ازدواجی زندگی کو خوشگوار کیسے بنایا جائے ؟

ازدواجی زندگی کو خوشگوار کیسے بنایا جائے ؟

اسپیشل فیچر

تحریر : غلام حقانی


مرد وعورت اپنا کردار خوش اسلوبی سے نبھائیں تو ازدواجی زندگی باغ وبہار بن جاتی ہےتفریح طبع سے خاندان میں خوشگواری پیدا ہوتی ہے وقتاً فوقتاً مرد کو اس بات کا بھی خیال رکھنا اور اپنی استطاعت کے مطابق اہتمام کرنا چاہیےاپنی بیویوں کی ذات سے سکون میسر آنے کے باوجود جو مرد ان کے ساتھ محبت بھرا، پیار بھرا اور ہمدردانہ برتاؤ نہیں کرتے، کیا وہ اپنے مقصد حیات کو تار تار کرکے نہیں رکھ دیتے؟اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی منشاء سے واقف کروانے اور اپنی منشاء کے مطابق انسان سے عمل کروانے کیلئے ابتدائے آفرینش ہی سے ’’ہدایت‘‘ کا اہتمام فرمایا ہے اور اس مقصد کیلئے ہر زمانے اور ہر قوم میں انبیاء ورسل بھی بھیجے اور ان پر اپنے احکام پر مبنی صحیفے اور کتب بھی نازل فرمائیں۔ ہمارا زمانہ آخری زمانہ ہے۔ اسی لیے ہمارے لیے آخری نبی اور رسول خاتم النبیین اور خاتم المرسلین سیدنا محمد مصطفیﷺ کو مبعوث فرمایا اور ان پر خاتم الکتب قرآن مجید کو نازل فرمایا۔ اگر اس دور کے انسان کو اپنی تخلیق کا مقصد جاننا ہو، اس ارادے کے ساتھ کہ وہ اپنی تخلیق کے مقصد یا اپنے مقصدِ حیات کو ہر حال میں پورا کرے گا تو قرآن مجید اس کے لیے بہترین رہبر، بہترین ہدایت نامہ اور اس کے سفر زندگی کو پوری طرح روشن اور واضح کرنے والی کتاب ثابت ہوگی۔قرآن مجید ایک ایسی شاندار کتاب ہے جس میں دنیاوآخرت کے ہر پہلو کو پوری طرح سے اجاگر اور واضح کردیاگیا ہے۔ ضرورت غوروفکر اور تدبر کی ہے۔ قرآن مجید کے مضامین میں غوروفکر اور تدبر کرنے سے انسان کو اپنے مقصد حیات کے بارے میں سب کچھ معلوم ہوجائے گا۔ مثال کے طور پر شوہر اور بیوی کے تعلقات پر مبنی حسب ذیل آیات: سورۃ النساء کی آیت نمبر 34 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’مرد عورتوں پر قوام ہیں اس بنا پر کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں‘‘۔اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات بنائی اور سجائی انسان کیلئے اور خود انسان کو بنایا اپنے لیے، لیکن انسان کی پیدائش اور دنیا بسانے کا ذریعہ خود انسان ہی کو بنایا جیسا کہ سورۃ النساء کی پہلی ہی آیت میں واضح فرما دیاگیا ہے: ’’لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اْسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد وعورت دنیا میں پھیلا دیے‘‘۔یوں دنیا میں ہر رشتے سے پہلے شوہر اور بیوی کا رشتہ وجود میں آیا۔ اسی لیے یہ رشتہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ شوہر اور بیوی دراصل ایک دوسرے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ احسن الخالقین نے ازدواجی زندگی کا ایک بے حد خوبصورت اور مضبوط ڈھانچا بنایا ہوا ہے جس کے مطابق ازدواجی زندگی میں مرد وعورت دونوں کا اپنا مقام ہے۔ دونوں کی اپنی اپنی ذمے داری اوردونوں کا اپنا اپنا کردار ہے۔ جب مرد وعورت اپنی اپنی ذمے داری اپنا اپنا کردار خوش اسلوبی کے ساتھ نبھاتے ہیں تو ازدواجی زندگی نہایت خوشگوار بلکہ باغ وبہار بن جاتی ہے۔ کیوں کہ دونوں ہی اپنے اپنے مقصد حیات کو پورا کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن اگر دونوں یا دونوں میں سے کوئی اپنی ذمے داری نہ نبھائے تو وہ اپنے مقصد حیات کی خلاف ورزی کر رہا ہوتا ہے، جس کا لازمی نتیجہ دو طرح کی تباہی ہے۔ دنیوی بھی اور اخروی بھی۔ اسی لیے یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شوہر اور بیوی کے لیے کس کس طرح کا کردار پسند فرمایا ہے اور دونوں کو کیا کیا ذمے داریاں سونپی ہیں۔سورۃ النساء کی آیت نمبر34 میں اللہ تعالیٰ نے شوہروں کے کردار اور ذمے داریوں کو صرف ایک لفظ ’’قوام‘‘ میں سمو دیا ہے۔ شوہر ’’قوام‘‘ ہونے کے ناتے اپنے خاندان کے معاملات کو، جس کا اہم ترین حصہ بیوی ہوتی ہے، درست حالت میں چلانے، خاندان کی حفاظت ونگہبانی کرنے اور خاندان کی ساری ضرورتیں پوری کرنے کا ذمے دار ہوتا ہے۔ مرد کا عورتوں پر قوام ہونا ایک فطری عمل ہے۔ اسی لیے دنیا کے صرف مہذب طبقوں ہی میں نہیں بلکہ جاہل اور جنگلی طبقوں میں بھی مرد ہی کو ہمیشہ قوام کا درجہ ملا ہے۔ نئی تہذیب کے بگڑے ہوئے لوگ اور بعض غیر اہم قبائل اس سے مستثنیٰ ہوسکتے ہیں۔نبوت کا تیرہواں سال تھا۔ ہمارے آقا محمد مصطفی ﷺ ابھی مکہ مکرمہ ہی میں تھے۔ حج کے موقع پر سترہ سے زیادہ افراد کا وفد مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ آیا اور انھوں نے اصرار کیا کہ آپ ﷺمدینہ ہجرت فرمائیں۔ اس ضمن میں اس وفد سے چند اہم امور پر بیعت لی گئی۔ اس بیعت کی آخری دفعہ کے تعلق سے سرورِ عالمﷺنے فرمایا: ’’میں تم سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم اس چیز سے میری حفاظت کروگے جس سے اپنے بال بچوں کی حفاظت کرتے ہو‘‘۔ اس پر حضرت براءؓ بن معرور نے آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑا اور کہا: ’’ہاں، اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو نبی برحق بناکر بھیجا ہے ہم یقینا اس چیز سے آپ ﷺ کی حفاظت کریں گے جس سے اپنے بال بچوں کی حفاظت کرتے ہیں‘‘۔یہاں تو جہ طلب بات یہ ہے کہ مدینہ منورہ کے باشندوں کو جو نئے نئے اسلام کی آغوش میں چلے آئے تھے، یہ بات پہلے ہی سے معلوم تھی کہ مرد اپنی بیوی بچوں کی جان، مال اور ناموس کی حفاظت کے ذمے دار ہوتے ہیں، کسی مذہبی قانون کی بنا پر نہیں بلکہ بالکل فطری طور پر۔ اس ذمے داری کے علاوہ مرد پر، ’’قوام‘‘ ہونے کی حیثیت سے اور بھی ذمے داریاں عائد ہوتی ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں:(1)گرمی، سردی، بارش اور موسمی اثرات، چوروں، غنڈوں سے حفاظت کیلئے اور اپنے آپ کو محفوظ تصور کرتے ہوئے سکون واطمینان حاصل کرنے کیلئے اپنی استطاعت کے مطابق وہ ایک مکان فراہم کرے۔(2)اپنی استطاعت کے مطابق کھانے پینے کا بندوبست کرے۔ اکثر یہ ذمے داری دو حصوں میں بانٹی جاتی ہے، کھانے پینے کا سامان فراہم کرنے کی ذمے داری مرد پر اور پکوان کی ذمے داری عورت پر۔(3)اپنی استطاعت کے مطابق بیوی بچوں کے لئے لباس کا بندو بست کرے۔ لباس کا بندوبست کرتے ہوئے نہ مرد بخل سے کام لے اور نہ عورت مرد کی استطاعت سے بڑھ کر فرمائش کرے۔(4)بیماریوں سے بچنے کیلئے جو بھی احتیاطی تدابیر ممکن ہوں، اختیار کرے۔ بیوی بچوں میں سے کوئی بھی بیمار پڑجائے تو علاج معالجے میں کسی طرح کی بے پروائی نہ برتے۔(5) مرد وعورت سماج کا حصہ ہوتے ہیں۔ اسی لیے وہ اپنی بیوی بچوں کو، حسب استطاعت، اس حال میں رکھے کہ انھیں سماج میں شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔(6) تفریح طبع سے خاندان میں خوشگواری پیدا ہوتی ہے۔ وقتاً فوقتاً مرد کو اس بات کا بھی خیال رکھنا اور اپنی استطاعت کے مطابق اہتمام کرنا چاہیے۔(7)بچوں کی تعلیم وتربیت مرد وعورت دونوں کی ذمے داری ہے لیکن تعلیم کے سارے اخراجات کی ذمے داری مرد پر ہوگی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہر وہ ذمے داری جس میں مال خرچ کیا جاتا ہے یہ فرماکر مرد کو سونپ دی کہ ’’اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں‘‘۔ اگر کوئی مرد استطاعت کے باوجود جان بوجھ کر اپنے اس منصب ’’قوام‘‘ کو نہ نبھائے تو وہ اسلامی آئین، اسلامی قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب اوراللہ تعالیٰ کی ناراضی کا مستحق ہوجاتا ہے اور اخلاقی اعتبار سے انسانیت سے خارج بھی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے مرد کو خاندان میں ’’قوام‘‘ کا منصب عطا فرمایا اور خاندان کی دیکھ بھال کی ساری ذمے داری اْس کو سونپ دی۔ اسی لیے خاندانی امور کو خوش اسلوبی کے ساتھ چلانے کے لیے مرد کا حکم مانا جائے گا۔ اپنا فرض یا ڈیوٹی نبھانے کے لیے، محکومیت کے طور پر نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کے فرائض کی ادائی کے تعلق سے بھی سورۃ النساء کی اس آیت میں اپنی منشاء اور مرضی کو یوں ظاہر فرمایا ہے:’’پس صالح عورتیں فرماں بردار ہوتی ہیں اور مردوں کے غیاب میں، اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور نگرانی میں اْن کے (شوہروں کے) حقوق کی حفاظت کرتی ہیں‘‘۔یہاں قرآن حکیم کایہ اعجاز توجہ طلب ہے کہ عورتوں کو براہ راست یہ حکم نہیں دیاگیا کہ شوہروں کی فرماں برداری کریں، شوہروں کی اطاعت شعار بن کر رہیں بلکہ یہی بات عورتوں تک پہنچانے کیلئے ایک انتہائی موثرکن اسلوب اختیار کیاگیا، وہ یہ کہ اگر عورتیں صالحات ہوں گی تو یقینا اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، ربوبیت ،الوہیت اور اللہ تعالیٰ کی ہمہ گیر حاکمیت ان کے دلوں میں جاگزیں ہوگی۔ اللہ کے رسولوں ، اللہ کی کتابوں، اللہ کے فرشتوں، یوم آخرت، دوزخ اور جنت کے تعلق سے ان کاایمان مستحکم ہوگا اوراسی بنا پر وہ اپنی زندگی کے ہر ہر شعبے میں اللہ تعالیٰ کے احکام کو بجا لانے میں کسی بھی قسم کی بے پروائی او رغفلت کو بالکل بھی جگہ نہیں دیں گی۔ بلکہ ہر دم اور ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کی منشاء اور مرضی ہی کو مقدم رکھتی ہوں گی تو ایسی عورتوں کیلئے یہ سمجھ لینا بالکل بھی دشوار نہیں ہوگا کہ شوہر کی فرماں برداری ، شوہر کی اطاعت شعاری بھی اللہ تعالیٰ کی منشاء و مرضی ہی میں شامل ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کی اطاعت گزاری سے ایمان کی لذت ، سکون واطمینان کی دولت اور دنیا وآخرت کی کامیابی نصیب ہوتی ہے، اُسی طرح اللہ تعالیٰ کی منشاء اور مرضی کو پورا کرنے کیلئے شرعی حدود کے اندر، اندر شوہر کی اطاعت و فرماں برداری سے بھی ایمان کی لذت، سکون و اطمینان کی دولت اور دنیا وآخرت کی کامیابی نصیب ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ فرماں بردار ی کسی کو حاکم اور کسی کو محکوم کا درجہ دینے کیلئے نہیں بلکہ خاندانی امور کو خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دینے کیلئے ہے اور ایک صحت مند خاندان ، صحت مند سماج کا ضامن ہوتا ہے۔یہ قرآن حکیم کا اعجاز ہے کہ سورۃ النساء کی آیت نمبر34کے صرف چند الفاظ کے ذریعے شوہر اور بیوی کے رشتے کے تعلق سے سارے رہنما نہ خطوط ، شوہر اور بیوی کے رشتے کے سارے مقتضیات اولوالالباب یا عقل مندوں کیلئے روز روشن کی طرح واضح کردیے گئے، جن پر عمل پیرا ہونا انتہائی خوش نصیبی اور دنیوی زندگی کو جنت نشان بنانے کیلئے کافی ہے اور آخرت میں جنت کے حصول کا ذریعہ بھی۔ اور اگر شوہر یا بیوی یا دونوں ہی اس آیت مبارکہ میں دیے ہوئے رہنمایانہ خطوط کو یکسر نظرانداز کردیتے ہیں، شوہر اور بیوی کے رشتے کے مقتضیات پر بالکل بھی عمل پیرا نہیں ہوتے تو وہ حقیقت میں اللہ عزوجل کی ’’عبادت‘‘ سے منھ موڑ رہے ہوتے ہیں، بلکہ انجانے میں شیطان کی ’’عبادت‘‘ کر رہے ہوتے ہیں۔ اس طرح اپنے مقصدِ حیات کو اپنے ہی ہاتھوں پامال کرتے ہوئے اپنے آپ کو انسانیت کے دائرے اور اولوالالباب یا عقلمندوں کی فہرست سے خارج کر رہے ہوتے ہیں۔(2)خالق کائنات نے شوہر اور بیوی کے رشتے کی جاذبیت اور ایک دوسرے کی جانب فطری میلان، فطری جھکاؤ اور ایک دوسرے کے لیے فطری ہمدردی کے راز پر سے سورۃ الروم کی آیت نمبر21 میں اس طرح پردہ اٹھایا ہے اور اس کو اپنی نشانی کا درجہ عطا فرمایا ہے:’’اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمھارے لیے تمھاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمھارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کردی‘‘۔ انسان کی تخلیق کے موقع پر ہی اللہ تعالیٰ نے یہ بات عورت کی فطرت میں رکھ دی کہ اس کی ذات سے مرد یعنی شوہر کو سکون و اطمینان حاصل ہو اور اسی طرح تخلیق ہی کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے مرد وعورت دونوں ہی کے درمیان محبت بھی رکھ دی ، رحمت وہمدردی اورلگائو کے جذبات بھی رکھ دیے۔ حتیٰ کہ کوئی بھی کسی دوسرے کی ذرا سی پریشانی سے خود بھی بے چین اور پریشان ہوجائے۔ اور یہ انسان کے لیے اتنی بڑی نعمتیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی نشانیوں میں شمار فرمایا۔ اگر مرد وعورت ازدواجی زندگی کے ان فطری قواعد کے مطابق اپنی زندگی گزارتے ہیں تو وہ اپنے مقصدِ حیات کی تکمیل کر رہے ہوتے ہیں جس کے باعث ان کی زندگی باغ وبہار بنی رہتی ہے۔ لیکن اس کے برخلاف اگر عورت مرد کے ساتھ کچھ ایسا برتائو اپناتی ہے کہ مرد کو عورت کی ذات سے سکون و اطمینان حاصل ہونے کی بجائے کوفت، جھنجھلاہٹ، تلخی اور کڑواہٹ سے دوچار ہونا پڑتا ہے تو یہ اسی بات کی واضح علامت ہے کہ عورت اپنی فطرت سے روگردانی کر رہی ہے اور اپنے مقصدِ حیات کو اپنے ہی ہاتھوں پامال و تباہ کر رہی ہے۔ اسی طرح مرد و عورت دونوں ہی کے درمیان محبت، رحمت اور ہمدردی کے جذبات نہیں پائے جاتے یا بہت ہی کم پائے جاتے ہیں یا کسی میں پائے جاتے ہیں کسی میں نہیں تو یہ بھی فطرت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے :’’ہم نے نے انسان کو بہت خوبصورت سانچے میں ڈھالا ہے یا ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا ہے‘‘۔ (سورہ التین:4)یعنی صورت بھی بہترین عطا کی اور سیرت بھی بہترین۔ لیکن مرد وعورت یا دونوں میں سے کوئی ایک اپنی من مانی کرکے، ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے احکامات، اللہ تعالیٰ کی تعلیمات سے روگردانی کرتے ہوئے اپنے آپ کو ’’اسفل سافلین‘‘ یعنی پستی کی انتہا میں پہنچادیتے ہیں اور اپنی زندگی کو دنیا ہی میں جہنم بنادیتے ہیں۔’’وہ خواتین جو اپنے شوہروں کے سکون کا باعث بننے کی بجائے ان کا سکون غارت کرکے رکھ دیتی ہیں اور اسی وجہ سے ان کی باہمی محبت اور رحمت بھی داؤ پر لگ جاتی ہے یا وہ مرد جن کو اپنی بیویوں کی ذات میں سکون میسر آنے کے باوجود بیویوں کے ساتھ محبت بھرا، پیار بھرا اور ہمدردانہ برتاؤ نہیں کرتے، کیا وہ اپنے مقصد حیات کو تار تار کرکے نہیں رکھ دیتے؟ پھر وہ عقلمندوں یا اولوالالباب کے زمرے میں یا انسانیت کی فہرست میں کس طرح شامل رہ سکتے ہیں؟ آئے دن جہیز کیسز میں اضافہ کیا ازدواجی زندگی کو منھ نہیں چڑا رہا ہوتا؟ اسلام نے تو مرد و عورت کو وہ سب کچھ دیا جس سے زندگی میں بہار لائی جاسکتی ہے۔ لیکن مسلم مرد اور مسلم عورت نے اسلام ہی سے منھ موڑ لیا اور اپنے آپ کو طاغوتی طوفان کے حوالے کردیا۔ اسلام پر ایک بڑا دھبا، انسانیت پر ایک بدنما داغ بن کر رہ گئے۔(3)احسن الخالقین نے شوہر او ربیوی کے باہمی رشتے کی اہمیت کو سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر187 کے چند الفاظ : ’’وہ تمھارے لباس ہیں اور تم ان کے لباس ہو‘‘۔کے ذریعے کس خوبصورتی کے ساتھ سمجھایا ہے اس کی مثال ملنی ناممکن ہے۔مرد اپنے لباس کو اپنے لیے باعثِ زینت اور اپنی شخصیت کا نکھار سمجھتے ہیں اسی لیے اپنے لباس کی پوری پوری توجہ کے ساتھ دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ کوشش کی جاتی ہے کہ لباس دھول، داغ دھبوں سے محفوظ رہے۔ لباس کو غلطی سے بھی ہلکی کھروچ تک نہ آنے پائے۔ لباس کو پھاڑنے یا تار تار کرنے کا تو تصور تک نہیں کیاجاتا۔ بل کہ لباس کو خوشبو میں بسایاجاتا ہے۔ لباس ہی کی طرح بیوی مرد کے لیے باعث زینت اور اس کی شخصیت کا نکھار ہوتی ہے اور اسی لیے پوری توجہ کے ساتھ دیکھ بھال کی حقدار بھی۔ مرد پر لازم ہے کہ اپنے لباس ہی کی طرح اپنی بیوی کو غیر ضروری شک وشبہ یا الزام تراشی کے داغ دھبوں اور دھول سے محفوظ رکھے۔ اپنی زبان یا اپنے کسی عمل سے بیوی کے دل پر ہلکی سی کھروچ تک نہ آنے دے۔ اپنے ظلم یا اپنی زیادتیوں کے ذریعے بیوی کے دل کو تار تار کرنے کا تصور تک نہ کرے۔ عورت کو ہمیشہ اپنی محبت کی خوشبو میں بسائے رکھے تو یہ عمل مرد ہی کیلئے نشان امتیاز ہوگا اور کامیاب ازدواجی زندگی کی علامت بھی اور اگر کوئی مرد ایسانہیں کرتا تو گویا وہ اپنا لباس خود ہی گندہ میلا کر بیٹھتا ہے ، خود ہی اپنے لباس کو پھاڑ پھاڑ کر تارتار کررہا ہوتا ہے۔ کسی بھی مرد سے پوچھیے کیا وہ ایسی بدحالی کو برداشت کر پائے گا؟ لیکن کتنے ہی مرد ہیں جو ایسی بدحالی کا شکار ہوجاتے ہیں اور انھیں احساس تک نہیں ہوتا۔عورت تو اپنے لباس کو اپنے لیے کچھ زیادہ ہی باعث زینت اور اپنی شخصیت کا نکھار سمجھتی ہے۔اسی لئے کوئی بھی عور ت اپنے لباس پر مرد کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہی توجہ دیتی ہے اور اپنے لباس کی دھول داغ دھبوں یا کھروچ وغیرہ سے کچھ زیادہ ہی حفاظت کرتی ہے۔ اپنے لباس کو پھاڑنے یا تارتار کرنے کا تصور ہی اس کے دل کی دنیا کو درہم برہم کرسکتا ہے۔ اگر بیوی اپنے لباس ہی کی طرح اپنے شوہر کی پوری پوری توجہ کے ساتھ دیکھ بھال کرے ، اپنی بدکلامی یا اپنی تلخ کلامی ، اپنی بدتمیزی یا بے رخی کے ذریعے مرد کے دل کو تار تار نہ کرے تو عورت ہی کی زندگی خوشگوار اور محبت کی خوشبو سے معطر ہوجائے گی۔ وہ بیوی کیسی لگتی ہوگی جو خود ہی اپنے لباس کو میلا، گندہ کردے، اپنے لباس کو پھاڑ پھاڑ ڈالے اوراس کے جسم پر بہترین زینت وزیبائش والے لباس کی جگہ چیتھڑے جھول رہے ہوں؟ کیا کوئی بھی عورت اس طرح کی بدحالی کو برداشت کرسکتی ہے ؟ لیکن کتنی ہی عورتیں ہوتی ہیں جنھیں اپنی بدحالی کی خبر ہی نہیں ہوتی۔ کیونکہ وہ حقیقت کے آئینے میں اپنے آپ کو کبھی دیکھتی ہی نہیں اور نہ انھیں کسی طرح کی شرمندگی کا احساس ہی ہوتا ہے۔ صاحبِ قرآن محمد مصطفیﷺکی زوجہ محترمہ اْم المومنین خدیجہؓ کی ازدواجی زندگی میں ہر کسی کیلئے بہترین نمو نہ ہے۔ یہ وہ نمونہ ہے جس کو صاحب عرش نے نہ صرف یہ کہ پسند فرمایا اور شرف قبولیت بخشا بلکہ اپنی پسند اور شرف قبولیت کو دنیا والوں پر ظاہر بھی فرما دیا۔صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام نبی کریمﷺ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے اللہ کے رسولﷺ ! یہ خدیجہؓ تشریف لارہی ہیں۔ ان کے پاس ایک برتن ہے جس میں سالن یا کھانا یا کوئی مشروب ہے۔ جب وہ آپ ﷺ کے پاس آپہنچیں تو آپ ﷺ انھیں ان کے رب کی طرف سے سلام کہیں اور جنت میں موتی کے ایک محل کی بشارت دیں جس میں نہ شور وشغب ہوگا نہ درماندگی اور تکان۔یہ درجہ اْم المومنین کو صرف اور صرف اس لیے ملا کہ تبلیغ اسلام کے سلسلے میں آپ ﷺ پر جب مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے، دل پاش پاش ہوجاتا تو آپﷺ کو اْم المومنین حضرت خدیجہ ؓ کی معیت میں سکون واطمینان ملتا، راحت ملتی، چین ملتا اور یہ ’’لِتَسکْنْوا اِلَیہَا‘‘ کی بہترین تفسیر ہوتی۔ اْم المومنین حضرت خدیجہؓ اپنے والہانہ تعلق خاطر کے ذریعے ’’مودۃ ورحمۃ‘‘ کی جیتی جاگتی تصویر بھی تھیں۔ ہر عقد کے موقع پر دعا ہوتی ہے کہ ’’اے اللہ! اس نئے شادی شدہ جوڑے کے درمیان ایسی ہی الفت رکھ دے جیسی الفت سیدنا محمد مصطفیﷺ اور حضرت خدیجہؓ کے درمیان رکھی تھی۔٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
مسجد صادق گڑھ پیلس

