علماء فرنگی محل

علماء فرنگی محل

اسپیشل فیچر

تحریر : عامر ریاض


علماء فرنگی محل کون تھے، ان کی کیا خدمات تھیں اور انہوں نے خصوصاً عام مسلمانوں کے لیے کیا کیا کارہائے نمایاں سرانجام دیے، شائد آج کا طالب علم ان سے ناواقف ہے۔ لندن مقیم مشہور محقق و پروفیسر فرانسس روبنسن نے تو فرنگی محلی علماء بارے تحقیقی مضامین پر مشتمل گرانقدر کتاب بھی لکھ دی تھی اور حال ہی میں مجھے ای میل پر انہوں نے بتایا کہ وہ جمال میاں فرنگی محلی کی سوانح بھی لکھ رہے ہیں۔ یہ وہی جمال میاں فرنگی محلی ہیں جو قائداعظمؒ کے رفقاء خاص میں شامل تھے۔ آج جو ہم آخری چہار شنبہ، عیدمیلادالنبیؐ اور دوسرے مذہبی تہوار مناتے ہیں ان روایات کی وسیع پیمانے پر داغ بیل ڈالنے کا سہرا بھی انہی فرنگی محلی علماء کے سر بندھتا ہے۔ جلال الدین اکبر کے زمانے سے ان کے کام اور کتب کی تفاصیل بارے روبنسن نے ہمیں سیر حاصل معلومات دیں ہیں۔ ان علماء کی آخری موثر لڑی مولانا عبدالباری فرنگی محلی پر جا کر ختم ہوتی ہے۔ یہ وہی مولانا عبدالباری تھے جنہوں نے 20 ویں صدی کے دوسرے عشرے کے ابتدائی برسوں میں ’’بزم صوفیا ہند‘‘ بنا کر شہرت حاصل کی تھی۔ ان دنوں ابھی سعودی عرب تو نہیں بنا تھا اور سلطنت عثمانیہ اپنے بکھرتے ہوئے اقتدار کو بچا رہی تھی۔ حجاز مقدس میں صحابہ و مقدس ہستیوں کے قبروں کے انہدام کی خبریں گرم ہوئیں تو مولانا نے اس کے خلاف زبردست احتجاج ریکارڈ کروایا۔ یہی مولانا عبدالباری تھے کہ جنہوں نے اپنی تمام تر ریاضت، جدوجہد اور سیاسی اثاثہ کو تحریک خلافت میں لگا دیا۔ اس تحریک کی قیادت کرنے والا نوجوان رہنما، مولانا محمد علی جوہر، مولانا عبدالباری ہی کا شاگرد خاص تھا۔ مگر اس شاگرد نے ایک اہم موقع پر جب اپنے استاد کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے حسین احمد مدنی وغیرہ کا ساتھ دیا تو عبدالباری کو نہایت دکھ ہوا کہ وہ دل کا دورہ پڑنے سے خالق حقیقی سے جا ملے۔ مولانا محمد علی جوہر کو بھی معلوم تھا کہ ان کے استاد کے دل پر کیا بیتی ہے۔ فرانسس روبنسن نے اپنی کتاب ’’علماء فرنگی محل اور جنوبی ایشیائی اسلام‘‘ (انگریز) میں لکھا ہے کہ خود مولانا جوہر تین دن اپنے استاد کی قبر پر جا کر روتے رہے۔ یہ کتاب بعد ازاں فیروز سنز نے لاہور میں انگریزی میں چھاپ دی تھی مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ فرنگی محل علماء کے بارے میںاردو میں لکھا جائے۔ حیران نہ ہوں، یہ مولانا عبدالباری ہی تھے جنہوں نے جمعیت علماء ہند کے تاسیسی اجلاس کی صدارت بھی کی۔ مگر اس جماعت نے ان سے وفا نہ کی۔ مولانا عبدالباری کے فرزند جمال میاں تحریک پاکستان میں بھی سرگرم رہے مگر ان کی کھری کھری باتیں لیاقت علی خان اور ان کے حواریوں کو بہ وجوہ پسند نہ آئیں۔ ان کا استدلال تھا کہ اسلام کو ریاستی امور میں استعمال کرنے سے مذہب متنازعہ بنے گا اور اس کی توقیر میں کمی آئے گی۔ صوفیا اور اولیا کو ماننے والے ان لوگوں کو اپنوں نے بھی بھلا دیا اور غیروں سے تو کسی نیکی کی امید بھی نہ تھی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
اسٹون ہینج کی تعمیر کا حیرت انگیز راز

