاروں طاقتور سرورز پر مشتمل ڈیٹا سینٹرز درکار ہوتے ہیں۔ یہ سرورز مسلسل کام کرتے ہوئے بڑی مقدار میں حرارت پیدا کرتے ہیں۔ اس حرارت کو کم کرنے کے لیے جدید کولنگ سسٹمز استعمال کیے جاتے ہیں جن میں پانی ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مزید یہ کہ ان مراکز کو بجلی فراہم کرنے والے پاور پلانٹس بھی پانی استعمال کرتے ہیں جبکہ کمپیوٹر چپس کی تیاری میں بھی بڑی مقدار میں پانی درکار ہوتا ہے۔بڑھتی ہوئی طلب اور ماحولیاتی دباؤدنیا بھر میں AI کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے۔ روزانہ کروڑوں افراد مختلف AI ٹولز کے ذریعے سوالات پوچھتے ہیں، تصاویر بناتے ہیں، ویڈیوز تیار کرتے ہیں اور پیچیدہ ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہیں۔ ہر پرامپٹ کے پیچھے طاقتور کمپیوٹرز کی ایک وسیع دنیا کام کر رہی ہوتی ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اگر AI کے استعمال میں اسی رفتار سے اضافہ جاری رہا تو 2030 ء تک اس سے وابستہ انفراسٹرکچر کھربوں لیٹر پانی استعمال کر سکتا ہے۔ اگرچہ یہ ایک تخمینہ ہے لیکن اس سے مسئلے کی سنگینی کا اندازہ ضرور ہوتا ہے۔ٹیکنالوجی کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہر نئی ایجاد اپنے ساتھ فوائد اور نقصانات دونوں لاتی ہے۔ مصنوعی ذہانت بھی اس سے مختلف نہیں۔ ایک طرف AI بیماریوں کی تشخیص بہتر بنا رہی ہے، زرعی پیداوار میں اضافہ کر رہی ہے اور کاروباری کارکردگی کو بہتر بنا رہی ہے، تو دوسری طرف اس کے ماحولیاتی اثرات نئی بحث کو جنم دے رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف توانائی اور پانی کے مؤثر استعمال سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی ٹیکنالوجی زیادہ مؤثر اور سستی ہو جاتی ہے تو اس کا استعمال بھی کئی گنا بڑھ جاتا ہے، نتیجتاً مجموعی وسائل کی کھپت کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتی ہے۔ یہی رجحان AI کے معاملے میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔پانی کی کمی اور چیلنجپانی کی قلت پہلے ہی دنیا کے کئی ممالک کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں آبی وسائل پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ آبادی میں اضافہ، موسمیاتی تبدیلی، غیر مؤثر آبی انتظام اور زرعی ضروریات پانی کے بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ایسے حالات میں اگر عالمی سطح پر AI انفراسٹرکچر کی وجہ سے پانی اور توانائی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات بالواسطہ طور پر ترقی پذیر ممالک پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ بجلی کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب توانائی کی قیمتوں کو متاثر کر سکتی ہے جبکہ پانی کے وسائل کے بہتر انتظام کی ضرورت مزید بڑھ جائے گی۔کیا اس مسئلے کا حل موجود ہے؟خوش آئند بات یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اس چیلنج سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ دنیا کی کئی بڑی کمپنیاں ایسے ڈیٹا سینٹرز تیار کر رہی ہیں جو کم پانی استعمال کرتے ہیں۔ بعض مقامات پر سمندری پانی، ری سائیکل شدہ پانی اور جدید کولنگ ٹیکنالوجیز کو بھی آزمایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ توانائی کی بچت کرنے والے AI ماڈلز اور زیادہ مؤثر کمپیوٹر چپس پر بھی کام جاری ہے۔حکومتیں بھی ماحول دوست ڈیٹا سینٹرز کی حوصلہ افزائی کے لیے نئی پالیسیاں تشکیل دے سکتی ہیں۔ اگر صنعت، حکومت اور سائنسی ادارے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تو AI کی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان بہتر توازن قائم کیا جا سکتا ہے۔مصنوعی ذہانت بلاشبہ اکیسویں صدی کی سب سے اہم ٹیکنالوجی بن چکی ہے اور اس کے فوائد سے انکار ممکن نہیں تاہم اقوام متحدہ کی مذکورہ رپورٹ اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ ہر تکنیکی انقلاب کی ایک ماحولیاتی قیمت بھی ہوتی ہے؛چنانچہ AI کے بڑھتے استعمال کے ساتھ پانی، توانائی اور قدرتی وسائل کے تحفظ پر سنجیدگی سے غور کرنا ہو گا۔اصل سوال یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت کو روکا جائے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ اسے کس طرح اس انداز میں فروغ دیا جائے کہ انسانی ترقی کے ساتھ ساتھ زمین کے وسائل بھی محفوظ رہ سکیں۔ اگر آج سے منصوبہ بندی کی جائے تو AI مستقبل کی ترقی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے اور ماحول کے لیے خطرہ بننے سے بھی بچ سکتی ہے۔

بین الاقوامی یومِ آرکائیوز

بین الاقوامی یومِ آرکائیوز

قومی یاداشت کے تحفظ کا عالمی دنہر قوم کی تاریخ اس کی شناخت، ثقافت اور اجتماعی شعور کی بنیاد ہوتی ہے۔ ماضی کے واقعات، سرکاری دستاویزات، تاریخی تصاویر، اخبارات، نقشے، عدالتی ریکارڈز اور اہم شخصیات کے خطوط کسی بھی ملک کی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان قیمتی تاریخی ریکارڈز کو محفوظ رکھنے کے لیے آرکائیوز کا نظام قائم کیا جاتا ہے۔ اسی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے دنیا بھر میں ہر سال 9 جون کو بین الاقوامی یومِ آرکائیوز (International Archives Day) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد تاریخی اور سرکاری ریکارڈز کے تحفظ، ان کی افادیت اور مستقبل کی نسلوں کے لیے ان کی اہمیت کے بارے میں شعور بیدار کرنا ہے۔ یومِ آرکائیوز ، پس منظربین الاقوامی یومِ آرکائیوز پہلی بار 2008ء میں منایا گیا۔ اس تاریخ کا انتخاب اس لیے کیا گیا کیونکہ 9 جون 1948ء کو انٹرنیشنل کونسل آن آرکائیوز (ICA) کا قیام عمل میں آیا تھا۔ یہ ادارہ آرکائیوز کے تحفظ، ترقی اور پیشہ ورانہ معیار کو فروغ دینے کے لیے کام کرتا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک اس دن کو سیمینارز، نمائشوں، کانفرنسوں اور تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعے مناتے ہیں تاکہ لوگوں کو تاریخی دستاویزات کی اہمیت سے آگاہ کیا جا سکے۔آرکائیوز اور ان کی اہمیتآرکائیوز ایسے ریکارڈز اور دستاویزات کا منظم ذخیرہ ہوتے ہیں جنہیں تاریخی، قانونی، انتظامی یا ثقافتی اہمیت کی وجہ سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ ان میں سرکاری فائلیں، مردم شماری کے ریکارڈ، عدالتی فیصلے، تاریخی تصاویر، اخبارات، صوتی و بصری مواد اور اہم شخصیات کی تحریریں شامل ہوتی ہیں۔اگر آرکائیوز موجود نہ ہوں تو قومیں اپنے ماضی سے محروم ہو جا ہیں۔ تاریخ کے بہت سے اہم واقعات، حکومتی فیصلے اور سماجی تبدیلیاں صرف انہی محفوظ ریکارڈز کے ذریعے ہمارے علم میں آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک اپنے آرکائیوز کے تحفظ پر خصوصی توجہ دیتے ہیں اور انہیں قومی ورثے کا حصہ تصور کرتے ہیں۔پاکستان میں آرکائیوزپاکستان ایک ایسی ریاست ہے جس کی تاریخ برصغیر کی صدیوں پر محیط تہذیبی اور سیاسی روایات سے جڑی ہوئی ہے۔ تحریک پاکستان ، قراردادِ لاہور، تقسیمِ ہند اور قائداعظم محمد علی جناح کی سیاسی جدوجہد سے متعلق بے شمار تاریخی دستاویزات آج بھی قومی آرکائیوز میں محفوظ ہیں۔ یہ ریکارڈ نہ صرف محققین بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی قومی تاریخ کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔پاکستان میں قومی آرکائیوز، صوبائی ریکارڈ دفاتر، یونیورسٹی لائبریریاں اور تحقیقی ادارے اہم تاریخی مواد محفوظ کر رہے ہیں۔ تاہم اب بھی بہت سی قیمتی دستاویزات، مخطوطات اور مقامی تاریخ سے متعلق ریکارڈ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ آرکائیوز کے شعبے کو جدید تقاضوں کے مطابق مزید مضبوط بنایا جائے۔تعلیم، تحقیق اور شفافیت میں کردارآرکائیوز صرف پرانی دستاویزات کا ذخیرہ نہیں بلکہ علم اور تحقیق کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ یونیورسٹیوں کے طلبہ، اساتذہ، صحافی اور تاریخ دان تحقیق کے لیے انہی محفوظ ریکارڈز سے استفادہ کرتے ہیں۔ اصل دستاویزات کی موجودگی تحقیق کو مستند اور قابلِ اعتماد بناتی ہے۔اس کے علاوہ آرکائیوز جمہوری نظام میں شفافیت اور احتساب کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب سرکاری فیصلوں اور پالیسیوں کا ریکارڈ محفوظ ہوتا ہے تو عوام اور محققین ان کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ اس طرح حکومتی اداروں کی کارکردگی کا تجزیہ ممکن ہوتا ہے اور شفاف حکمرانی کو فروغ ملتا ہے۔ڈیجیٹل دور اور آرکائیوز کا مستقبلٹیکنالوجی کی ترقی نے آرکائیوز کے شعبے میں نئی جہتیں پیدا کی ہیں۔ آج دنیا کے بیشتر ممالک اپنے تاریخی ریکارڈز کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کر رہے ہیں۔ ڈیجیٹل آرکائیوز کے ذریعے قیمتی دستاویزات کو طویل عرصے تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے اور دنیا بھر کے محققین ان تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔پاکستان میں بھی اس سمت میں پیش رفت ہو رہی ہے، لیکن مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگر قومی اور صوبائی سطح پر آرکائیوز کی ڈیجیٹائزیشن کو تیز کیا جائے تو تاریخی ورثے کے تحفظ اور تحقیق و تعلیم کے مواقع میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ جدید دور میں صرف کاغذی ریکارڈ محفوظ رکھنا کافی نہیں، انہیں ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کرنا بھی ضروری ہے۔ چیلنجزآرکائیوز کو مختلف قسم کے چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے۔ نمی، آگ، سیلاب، زلزلے اور دیگر قدرتی آفات تاریخی دستاویزات کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اسی طرح مناسب وسائل، تربیت یافتہ عملے اور جدید آلات کی کمی بھی آرکائیوز کے تحفظ میں رکاوٹ بنتی ہے۔پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک میں مالی وسائل کی محدود دستیابی کے باعث آرکائیوز کے شعبے کو وہ توجہ نہیں مل پاتی جس کا وہ مستحق ہے۔ تاہم قومی تاریخ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے اس شعبے میں سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔بین الاقوامی یومِ آرکائیوز ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ آرکائیوز نہ صرف تاریخی دستاویزات کی حفاظت کرتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو اپنی شناخت، ثقافت اور قومی ورثے سے جوڑے رکھتے ہیں۔ ہماری تاریخ، تحریکِ پاکستان سے متعلق قیمتی ریکارڈز محفوظ رکھنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