مسجد صادق گڑھ پیلس

مغل روایت اور عباسی وقار کی علامتریاستِ بہاولپور کے سنہرے دور کی یادگار عمارتوں میں صادق گڑھ پیلس کا نام نمایاں ہے مگر اس عظیم الشان محل کے مغربی گوشے میں واقع ایک چھوٹی سی پُر وقار مسجد اپنی خاموش عظمت کے ساتھ آج بھی تاریخ کی گواہی دیتی ہے۔1882ء سے 1895ء کے درمیان تعمیر ہونے والی یہ مسجد خاص طور پر عباسی شاہی خاندان، بالخصوص نواب امیر صادق محمد خان چہارم کے لیے بنائی گئی تھی جو 1866ء سے 1899ء تک تخت نشین رہے۔صادق گڑھ پیلس کا وسیع رقبہ تقریباً ایک ہزار میٹر شمالاً جنوباً اور 330 میٹرشرقاً غرباً پھیلا ہوا ہے۔ اس وسیع و عریض احاطے کے مقابلے میں مسجد کا حصہ بڑا مختصر ہے اور یہ مرکزی عمارت کے عین مغرب میں واقع ہے۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ عباسی دور کی کئی دیگر عمارتوں مثلاً قلعہ دراوڑ کی نسبت یہ مسجد آج بھی نسبتاً بہتر حالت میں ہے۔ وقت کی گرد ضرور چڑھی ہے مگر اس کا تاریخی وقار باقی ہے۔چونکہ یہ مسجد عوامی نہیں بلکہ شاہی خاندان کی نجی عبادت گاہ تھی اس لیے اس کی ساخت بھی سادہ مگر مزین ہے۔ یہ تین دروں والی مسجد ہے جس کے اوپر پیاز نما گنبد ایستادہ ہیں۔ اس مسجد کے نقشے میں مغلیہ دور کی دو مساجد کے اثرات نمایاں نظر آتے ہیں۔ پہلی ہے پشاور کی مہابت خاں مسجد، جس کے کنگرے دار محرابی دروازے، مربع نما داخلی پورٹل اور ابھار دار گنبد اس مسجد سے مشابہت رکھتے ہیں۔ دوسری ہے لاہور کی سنہری مسجد، جس کے بلند و بالا کونے دار مینار اس طرز کی یاد دلاتے ہیں۔یوں صادق گڑھ پیلس کی یہ مسجد مغل فنِ تعمیر کی بازگشت معلوم ہوتی ہے۔مغل روایت کا تسلسل اور عباسی شناختمغل سلطنت کے زوال کے باوجود اس کی تہذیبی و انتظامی روایت برصغیر کے مسلم ریاستوں کے لیے ایک مثالی نمونہ رہی۔ ممتاز مورخ کیتھرین بی ایشر کے مطابق اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں بھی مغل بادشاہت مسلم ثقافت کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ ریاستِ بہاولپور کے عباسی حکمران چونکہ مابعد مغلیہ ریاستوں میں خوشحال اور بااثر شمار ہوتے تھے اس لیے ان کے لیے مغل طرزِ تعمیر سے وابستگی اختیار کرنا فطری امر تھا۔محلات کی تعمیر میں اگرچہ یورپی طرز اور جدید مواد کا استعمال دیکھا جاتا ہے مگر مساجد کی تعمیر میں ایک طرح کی روایت پسندی غالب رہتی ہے۔ عبادت گاہ کو عموماً کلاسیکی اسلوب ہی میں ڈھالا جاتا ہے تاکہ روحانی وقار برقرار رہے۔ صادق گڑھ کی مسجد بھی اسی روایت کی امین ہے۔ایک ایسا بصری اشارہ کہ عباسی خاندان نے مغلیہ عظمت سے اپنی نسبت جوڑی اور اپنے اقتدار کو اسی تسلسل میں دیکھا۔تاہم یہ مسجد مکمل طور پر کلاسیکی مغل انداز کی نقل نہیں۔ ممتاز ماہرِ تعمیرات ایبّا کوخ کے مطابق مغل عہد کے آخری دور میں آرائش کا انداز زیادہ شگفتہ، پھول دار اور ابھری ہوئی اشکال پر مشتمل ہو گیا تھا۔ اسی رجحان کی جھلک صادق گڑھ کی مسجد میں نمایاں ہے۔اولاً اس کی سجاوٹ زیادہ تر سٹکو (Stucco) یعنی پلستر کی تہوں پر مشتمل ہے، جو اینٹوں پر چڑھائی گئی ہیں۔ دوم، اندرونی اور بیرونی دیواروں پر رنگین فریسکو پینٹنگز موجود ہیں جن میں بیل بوٹے، خم دار شاخیں، سرو کے درخت اور نباتاتی نقوش نمایاں ہیں۔ یہ آرائش نہایت دلکش مگر کسی قدر پر تکلف معلوم ہوتی ہے۔مزید برآں، سامنے کے برآمدے کے ستون اور پلاسٹر اپنی بنیادوں پر پھیلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جس سے ان کی شکل گول اور ابھری ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ بعض ستونوں کی بنیادیں یوں تراشی گئی ہیں جیسے وہ زمین سے اگتے ہوئے پھول ہوں‘ایک شاعرانہ تاثر، جو مغل دور کے آخری مرحلے کی تزئینی نفاست کو ظاہر کرتا ہے۔وقت کی دستبرد اور مرمت کی ضرورتاگرچہ سٹکو آرائش دیدہ زیب ہوتی ہے مگر یہ پتھر کی نسبت زیادہ نازک اور جلد متاثر ہونے والی ہے۔ اسی باعث مسجد کے کارنس (Cornice) کا بڑا حصہ جو پتوں کی قطار جیسا دکھائی دیتا تھا اب تقریباً معدوم ہو چکا ہے۔ عمارت کے ماتھے کے فریسکو مدھم پڑ چکے ہیں اور داخلی دروازے کے اطراف کے پلاسٹر کے نچلے حصے جھڑ چکے ہیں۔تاہم مسجد کی مجموعی ساخت سلامت ہے اور اگر بروقت مرمت، صفائی اور تحفظ کا اہتمام کیا جائے تو اس کے تاریخی حسن کو بڑی حد تک بحال کیا جا سکتا ہے۔ یہ محض اینٹ اور پلستر کی عمارت نہیں بلکہ ایک عہد کی تہذیبی علامت ہے، جس کی بقا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔صادق گڑھ پیلس کی یہ چھوٹی سی مسجد اپنے حجم میں مختصر مگر معنی میں وسیع ہے۔ یہ عباسی ریاست کی خوشحالی، مغلیہ روایت سے وابستگی اور مذہبی سنجیدگی کی عکاس ہے۔ اس کی محرابوں میں تاریخ کی بازگشت سنائی دیتی ہے اور اس کے گنبدوں میں ماضی کی شان جھلکتی ہے۔وقت کی رفتار بے رحم سہی مگر سنجیدہ اقدامات کیے جائیں تو یہ مسجد آئندہ نسلوں کے لیے بھی اسی شان سے قائم رہ سکتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنے ورثے کی قدر پہچاننے کو تیار ہیں؟