اسٹون ہینج کی تعمیر کا حیرت انگیز راز

25 ٹن وزنی پتھر کیسے نصب کیے گئے؟انسانی تاریخ میں بعض تعمیرات ایسی ہیں جو صدیاں گزر جانے کے باوجود آج بھی حیرت اور تجسس کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ برطانیہ میں واقع اسٹون ہینج بھی انہی عجائبات میں سے ایک ہے، جس کی تعمیر کے راز ماہرین آثار قدیمہ کیلئے ایک معمہ بنے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں جاری ہونے والی ایک حیرت انگیز بصری منظرکشی نے اس تاریخی یادگار کی تعمیر کے عمل کو نئے انداز میں اجاگر کیا ہے۔ اس منظرکشی سے اندازہ ہوتا ہے کہ تقریباً پانچ ہزار سال قبل 25 ٹن وزنی پتھروں کو دور دراز مقامات سے کھینچ کر لانا اور انہیں اپنی جگہ نصب کرنا کس قدر دشوار اور محنت طلب کام تھا۔ یہ انکشاف نہ صرف قدیم انسانوں کی انجینئرنگ مہارت کو نمایاں کرتا ہے بلکہ ان کی اجتماعی قوت، تنظیم اور عزم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ یہ منظرکشی انگلش ہیریٹیج نے لیزر سکین ڈیٹا اور آثارقدیمہ کی تحقیق کی بنیاد پر تیار کی اور اسے اب تک کی سب سے درست اور تفصیلی تعمیر نو قرار دیا جا رہا ہے۔یہ یادگار جسے ہم آج دیکھتے ہیں تقریباً 3100 قبل مسیح سے 1600 قبل مسیح میں تعمیر ہوئی، اگرچہ یہ بصری ماڈل بنیادی طور پر تعمیر کے مرکزی مرحلے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق سینکڑوں افراد نے مل کر بڑے بڑے پتھروں کو کھینچنے، اٹھانے اور اپنی جگہ پر نصب کرنے کا کام کیا، جو اس مشہور پتھریلے دائرے کی تشکیل کرتے ہیں۔اس کے معماروں نے حیرت انگیز طریقے استعمال کیے تاکہ اس انتہائی مشکل کام کو نسبتاً آسان بنایا جا سکے۔ اس سے اسٹون ہینج ایک سادہ خندقوں اور لکڑی کے کھمبوں کے دائرے سے تبدیل ہو کر قدیم برطانیہ کی سب سے پیچیدہ مذہبی اور رسوماتی جگہ بن گیا۔یونیورسٹی آف ایکسیٹر کی ماہر آثارِ قدیمہ ڈاکٹر سوزن گرینی، جنہوں نے اس تعمیر نو میں کام کیا کے مطابق اس نئی تعمیر نو میں پتھروں کو جگہ پر لانے کیلئے انہیں بڑے بڑے پتھروں، چھوٹے پتھروں کے ڈھیر پر سہارا دے کر اوپر اٹھایاگیا۔یہ طریقہ ایسٹر آئی لینڈ کے مجسموں کو کھڑا کرنے کے شواہد سے لیا گیا ہے، جو وزن اور جسامت میں اسی طرح کے ہیں۔اس شاندار تعمیر نو، جو کتاب ''Stonehenge: The Story of an Icon‘‘ کیلئے تیار کی گئی ہے، میں دکھایا گیا ہے کہ معمار کس طرح بڑے بڑے پتھروں کو منتقل کر رہے ہیں۔ یہ پتھر اسٹون ہینج کے سب سے بڑے اور سب سے زیادہ پہچانے جانے والے پتھر ہیں، جو کھڑے ستونوں اور ان کے اوپر رکھے گئے افقی ''لنٹلز‘‘ (lintels) یعنی شہتیروں کی شکل میں محرابوں کو مکمل کرتے ہیں۔ماہرین آثارِ قدیمہ کا خیال ہے کہ یہ پتھر شمال کی جانب تقریباً 15 میل کے فاصلے پر واقع مارلبورو ڈاؤنز کے کنارے سے لائے گئے تھے۔ ان میں سے سب سے بڑے پتھر کا وزن 36 ٹن سے زیادہ اور لمبائی تقریباً سات میٹر تھی، اس لیے انہیں منتقل کرنا ایک انتہائی بڑا اور مشکل کام تھا۔ ممکن ہے کہ 150 سے زائد افراد نے مل کر ایک ہی پتھر کو لکڑی کے بنے ہوئے راستے پر کھینچا ہو، جسے جانوروں کی چربی سے چکنا کیا جاتا تھا۔ تاہم محققین کے مطابق یہ ضروری نہیں کہ یہ کام صرف اس لیے کیا جاتا تھا کہ یہ بہت مشکل تھا، بلکہ ممکن ہے کہ پتھروں کو کھینچنا ایک قسم کی اجتماعی تقریب یا جشن کا حصہ بھی ہو۔جب پتھر اپنی جگہ تک پہنچا دیے گئے تو انہیں مزید مہارت سے تراشنے اور شکل دینے کی ضرورت پیش آئی۔سالسبری میدان کی زمین بالکل ہموار نہیں ہے، اس لیے ہر پتھر کو درست اونچائی کے مطابق انتہائی احتیاط سے کاٹنا پڑتا تھا، اور ماہرین آثار قدیمہ کو قریب ہی پتھروں کے ٹکڑوں کے بڑے ڈھیر بھی ملے ہیں جو اس عمل کا ثبوت ہیں۔