چارلس ڈکنز کا انتقال9 جون 1870ء کو انگریزی ادب کے عظیم ناول نگار چارلس ڈکنز کا انتقال ہوا۔چارلس ڈکنز نے صنعتی انقلاب کے دور میں غربت، سماجی ناانصافی اور طبقاتی فرق کو اپنے ناولوں کا موضوع بنایا۔ ان کی مشہور تصانیف میں,Oliver Twist David Copperfieldاور A Tale of Two Citiesشامل ہیں۔ان کی تحریروں نے نہ صرف ادب کو متاثر کیا بلکہ سماجی اصلاحات کی تحریکوں کو بھی تقویت دی۔ ڈکنز کی وفات کے وقت وہ اپنے آخری ناولThe Mystery of Edwin Drood پر کام کر رہے تھے جو نامکمل رہ گیا۔نیرو کی خودکشی9 جون 68ء کو رومی سلطنت کے مشہور اور متنازع حکمران نیرو نے خودکشی کر لی۔ نیرو 54ء سے روم کا شہنشاہ تھا اور اسے تاریخ کے سب سے متنازع حکمرانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے دور میں فنونِ لطیفہ کو فروغ ملا لیکن ظلم، سیاسی مخالفین کے قتل اور عیش و عشرت کی وجہ سے اس کی شہرت خراب ہوئی۔64ء میں روم میں لگنے والی آگ کے بعد نیرو پر الزام لگایا گیا کہ اس نے شہر کو جلانے میں کردار ادا کیا، اگرچہ مؤرخین اس بارے میں متفق نہیں ہیں۔ بعد ازاں اس نے عیسائیوں کو اس آتش زدگی کا ذمہ دار ٹھہرا کر ان پر سخت مظالم ڈھائے۔ سینیٹ نے اسے عوام کا دشمن قرار دے دیا۔ گرفتاری اور ممکنہ ذلت آمیز سزا سے بچنے کے لیے نیرو نے روم کے قریب ایک مقام پر خودکشی کر لی۔ویانا کانگریس معاہدہ9 جون 1815ء کو یورپ کی تاریخ کے اہم ترین سفارتی واقعات میں سے ایک یعنی ویانا کانگریس کے حتمی معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ یہ کانگریس نپولین بوناپارٹ کی شکست کے بعد یورپ کے سیاسی نقشے کو دوبارہ ترتیب دینے کے لیے منعقد کی گئی تھی۔ اس میں آسٹریا، برطانیہ، روس، پروشیا(جرمنی)، فرانس، پرتگال اور سویڈن سمیت بڑی طاقتوں نے شرکت کی۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد یورپ میں طاقت کا توازن قائم کرنا اور مستقبل میں کسی ایک ریاست کو اتنا طاقتور نہ ہونے دینا تھا کہ وہ پورے براعظم کے امن کو خطرے میں ڈال سکے۔ کانگریس کے نتیجے میں متعدد سرحدیں تبدیل کی گئیں، کئی ریاستوں کو ازسرِ نو منظم کیا گیا اور فرانس کو واپس یورپی نظام کا حصہ بنایا گیا۔ جارجیا کا چارٹر9 جون 1732ء کو برطانیہ کے بادشاہ جارج دوم نے شمالی امریکہ میں جارجیا کالونی کے قیام کا شاہی چارٹر جاری کیا۔جارجیا برطانوی امریکہ کی تیرہویں اور آخری کالونی تھی۔ اس کے قیام کا مقصد غریب برطانوی شہریوں کو نئی زندگی فراہم کرنا اور ہسپانوی فلوریڈا کے خلاف ایک حفاظتی بفر قائم کرنا تھا۔کالونی کے بانی نے ابتدا میں سماجی اصلاحات متعارف کرانے کی کوشش کی۔ غلامی اور شراب نوشی پر پابندی لگائی گئی، اگرچہ بعد میں ان پابندیوں کو ختم کر دیا گیا۔جارجیا بعد میں امریکی انقلاب میں شامل ہونے والی کالونیوں میں سے ایک بنی اور آج امریکہ کی ایک اہم ریاست ہے۔براڈ پیک سر کی گئی9 جون 1957ء کو چار آسٹرین کوہ پیماؤں ، ہرمن بول، مارکس شمک، فرٹز ونٹرسٹیلر اور کرٹ ڈیمبرگر نے پہلی مرتبہ براڈ پیک کی چوٹی سر کی۔ براڈ پیک دنیا کا بارہواں بلند ترین پہاڑ ہے جس کی بلندی 8051 میٹر ہے اور یہ پاکستان اور چین کی سرحد کے قریب قراقرم کے سلسلے میں واقع ہے۔ 1950ء کی دہائی کو ہمالیہ اور قراقرم کی عظیم مہمات کا دور کہا جاتا ہے۔ اس زمانے میں دنیا کے کئی بلند ترین پہاڑ پہلی مرتبہ سر کیے جا رہے تھے براڈ پیک بھی ان میں شامل ہے۔یہ مہم اس لحاظ سے منفرد تھی کہ کوہ پیماؤں نے نسبتاً ہلکے سامان اور محدود وسائل کے ساتھ چوٹی سر کی۔ شدید سردی، برفانی طوفانوں اور آکسیجن کی کمی کے باوجود ان کوہ پیماؤں نے غیر معمولی ہمت اور مہارت کا مظاہرہ کیا۔