کم کارب یا کم چکنائی؟

کم کارب یا کم چکنائی؟

دل کی صحت کا اصل راز کچھ اور نکلادل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے برسوں سے ایک بحث جاری ہے کہ کیا کم کارب غذا بہتر ہے یا کم چکنائی والی خوراک؟ کبھی ماہرین کاربوہائیڈریٹس کو قصوروار ٹھہراتے ہیں تو کبھی چکنائی کو مگر حالیہ سائنسی تحقیق نے اس بحث کا رخ بدل دیا ہے۔ یہ تحقیق ہاورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کی زیر نگرانی کی گئی جس میں تقریباً دو لاکھ مرد و خواتین کو لگ بھگ تیس برس تک فالو کیا گیا۔ تحقیق کا دائرہ کار وسیع تھا اور52 لاکھ ''person-years‘‘ سے زائد ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ نتائج حیران کن تھے مگر سادہ بھی۔ اگر کم کارب یا کم چکنائی والی غذا صحت بخش اجزا پر مشتمل ہو تو وہ دل کے لیے فائدہ مند ہے لیکن اگر وہی غذا پراسیسڈ اور غیر معیاری اشیا پر مبنی ہو تو اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا۔گویا اصل سوال یہ نہیں کہ آپ کتنے کارب لیتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ کارب کہاں سے آرہے ہیں۔ اسی طرح چکنائی کی مقدار سے زیادہ اہم اس کی نوعیت ہے۔تحقیق کے مطابق جن افراد نے سبزیاں، پھل، دالیں، ثابت اناج، گری دار میوے اور صحت بخش چکنائی استعمال کیں ان میں دل کی بیماریوں کا خطرہ نمایاں حد تک کم دیکھا گیا۔ ان افراد میں:اچھے کولیسٹرول (HDL) کی سطح بہتر رہی،جسم میں سوزش کے اشاریے کم رہے،کورونری ہارٹ ڈیزیز کا خطرہ کم ہوا۔اس کے برعکس وہ افراد جو بظاہر کم کارب یا کم چکنائی والی غذا لے رہے تھے مگر ان کی خوراک میں ریفائنڈ آٹا، میٹھے مشروبات، فاسٹ فوڈ اور ٹرانس فیٹس شامل تھیں انہیں دل کی صحت کے حوالے سے کوئی واضح فائدہ حاصل نہ ہوا۔یہ نتائج اس روایتی سوچ کو چیلنج کرتے ہیں کہ صرف کارب یا چکنائی کم کر دینا ہی کافی ہے۔کم کارب بمقابلہ کم چکنائیگزشتہ دہائیوں میں کم کارب ڈائیٹ اور کم چکنائی والی غذا کے حامیوں کے درمیان خاصی گرما گرمی رہی ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ کاربوہائیڈریٹس موٹاپے اور ذیابیطس کی جڑ ہیں جبکہ دوسرا گروہ چکنائی کو دل کا دشمن قرار دیتا ہے۔مگر اس تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ اگر کم کارب غذا میں سبزیاں، دالیں اور صحت بخش پروٹین شامل ہوں تو وہ مفید ہے اور اگر کم چکنائی والی غذا میں مکمل اناج اور قدرتی اجزا ہوں تو وہ بھی دل کے لیے بہتر ثابت ہوتی ہے۔ یعنی اصل مقابلہ کم کارب بمقابلہ کم چکنائی کا نہیں بلکہ معیاری خوراک بمقابلہ غیر معیاری خوراک کا ہے۔دل کی صحت کیلئے کوئی جادوئی فارمولا موجود نہیں۔ نہ مکمل کارب ترک کرنا ضروری ہے نہ ہر قسم کی چکنائی سے خوف زدہ ہونا۔ اصل حکمت یہ ہے کہ خوراک قدرتی، متوازن اور کم سے کم پراسیسڈ ہو۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ صحت مند دل کا راستہ کچن سے ہو کر گزرتا ہے‘مگر اس شرط کے ساتھ کہ وہاں تازہ، سادہ اور معیاری اجزا استعمال ہوں۔

رمضان کے مشروب وپکوان:دال قیمے کے سموسے

رمضان کے مشروب وپکوان:دال قیمے کے سموسے

اجزاء:بھنا ہوا قیمہ ایک پیالی، مونگ کی دھلی دال آدھا پیالی، پیاز دو عدد درمیانی، سویا تین سے چار ڈنٹھل، ہری مرچیں تین سے چار عدد، سموسے کی پٹیاں حسب ضرورت، کوکنگ آئل حسب ضرورت۔ترکیب:دال کو دھو کر بیس سے پچیس منٹ کیلئے بھگو کر رکھ دیں۔ پھر اسے پانی سے نکال کر قیمے میں ڈالیں اور اچھی طرح بھون لیں۔ جب یہ مکسچر ٹھنڈا ہو جائے تو اس میں باریک کٹی ہوئی پیاز، نمک، باریک کٹی ہوئی ہری مرچیں اور سویا ڈال کر ملا لیں۔ سموسے کی پٹیوں سے تکونے سموسے بنا کر اس میں یہ مکسچر بھر دیں۔ آٹے کی لئی سے چپکا کر کوکنگ آئل میں سنہری فرائی کر لیں۔ ٹماٹر اور سیب کا جوس: وٹامنز اور آئرن کا مجموعہٹماٹر اور سیب کا جوس وٹامنز، آئرن اور فائبر سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس جوس کو تیار کرنے کے لیے چھلے ہوئے سیب اور ٹماٹر کو پانی، لیموں کے قطرے اور شہد کے ساتھ بلینڈ کریں۔ یہ مشروب نہ صرف لذیذ ہوتا ہے بلکہ یہ جسم کو ضروری غذائیت بھی فراہم کرتا ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!قوی خان ورسٹائل اداکار(2023-1942)

آج تم یاد بے حساب آئے!قوی خان ورسٹائل اداکار(2023-1942)