ماہرین آثار قدیمہ کا خیال ہے کہ اسٹون ہینج کی تعمیر میں تقریباً 55 لاکھ گھنٹے کی محنت لگی ہوگی، جس میں سے ساڑھے چار لاکھ گھنٹے صرف بڑے سارسن پتھروں پر خرچ ہوئے۔ 4مرحلوں پر مشتمل تعمیراتی منصوبہموجودہ اسٹون ہینج اس کی آخری شکل ہے جو تقریباً 3,500 سال پہلے مکمل ہوئی تھی۔یادگار کی ویب سائٹ کے مطابق، اسٹون ہینج کی تعمیر چار مراحل میں مکمل کی گئی تھی۔پہلا مرحلہاسٹون ہینج کا ابتدائی ورژن ایک بڑا زمینی ڈھانچہ یا ''ہینج‘‘ تھا، جس میں ایک خندق، مٹی کا بند اور اوبری ہولز شامل تھے۔ یہ سب تقریباً 3100 قبل مسیح میں تعمیر کیے گئے تھے۔ اوبری ہولز چاک کی زمین میں بنے ہوئے گول گڑھے ہوتے ہیں، جن کی چوڑائی اور گہرائی تقریباً ایک میٹر ہوتی ہے۔یہ ایک دائرہ بناتے ہیں جس کا قطر تقریباً 86.6 میٹرہے۔کھدائی کے دوران ان چاک سے بھرے ہوئے گڑھوں میں بعض جگہوں پر جلائی ہوئی انسانی ہڈیاں ملی ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق یہ گڑھے غالباً تدفین کیلئے نہیں بنائے گئے تھے بلکہ یہ کسی مذہبی رسم کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ اس پہلے مرحلے کے بعد اسٹون ہینج کو چھوڑ دیا گیا اور ایک ہزار سال سے زائد عرصے تک یہ جگہ غیر استعمال شدہ رہی۔ دوسرا مرحلہاسٹون ہینج کا دوسرا اور سب سے زیادہ حیران کن مرحلہ تقریباً 2150 قبل مسیح میں شروع ہوا، جب جنوب مغربی ویلز کے پریسیلی پہاڑوں سے تقریباً 82 نیلے پتھر اس مقام تک لائے گئے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں سے کچھ پتھروں کا وزن چار ٹن تک تھا، جنہیں لکڑی کے رولرز اور سلیجز کے ذریعے میلٹن ہیون کے پانیوں تک گھسیٹا گیا، جہاں انہیں بیڑوں پر لاد دیا گیا۔ اس کے بعد انہیں وارمنسٹر اور ولٹ شائر کے قریب دوبارہ خشکی پر کھینچا گیا۔ سفر کا آخری مرحلہ زیادہ تر پانی کے ذریعے تھا، جو دریائے وائیلی سے سالسبری اور پھر سالسبری ایون کے راستے ویسٹ ایمسبری تک پہنچا۔ یہ پورا سفر تقریباً 240 میل پر محیط تھا، اور جب یہ پتھر مقام پر پہنچے تو انہیں مرکز میں نصب کر کے ایک نامکمل دوہرا دائرہ بنایا گیا۔ اسی دوران اصل داخلی راستے کو وسیع کیا گیا اور ہیل اسٹونز کا ایک جوڑا نصب کیا گیا۔ اسٹون ہینج کو دریائے ایون سے ملانے والی ''ایونیو‘‘ کا قریبی حصہ بھی اسی دور میں بنایا گیا۔تیسرا مرحلہاسٹون ہینج کا تیسرا مرحلہ تقریباً 2000 قبل مسیح میں شروع ہوا، جب سارسن پتھر وہاں لائے گئے، جو بلیو اسٹونز سے کہیں بڑے تھے۔ یہ پتھر غالباً اسٹون ہینج سے تقریباً 40 کلومیٹر شمال میں واقع مارلبورو ڈاؤنز سے لائے گئے تھے۔ ان میں سب سے بڑے سارسن پتھر کا وزن تقریباً 50 ٹن تھا، چونکہ انہیں پانی کے ذریعے منتقل کرنا ممکن نہیں تھا، اس لیے اندازہ ہے کہ انہیں رسوں اور سلیجز کے ذریعے زمین پر گھسیٹا گیا۔ حسابات سے معلوم ہوا ہے کہ ایک پتھر کھینچنے کیلئے تقریباً 500 افراد درکار ہوتے تھے، جبکہ مزید 100 افراد راستے میں رولرز بچھانے کیلئے کام کرتے تھے۔ ان پتھروں کو بیرونی دائرے کی شکل میں ترتیب دیا گیا جس کے اوپر افقی پتھر (لنٹلز) رکھے گئے۔ اندرونی حصے میں پانچ ٹرائلیتھون (دو کھڑے اور اوپر ایک افقی پتھر پر مشتمل ڈھانچے) گھوڑے کی نعل کی شکل میں نصب کیے گئے، جو آج بھی موجود ہیں۔آخری مرحلہچوتھا اور آخری مرحلہ تقریباً 1500 قبل مسیح کے بعد ہوا، جب چھوٹے بلیو اسٹونز کو دوبارہ ترتیب دے کر آج کی موجودہ گھوڑے کی نعل اور دائرے کی شکل دی گئی۔ بلیو اسٹونز کے اصل دائرے میں تقریباً 60 پتھر تھے، لیکن بعد میں یہ یا تو ہٹا دیے گئے یا ٹوٹ گئے۔ کچھ اب بھی زمین کے نیچے ستونوں کی صورت میں موجود ہیں۔

شیف نے تاریخ رقم کر دی

شیف نے تاریخ رقم کر دی

ریکارڈ ساز نائجیرین بلڈا باسی کی متاثر کن داستاندنیا میں کامیابی صرف وسائل کی مرہونِ منت نہیں ہوتی بلکہ عزم، محنت اور لگن بھی انسان کو بلندیوں تک پہنچا سکتی ہے۔ اس حقیقت کا ایک روشن نمونہ نائجیریا کی معروف شیف ہلڈا باسی ہیں، جنہوں نے اپنی غیر معمولی صلاحیت، مستقل مزاجی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے عالمی سطح پر شہرت حاصل کی۔ کھانا پکانے کے شعبے میں ان کی ریکارڈ ساز کارکردگی نے نہ صرف انہیں گنیز ورلڈ ریکارڈز میں جگہ دلائی بلکہ دنیا بھر کے نوجوانوں، خصوصاً خواتین کیلئے عزم و حوصلے کی علامت بنا دیا۔ ان کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ خواب بڑے ہوں اور ارادے مضبوط، تو ناممکن کو بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔گنیز ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز صرف شہرت یا داد و تحسین حاصل کرنے کا نام نہیں۔ اگرچہ یہ جاننا یقیناً خوشی کی بات ہے کہ آپ ایک ریکارڈ ہولڈر ہیں، لیکن اکثر ایسی کامیابیوں کے پس منظر میں بہت گہری کہانی چھپی ہوتی ہے۔ یہ کارنامے کسی فرد کے زندگی کے بارے میں رویے، خود اعتمادی، عزم، حوصلے اور بلند عزائم کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔ گنیز ورلڈ ریکارڈز کی ممتاز شخصیت ہلڈا باسی (Hilda Baci) کی زندگی بھی اسی حقیقت کی ایک روشن مثال ہے۔ ان کی کامیابی محض ایک ریکارڈ نہیں بلکہ مسلسل محنت، خود یقین اور بڑے خوابوں کی تعبیر کی داستان ہے۔یہ باحوصلہ نائجیرین ریسٹورنٹ مالکہ اپنی ابتدائی تعلیم کے زمانے ہی سے کھانا پکانے کے شعبے سے وابستہ ہو گئی تھیں۔ وہ ابوجا میں اپنی والدہ کے ریسٹورنٹ میں مدد کیا کرتی تھیں۔ ہلڈا باسی یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں: مجھے ہمیشہ بہت زیادہ انعامی رقم (ٹپس) ملتی تھی کیونکہ مجھے پورا مینو زبانی یاد تھا اور میں بہت حاضر جواب تھی۔کالج میں انہوں نے سوشیالوجی کی تعلیم حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے مختلف شعبوں میں قسمت آزمائی کی، جن میں نائجیرین ٹی وی کے ایک پروگرام کی میزبانی اور اداکاری بھی شامل تھی۔ تاہم، کھانا پکانے کا شوق ان پر غالب رہا۔ 2020ء میں وہ باقاعدہ طور پر پیشہ ور شیف بن گئیں اور بعد ازاں اپنا ریسٹورنٹ ''ہلڈاز کچن‘‘ جو اب ''مائی فوڈ بائے ہلڈا‘‘کے نام سے معروف ہے قائم کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کھانوں کی تراکیب اور مفید مشورے شیئر کرنا شروع کیے، جس کے نتیجے میں ان کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہوا اور دنیا بھر میں لاکھوں افراد ان کے مداح اور فالوورز بن گئے۔