٭...محمد قوی خان 13 نومبر 1942ء کوشاہجہاں پور (ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔٭... قیام پاکستان کے بعد ان کے والدین نے پشاور کو اپنا مسکن بنایا اور وہیں قوی خان نے گورنمنٹ ہائی سکول سے اور پھر ایڈورڈ کالج سے تعلیم حاصل کی۔ ٭...سکول اور کالج کے ڈراموں میں حصہ لیتے تھے جس کی وجہ سے ریڈیو سے رغبت ہوئی اور تھیٹر کی طرف مائل ہوئے۔٭... 1952میں فنی زندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان پشاور سے بطور چائلڈ سٹارپروگرام ''ننھے میاں‘‘ سے کیا۔کئی سال تک اس پروگرام کے ساتھ وابستہ رہے۔٭... لاہور میں پاکستان ٹیلی ویژن کا آغاز ہوا تو انہیں اس کے پہلے ڈرامے ''نذرانہ‘‘ میں کام کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ براہ راست نشر ہونے والے اس ڈرامہ میں ان کے مقابل کنول نصیر نے مرکزی کردار نبھایا تھا۔٭...1964ء میں فلمی دنیا میں قدم رکھا اور فلم ''رواج‘‘ سے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ 35سال تک فلموں میں کام کیا ان کے کریڈٹ پر 250فلمیں ہیں۔٭...زیادہ تر معاون کرداروں میں نظر آئے ، مثبت اور منفی کرداروں میں جلوہ گر ہوئے ، اولڈ ، ولن اور کامیڈین کے طور پر بھی کردار نبھائے لیکن کبھی سولو ہیرو نہیں آئے۔٭... تادمِ مرگ ٹیلی وژن سے وابستہ رہے، یہ عرصہ لگ بھگ سات دہائیوں پر مشتمل ہے۔٭... سب سے زیادہ شہرت 1980ء کی دہائی میں نشر ہونے والے ڈرامے ''اندھیرا اجالا‘‘ سے ملی۔٭...1985ء کے غیرجماعتی انتخابات میں حصہ لیا ، کامیاب نہ ہوسکے۔٭... 1990ء کی دہائی میں ایک ڈرامے کیلئے مرزا غالب کا کردار بھی نبھایا اوراسے امرکردیا۔٭... بطور پروڈیوسر 13فلمیں بنائیں،کچھ فلمیں ڈائریکٹ بھی کیں جن میں پاسبان، اور روشنی وغیرہ شامل ہیں۔٭...1980 ء میں حکومت پاکستان کی طرف سے انہیں ''صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی‘‘ جبکہ 2012ء میں ''ستارہ امتیاز‘‘ سے نوازا گیا۔٭...5 مارچ 2023ء کو کینیڈا میں 80 سال کی عمر میں سرطان سے انتقال ہوا۔ میڈوویل قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔قوی خان کی مقبول فلمیں: محبت زندگی ہے ، ٹائیگر گینگ ، سوسائٹی گرل، سرفروش ، کالے چور، آج اور کل ، صائمہ، بیگم جان ، ناگ منی، رانگ نمبر ، انٹرنیشنل لٹیرے، سر کٹا انسان ، پری، قائداعظم زندہ باد ، چراغ کہاں روشنی کہاں ، پازیب، مسٹربدھو‘، بے ایمان ، منجی کتھے ڈاہواں ، نیلام، روشنی ، پہچان ، وطن ،جوانی دیوانی ، چوری چوری، محبت مر نہیں سکتی ۔مقبول ڈرامے: لاکھوں میں تین، دہلیز، الف نون، دورِ جنوں، اندھیرا اُجالا، انگار وادی، اُڑان، آشیانہ، سسر اِن لا، لاہوری گیٹ، مٹھی بھر مٹی، منچلے، مشعل، بیٹیاں، داستان، میرے قاتل میرے دلدار، پھر چاند پہ دستک، زندگی دھوپ تم گھنا سایہ، جو چلے تو جان سے گزر گئے، دُرِ شہوار، کلموہی، دو قدم دور تھے، حیا کے دامن میں، یہ عشق، سہیلیاں، نظرِ بد، الف اللہ اور انسان، خانی، آنگن، پرچھائیں، میراث۔

آج کا دن

آج کا دن

جوزف سٹالن کی وفات5 مارچ 1953ء کو سوویت یونین کے رہنما جوزف سٹالن کا انتقال ہوا۔ وہ 1920ء کی دہائی کے وسط سے سوویت سیاست کے مرکز میں رہے اور 1924ء میں لینن کی وفات کے بعد اقتدار پر مکمل گرفت حاصل کر لی۔ سٹالن کے دورِ حکومت کو صنعتی ترقی، سخت مرکزی کنٹرول اور سیاسی جبر کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ان کے دور میں سوویت یونین نے تیزی سے صنعتی ترقی کی، زراعت کو اجتماعی نظام کے تحت منظم کیا گیا اور ملک کو ایک بڑی فوجی طاقت میں تبدیل کیا گیا۔ دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی کے خلاف سوویت فتح میں بھی ان کا کردار اہم تھا۔ چرچل کی فولٹن تقریر 5 مارچ 1946ء کو برطانوی رہنما ونسٹن چرچل نے امریکہ کی ریاست میسوری کے شہر فولٹن میں ویسٹ منسٹر کالج میں ایک تاریخی تقریر کی جسے آئرن کرٹن (IronCurtain) تقریر کہا جاتا ہے۔ اس خطاب میں انہوں نے کہا کہ یورپ پرآہنی پردہ گر چکا ہے جو مشرقی یورپ کو سوویت اثر و رسوخ میں لے جا رہا ہے۔چرچل کی اس تقریر کو سرد جنگ کے آغاز کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے امریکہ اور برطانیہ کے درمیان قریبی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا تاکہ سوویت یونین کے پھیلتے ہوئے اثر کو روکا جا سکے۔ اس تقریر نے عالمی سیاست میں دو بلاکوں ،مغربی سرمایہ دارانہ اور مشرقی سوشلسٹ کی واضح تقسیم کو نمایاں کیا۔بوسٹن قتل عام5 مارچ 1967ء کو این بی اے کی تاریخ کے ایک بدنام زمانہ واقعے کو ''بوسٹن میساکر‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ باسکٹ بال ٹیموں کے درمیان کھیلے جانے والے میچ کے دوران پیش آیا۔میچ کے دوران کھلاڑیوں میں سخت جھگڑا شروع ہوا جو ہاتھا پائی تک جا پہنچا۔ اس واقعے نے این بی اے انتظامیہ کو سخت قوانین نافذ کرنے پر مجبور کیا تاکہ کھیل کے دوران تشدد پر قابو پایا جا سکے۔یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ کھیلوں میں مسابقت بعض اوقات جذباتی شدت اختیار کر لیتی ہے۔ ٹائیپولو کی وفات5 مارچ 1770ء کو اٹلی کے مشہور مصور جیوانی باتیستا ٹائیپولو کا انتقال ہوا۔ وہ اٹھارویں صدی کے نمایاں طرز کے فنکار تھے۔ ان کی پینٹنگز اپنی روشنی، رنگوں کی چمک اور ڈرامائی انداز کے لیے مشہور ہیں۔ٹائیپولو نے اٹلی، جرمنی اور سپین میں اہم شاہی عمارتوں اور گرجا گھروں کی تزئین کی۔ ان کے فن پارے مذہبی اور اساطیری موضوعات پر مبنی ہوتے تھے اور ان میں آسمانی مناظر اور وسیع فریسکو پینٹنگز نمایاں تھیں۔ان کی وفات کے بعد بھی یورپی فنِ مصوری پر ان کا اثر برقرار رہا۔ 1956اولمپکس5 مارچ 1956ء کو اٹلی کے شہر کورٹینا ڈی امپیزو میں منعقد ہونے والے سرمائی اولمپکس کی اختتامی تقریب منعقد ہوئی۔ یہ سرمائی اولمپکس یورپ میں جنگِ عظیم دوم کے بعد ہونے والے کھیلوں کے اہم مقابلوں میں سے ایک تھے۔ان میں دنیا بھر سے کھلاڑیوں نے حصہ لیا اور یہ کھیل سرد جنگ کے ماحول میں بھی بین الاقوامی ہم آہنگی کی علامت بنے۔ اس اولمپکس میں پہلی بار ٹیلی ویژن نشریات کے ذریعے کھیلوں کو وسیع پیمانے پر دکھایا گیا جس سے عالمی کھیلوں کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ سرمائی اولمپکس نے اٹلی کو ایک عالمی کھیلوں کے میزبان کے طور پر متعارف کرایا اور بعد ازاں بڑے عالمی ایونٹس کے انعقاد کی راہ ہموار کی۔