جب گنیز ورلڈ ریکارڈز نے ہلڈا باسی سے پوچھا کہ بطور شیف ان کے کریئر نے انہیں سب سے اہم کیا اسباق سکھائے ہیں، تو انہوں نے کامیاب زندگی کیلئے تین لازوال اصول بیان کیے: استقلال صلاحیت پر سبقت لے جاتا ہے، مضبوط نظام محض سخت جدوجہد سے بہتر ہوتے ہیں، اور عاجزی انسان کو مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن رکھتی ہے۔2023ء میں اس منفرد شیف اور انٹرنیٹ کی مقبول شخصیت نے طویل ترین مسلسل کھانا پکانے کی مہم ''کوکنگ مراتھن‘‘ کا چیلنج قبول کیا۔ نائجیریا کے شہر لاگوس کے علاقے لیکی میں ہزاروں افراد ان کی حوصلہ افزائی کیلئے موجود تھے۔ ہلڈا نے 11 مئی سے 15 مئی تک مسلسل 93 گھنٹے 11 منٹ تک کھانا پکا کر غیر معمولی استقامت اور برداشت کا مظاہرہ کیا۔ ان کی یہ حیرت انگیز کوشش صرف موقع پر موجود لوگوں تک محدود نہ رہی بلکہ اسے براہِ راست (لائیو) نشر بھی کیا گیا، جسے نائجیریا اور دنیا بھر میں بے شمار مداحوں نے دیکھا۔ ان کی پیش رفت جاننے کیلئے لوگوں کا جوش اس قدر بڑھ گیا کہ گنیز ورلڈ ریکارڈز کی ویب سائٹ پر غیر معمولی دباؤ پڑا اور وہ عارضی طور پر متاثر ہو گئی۔اگرچہ بعد میں اس انتہائی مسابقتی ریکارڈ کو دو مرتبہ توڑا جا چکا ہے اور اس وقت یہ اعزاز ایویٹے کیوبیا(Evette Quoibia) کے پاس ہے، جنہوں نے 140 گھنٹے 11 منٹ تک مسلسل کھانا پکانے کا ریکارڈ قائم کیا، تاہم ہلڈا باسی نے اپنے عزم، محنت اور غیر معمولی جذبے کے ذریعے تاریخ میں اپنا نام ہمیشہ کیلئے ثبت کر دیا۔ہلڈا باسی کے تاریخی ''کُک اے تھون‘‘ نے نائجیریا میں ریکارڈ قائم کرنے کے ایک نئے رجحان کو جنم دیا۔ ان کی کامیابی کے صرف دو ماہ کے اندر گنیز ورلڈ ریکارڈز کو نائجیریا سے 1,500 سے زائد نئی درخواستیں موصول ہوئیں۔ اس طرح ہلڈا نہ صرف خود ایک ریکارڈ ہولڈر بنیں بلکہ انہوں نے ہزاروں لوگوں کو اپنے خوابوں کی تکمیل کیلئے آگے بڑھنے کی ترغیب بھی دی۔جب ان سے پوچھا گیا کہ برداشت اور استقامت پر مبنی کسی ریکارڈ کو قائم کرنے کی کوشش کرنے والوں کو وہ کیا مشورہ دینا چاہیں گی، تو انہوں نے کہاکہ تیاری ہی سب کچھ ہے،صرف جذبہ کافی نہیں ہوتا۔ وہ زور دے کر کہتی ہیں کہ کامیابی کیلئے جسمانی تربیت، ذہنی مضبوطی، ایک مؤثر معاون ٹیم، درست دستاویزات اور قواعد و ضوابط کی مکمل سمجھ بوجھ ضروری ہے۔ ان کے مطابق: قواعد کا بغور مطالعہ کریں اور پورے عمل کا احترام کریں۔ ہلڈا باسی کا یہ پیغام صرف ریکارڈ قائم کرنے والوں کیلئے نہیں بلکہ زندگی میں کسی بھی بڑے ہدف کے حصول کے خواہش مند افراد کیلئے ایک قیمتی سبق ہے کہ کامیابی محض خواہش سے نہیں بلکہ منصوبہ بندی، مسلسل محنت اور واضح مقصد سے حاصل ہوتی ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

اتاترک ہوائی اڈے پر حملہاستنبول کے اتاترک ہوائی اڈے پر28جون 2016ء کو دہشت گردوں نے حملہ کیا۔خودکار ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد سے لیس دہشت گردوں نے اتاترک ہوائی اڈے کے بین الاقوامی ٹرمینل نمبر2کونشانہ بناتے ہوئے ا س پر حملہ کیا۔ اس حملے میں تین حملہ آور اور 45کے قریب عام شہری جاں بحق ہوئے جبکہ230افراد کو زخمی حالت میں باہر نکالا گیا۔ترک میڈیا رکے مطابق تمام حملہ آور وسطی ایشیاء سے آئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری کسی بھی دہشت گرد گروہ نے قبول نہیں کی تھی۔آپریشن کیس بلیودوسری عالمی جنگ کے دوران جرمنی نے 28جون 1942ء کو سوویت یونین پر حملہ کیا۔ اس حملے میں جرمن افواج کوڈ ''کیس بلیو‘‘ استعمال کر رہی تھیں۔ اسی لئے اس مشن کو کیس بلیو کا نام دیا گیا۔ اس حملے کا مقصد روس کے زیر انتظام باکو ، گروزنی اور مائیکوپ کی آئل فیلڈز پر قبضہ کرنا تھا۔اس حملے کے پیچھے ایک مقصد یہ بھی تھا کہ جرمن افواج کی ایندھن کی سپلائی کو بحال کیا جا سکے اور روس کے تیل کی لائن کو کاٹا جائے۔ آپریشن کیس بلیو کامیاب نہ ہوسکا، جس کے بعد ہٹلر نے اعتراف بھی کیا کہ اب وہ دفاعی پوزیشن پر آچکا ہے۔سوویت فضائی حادثہ 1982ء میں سوویت فضائی کمپنی ایروفلوٹ کی پرواز 8641 بیلاروس کے شہر موزیر کے قریب حادثے کا شکار ہوگئی۔ یہ المناک حادثہ اُس وقت پیش آیا جب طیارہ دورانِ پرواز تباہ ہو کر زمین پر گر گیا۔ اس سانحے میں طیارے میں سوار تمام 132 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ یہ حادثہ اُس دور کے بڑے فضائی سانحات میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس حادثے نے فضائی حفاظت کے نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھائے۔ورسائی کا معاہدہورسائی کا معاہدہ پہلی جنگ عظیم کے امن معاہدوں میں سب سے اہم تھا۔ اس نے جرمنی اور اتحادی طاقتوں کے درمیان جنگ کا خاتمہ کیا۔ اس پر 28 جون 1919 ء کو ورسائی کے محل میں دستخط کیے گئے تھے۔ آرچ ڈیوک فرانز فرڈینینڈ کے قتل کے ٹھیک پانچ سال بعدیہ معاہدہ طے پایا تھا، جس کی وجہ سے جنگ شروع ہوئی تھی۔ جرمنی کی طرف سے دیگر مرکزی طاقتوں نے الگ الگ معاہدوں پر دستخط کئے۔ پہلا سیاہ فام باکسنگ چیمپئن1948ء میں آج کے روز برطانیہ کے شہر برمنگھم کے ویلا پارک میں ہونے والے ایک اہم باکسنگ مقابلے میں ڈک ٹرپن نے ونس ہاکنز کو شکست دے کر تاریخ رقم کی۔ اس فتح کے ساتھ ڈک ٹرپن جدید دور میں برطانیہ کے پہلے سیاہ فام باکسنگ چیمپئن بن گئے۔ ان کی یہ کامیابی نسلی مساوات اور سماجی ترقی کے حوالے سے بھی ایک اہم سنگِ میل سمجھی جاتی ہے، جس نے آنے والے سیاہ فام کھلاڑیوں کیلئے نئی راہیں ہموار کیں۔سلیوان جزیرے کی جنگسلیوان جزیرے کی جنگ جسے فورٹ سلیوان کی جنگ بھی کہا جاتا ہے ، امریکہ کی انقلابی جنگ کے دوران لڑی جانے والی ایک بہت بڑی لڑائی تھی۔لڑائی کا آغاز28جون1776ء کو ہوا۔برطانیہ نے چارلسٹن، جنوبی کیرولینا کے قریب شہر پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جس کے جواب میں امریکی افواج حرکت میں آئیں اور لڑائی شروع ہو گئی۔برطانیہ کو محاصرہ میں کافی حد تک کامیابی حاصل ہوئی۔