لودھی مسجد

لودھی مسجد

انتدائی اسلامی فن تعمیر کی نادریادگارضلع گوجر انوالہ کے تاریخی قصبے ایمن آباد میں واقع لودھی دور کی قدیم مسجد برصغیر میں اسلامی فنِ تعمیر کی ابتدائی روایت کی ایک نہایت اہم مثال ہے۔ یہ مسجد اپنی سادگی، قدامت اور منفرد تعمیراتی ساخت کے باعث تاریخی اور ثقافتی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ ماہرینِ فنِ تعمیر کے مطابق اس مسجد کی تعمیر پندرہویں صدی کے آخر یا سولہویں صدی کے اوائل میں لودھی دور (1451ء تا 1525ء) کے دوران ہوئی، جس سے یہ پاکستان میں قائم قدیم ترین مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ یہ ایک منزلہ مسجد ایمن آباد کے مشرقی حصے میں ایک چھوٹے حوض کے کنارے پر واقع ہے، جسے عہدِ جہانگیر سے منسوب کیا جاتا ہے۔ مسجد اور حوض کی باہمی قربت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ مقام نہ صرف عبادت بلکہ سماجی و مذہبی سرگرمیوں کا بھی مرکز رہا ہوگا۔ قدیم اسلامی روایت کے مطابق عبادت گاہوں کو پانی کے ذخائر کے قریب تعمیر کرنا وضو اور طہارت کی سہولت کے لیے عام تھا۔ایمن آباد خود ایک قدیم تاریخی بستی ہے جہاں مختلف ادوار کی تہذیبی یادگاریں موجود رہی ہیں۔ اسی تسلسل میں لودھی دور کی یہ مسجد اس علاقے کی اسلامی تاریخ اور مذہبی روایت کا ایک اہم مظہر ہے۔لودھی دور سے نسبت معروف ماہرِ تعمیرات اور مؤرخ کامل خاں ممتاز کے مطابق اس مسجد کی تعمیرلودھی دور میں ہوئی۔ ان کی رائے میں مسجد کی اینٹوں کی ساخت، سادہ ڈیزائن اسے مغل دور سے پہلے کے فنِ تعمیر سے واضح طور پر جوڑتے ہیں۔ اسی بنیاد پر یہ مسجد پاکستان میں موجود قدیم ترین قائم مساجد میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔لودھی عہد کی تعمیرات عموماً سادگی، مضبوطی اور عملی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر کی جاتی تھیں جس کی جھلک اس مسجد کے مجموعی ڈھانچے میں نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔یہ مسجد ایک مختصر اور سادہ یک منزلہ عمارت ہے جو پکی اینٹوں سے تعمیر کی گئی ہے۔ اس میں بھاری آرائش یا نقش و نگار کی بجائے مضبوط ساخت اور عبادتی افادیت کو ترجیح دی گئی ہے، جو لودھی دور کے فنِ تعمیر کی نمایاں خصوصیت ہے۔مسجد کی دیواریں پکی اینٹوں سے تیار کی گئی ہیں جن کی ترتیب اور چنائی نہایت متوازن ہے۔ اینٹوں کا یہ استعمال نہ صرف عمارت کو استحکام فراہم کرتا ہے بلکہ اس دور کی تعمیراتی مہارت کی بھی عکاسی کرتا ہے۔گنبد اور اندرونی ساخت مسجد کا مرکزی حصہ مربع شکل میں ہے جبکہ اس کے اوپر گول گنبد تعمیر کیا گیا ہے۔ مربع کمرے اور گول گنبد کے درمیان ربط قائم کرنے کے لیے جو تعمیراتی طریقہ اختیار کیا گیا وہ اس مسجد کی سب سے منفرد تعمیراتی خصوصیت ہے۔اس مقصد کے لیے کونی محرابیں اور معلق محرابی سہارادونوں کا بیک وقت استعمال کیا گیا ہے۔کونی محرابیں (Squinches) مربع کمرے کے کونوں کو سہارا دے کر گنبد کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہیں جبکہ معلق محرابی سہارا (Pendentives) گنبد کے دائرہ نما ڈھانچے کو مربع بنیاد سے جوڑنے کا کام دیتے ہیں۔یہ تعمیراتی تکنیک اس بات کا ثبوت ہے کہ اُس دور کے معمار نہایت انجینئرنگ کی اعلیٰ مہارت رکھتے تھے اور پیچیدہ ساختی مسائل کو نہایت سادہ انداز میں حل کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ دونوں طریقوں کا بیک وقت استعمال برصغیر کی ابتدائی اسلامی تعمیرات میں ایک نادر مثال سمجھا جاتا ہے۔مسجد کے ساتھ واقع تالاب جسے عہدِ جہانگیر سے منسوب کیا جاتا ہے اس مقام کی تاریخی اہمیت کو مزید واضح کرتا ہے۔ حوض کی موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ علاقہ طویل عرصے تک آباد اور فعال رہا۔ ممکن ہے کہ بعد کے ادوار میں اس حوض نے مسجد کی مذہبی اہمیت میں مزید اضافہ کیا ہو۔یہ مسجد ایک تاریخی یادگار عمارت کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کی تعمیراتی خصوصیات ہمیں قبل از مغل اسلامی فنِ تعمیر کے ارتقائی مراحل کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ایسی قدیم مساجد کے تحفظ اور سائنسی بحالی کی اشد ضرورت ہے تاکہ یہ قومی ثقافتی ورثہ آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رہ سکے۔ باقاعدہ دستاویز سازی ، آثارِ قدیمہ کی تحقیق اور ماہرینِ تعمیرات کی نگرانی میں مرمتی کام اس کی بقا کے لیے ناگزیر ہیں۔اگر اس تاریخی مقام کو مناسب معلوماتی بورڈز، رہنمائی اور سیاحتی منصوبہ بندی کے ساتھ ترقی دی جائے تو یہ نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی سیاحت کے لیے بھی اہم مقام بن سکتا ہے۔ فنِ تعمیر، تاریخ اور آثارِ قدیمہ سے دلچسپی رکھنے والے محققین کے لیے یہ مسجد ایک قیمتی تحقیقی مطالعہ ثابت ہو سکتی ہے۔یہ مسجد نہ صرف لودھی دور کے فنِ تعمیر کی ایک نادر مثال ہے بلکہ پاکستان کے قدیم اسلامی ثقافتی ورثے کا ایک اہم حصہ بھی ہے۔ اس تاریخی یادگار کے مؤثر تحفظ، بحالی اور علمی مطالعے کے ذریعے ہم اپنی تہذیبی شناخت کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں اور آنے والی نسلوں کو اپنے شاندار ماضی سے جوڑے رکھ سکتے ہیں۔