بچوں کو ریاضی سیکھنے میں دشواری کیوں؟

بچوں کو ریاضی سیکھنے میں دشواری کیوں؟

دماغی تحقیق نے اہم راز سے پردہ اٹھا دیاریاضی کو ایک مشکل مضمون سمجھا جاتا رہا ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں بچے ایسے ہیں جو زبان، مطالعہ یا دیگر مضامین میں اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں لیکن ریاضی کے سوالات حل کرتے وقت مشکل میں پڑ جاتے ہیں۔ والدین اور اساتذہ اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ شاید بچے کی توجہ کم ہے، مشق ناکافی ہے یا اس کی ذہانت مطلوبہ سطح کی نہیں تاہم ایک جدید تحقیق اس حوالے سے ایک نئی حقیقت سامنے لائی ہے کہ ریاضی میں مشکلات کا تعلق صرف محنت یا ذہانت سے نہیں بلکہ دماغ کے مخصوص حصوں کے کام کرنے کے انداز سے بھی ہو سکتا ہے۔امریکہ کی سٹینفورڈ یونیورسٹی اور سان ہوزے سٹیٹ یونیورسٹی کے محققین کی ایک حالیہ تحقیق نے اس موضوع پر نئی روشنی ڈالی ہے۔ ماہرین نے بچوں کے دماغی سکینز اور ان کی ریاضیاتی کارکردگی کا جائزہ لے کر یہ جاننے کی کوشش کی کہ بعض بچے ریاضی کے سوال حل کرنے میں دوسروں کی نسبت زیادہ دشواری کیوں محسوس کرتے ہیں۔نمبروں کو سمجھنے کا دماغی عملتحقیق میں 7 سے 10 سال کی عمر کے بچوں کو مختلف قسم کے عددی سوالات حل کرنے کے لیے دیے گئے۔ بعض سوالات میں عام ہندسے یعنی 3، 5 اور 8 جیسے اعداد استعمال کیے گئے جبکہ بعض میں انہی ہندسوں کو نقطوں کی شکل میں ظاہر کیا گیا۔ مثال کے طور پر تین نقطے یا پانچ نقطے دکھا کر بچوں سے ان کا موازنہ کرنے کو کہا گیا۔تحقیق سے معلوم ہوا کہ ریاضی میں کمزور سمجھے جانے والے بچے سوال کو سمجھنے کی بنیادی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جب ان کے سامنے نقطوں کی شکل میں سوال پیش کیا گیا تو ان کی کارکردگی نسبتاً بہتر تھی اور وہ دوسرے بچوں کی طرح درست جواب دے سکے لیکن جب یہی سوال عددی علامات یا ہندسوں کی شکل میں پیش کیا گیاتو ان کی کارکردگی متاثر ہوئی۔اس سے پتا چلتا ہے کہ اصل مسئلہ سوال کو سمجھنے میں نہیں بلکہ عددی علامات کو حقیقی مقدار سے جوڑنے میں ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں بچے جانتے ہیں کہ پانچ چیزیں کیا ہوتی ہیں لیکن دماغ بعض اوقات 5کے ہندسے کو اسی تصور سے فوری طور پر جوڑنے میں دشواری محسوس کرتا ہے۔دماغ کے کون سے حصے کردار ادا کرتے ہیں؟محققین نے بچوں کے دماغ کا ایم آر آئی سکین بھی کیا تاکہ معلوم ہو سکے کہ سوالات حل کرتے وقت کون سے حصے زیادہ متحرک ہوتے ہیں۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ دو اہم دماغی حصے ریاضیاتی صلاحیت میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔پہلا حصہ مڈل فرنٹل جائرس کہلاتا ہے۔ یہ حصہ توجہ مرکوز رکھنے، معلومات کو یاد رکھنے اور پیچیدہ مسائل حل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ دوسرا حصہ انٹیریئر سنگولیٹ کورٹیکس ہے جو غلطیوں کی نشاندہی، فیصلہ سازی اور حکمت عملی تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔تحقیق میں دیکھا گیا کہ ریاضی میں دشواری کا شکار بچوں میں ان دونوں حصوں کی سرگرمی نسبتاً کم تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سوال حل کرتے وقت اپنی غلطیوں کو کم محسوس کرتے ہیں اور جواب دیتے ہوئے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی نہیں لاتے۔جلدبازی بھی ایک مسئلہتحقیق کا ایک اور دلچسپ پہلو بچوں کے رویے سے متعلق تھا۔ ماہرین نے دیکھا کہ ریاضی میں کمزور بچے اکثر سوالات کے جواب جلدی دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر ان سے غلطی ہو جائے تو وہ اس پر زیادہ غور نہیں کرتے اور نہ ہی اپنی سوچ کے انداز میں کوئی خاص تبدیلی لاتے ہیں۔اس کے برعکس ریاضی میں بہتر کارکردگی دکھانے والے بچے غلط جواب کے بعد زیادہ محتاط ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنی غلطی کا جائزہ لیتے ہیں اور اگلے سوال میں زیادہ توجہ کے ساتھ جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی عادت انہیں بہتر نتائج حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے۔والدین اور اساتذہ کیا کر سکتے ہیں؟اس تحقیق کے نتائج تعلیمی میدان میں کئی اہم اشارے فراہم کرتے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ریاضی میں کمزوری کا مطلب ذہانت کی کمی نہیں۔ بعض بچوں کو صرف ہندسوں کے درمیان تعلق قائم کرنے میں زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں کو صرف کتابی سوالات تک محدود نہ رکھیں بلکہ روزمرہ زندگی میں ریاضی کے استعمال کے مواقع پیدا کریں۔ خریداری کے دوران قیمتوں کا حساب لگوانا، کھلونوں کی گنتی کروانا، یا اشیا کو گروپوں میں تقسیم کروانا مفید سرگرمیاں ثابت ہو سکتی ہیں۔اسی طرح رنگین بلاکس، چارٹس اور تصویری مواد کے ذریعے بچوں کو مقدار کا تصور سمجھانا بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ جب بچے حقیقی اشیا کے ذریعے اعداد کو محسوس کرتے ہیں تو ان کے دماغ میں نمبروں اور مقداروں کے درمیان تعلق مضبوط ہوتا جاتا ہے۔ریاضی سکھانے کا نیا زاویہیہ تحقیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ روایتی تدریسی طریقوں کے ساتھ ساتھ بچوں کے دماغی عمل کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اگر کسی بچے کو ریاضی میں دشواری پیش آ رہی ہو تو اسے محض زیادہ مشق یا ڈانٹ ڈپٹ کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔ بہتر حکمت عملی یہ ہے کہ اس کی سوچ کے انداز کو سمجھا جائے اور ایسے طریقے اپنائے جائیں جو اعداد کو زیادہ واضح اور قابلِ فہم بنا سکیں۔ریاضی صرف نمبروں کا کھیل نہیں بلکہ سوچنے، تجزیہ کرنے اور مسائل حل کرنے کی تربیت بھی ہے۔ اس لیے بچوں کی حوصلہ افزائی، مناسب رہنمائی اور سائنسی بنیادوں پر تیار کردہ تدریسی حکمت عملی مستقبل کی نسلوں کو بہتر سیکھنے کے مواقع فراہم کر سکتی ہے۔

رومن گلیڈی ایٹر اور شیر

رومن گلیڈی ایٹر اور شیر

1800 سال پرانا معمہ کیسے حل ہوا؟انسانی تاریخ میں کچھ کہانیاں ایسی ہیں جو صدیوں تک افسانہ اور حقیقت کے درمیان معلق رہتی ہیں۔ رومن سلطنت کے گلیڈی ایٹرز اور خونریز مقابلوں کی داستانیں بھی انہی میں شامل ہیں۔ فلموں، ناولوں اور تاریخی تحریروں میں اکثر دکھایا گیا ہے کہ گلیڈی ایٹر میدانِ جنگ میں شیروں اور دوسرے خطرناک جانوروں کا سامنا کرتے تھے لیکن اس دعوے کے حق میں براہِ راست جسمانی ثبوت موجود نہیں تھا۔ اب برطانیہ میں آثارِ قدیمہ کی ایک تحقیق نے تقریباً دو ہزار سال پرانے اس راز پر سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو شمالی انگلینڈ کے شہر یارک میں ایک انسانی ڈھانچہ ملا ہے جس کی ہڈیوں پر شیر کے دانتوں کے نشانات دریافت ہوئے ہیں۔ یہ دریافت اس بات کا پہلا براہِ راست ثبوت سمجھی جا رہی ہے کہ رومن دور میں انسانوں اور بڑے شکاری جانوروں کے درمیان جان لیوا مقابلے واقعی منعقد ہوتے تھے۔یارک میں ملنے والا حیران کن ڈھانچہیہ ڈھانچہ یارک کے ایک قدیم قبرستان سے دریافت ہوا جو رومن دور میں اہم فوجی اور انتظامی مرکز تھا۔ اس زمانے میں یارک کو ایبوراکم (Eboracum) کہا جاتا تھا اور یہ برطانیہ میں رومن اقتدار کا ایک بڑا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ماہرین نے جس شخص کا ڈھانچہ دریافت کیا اس کی عمر موت کے وقت تقریباً 26 سے 35 سال کے درمیان تھی۔ ہڈیوں کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ وہ جسمانی طور پر مضبوط اور طاقتور انسان تھا۔ اس کے جسم پر پرانی چوٹوں اور زخموں کے آثار بھی موجود تھے جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ اکثر پرتشدد سرگرمیوں یا لڑائیوں میں حصہ لیتا رہا تھا۔تحقیق کے دوران سب سے حیران کن بات اس کی کولہے کی ہڈی پر موجود مخصوص نشانات تھے۔ ابتدا میں یہ واضح نہیں تھا کہ یہ نشانات کس جانور کے دانتوں سے بنے ہیں، لیکن جدید سائنسی تکنیکوں نے اس معمہ کو حل کر دیا۔ ماہرین نے ہڈی پر موجود نشانات کے تھری ڈی سکین تیار کیے اور ان کا موازنہ مختلف بڑے گوشت خور جانوروں مثلاً شیر، چیتے اور دوسرے شکاری جانوروں کے دانتوں کے نشانات سے کیا۔نتائج حیران کن تھے۔ نشانات کی ساخت اور گہرائی سب سے زیادہ شیر کے دانتوں سے مطابقت رکھتی تھی۔ مزید دلچسپ بات یہ تھی کہ یہ زخم غالباً اس وقت لگے جب انسان مر چکا تھا یا اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شیر نے اس کے جسم کو نوچا یا کاٹا تھا۔یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی انسانی ڈھانچے پر ایسے نشانات دریافت ہوئے ہیں جو براہِ راست رومن دور کے شیر اور انسان کے تصادم کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔گلیڈی ایٹرز کے خونریز کھیلرومن ایمپائر میں عوامی تفریح کے لیے بڑے بڑے میدان بنائے جاتے تھے جہاں گلیڈی ایٹرز ایک دوسرے سے یا خطرناک جانوروں سے لڑتے تھے۔ ان مقابلوں کا مقصد عوام کو تفریح فراہم کرنا اور سلطنت کی طاقت کا مظاہرہ کرنا تھا۔قدیم رومن مصنفین نے اپنی تحریروں میں ان کھیلوں کا ذکر کیا ہے۔ تاریخی تصاویر، موزیکس اور مجسمے بھی ایسے مناظر دکھاتے ہیں جن میں انسان شیر، ریچھ یا دوسرے جنگلی جانوروں کے مقابلے میں نظر آتے ہیں۔ تاہم مورخین کے پاس یہ ثابت کرنے کے لیے کوئی براہِ راست جسمانی ثبوت موجود نہیں تھا کہ ایسے مقابلے حقیقت میں ہوتے تھے۔یارک میں ملنے والی یہ دریافت اب ان تاریخی بیانات کی سائنسی تصدیق کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رومن ایمپائر کے شمالی علاقوں تک بھی ایسے خونریز کھیل منعقد کیے جاتے تھے۔شیر برطانیہ تک کیسے پہنچا؟اس دریافت نے ایک اور دلچسپ سوال کو جنم دیا ہے۔ برطانیہ میں تو قدرتی طور پر شیر موجود نہیں تھے پھر وہ وہاں کیسے پہنچے؟ماہرین کے مطابق رومن ایمپائر کا تجارتی اور فوجی نیٹ ورک بہت وسیع تھا۔ شمالی افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور دوسرے دور دراز علاقوں سے جنگلی جانور پکڑ کر سلطنت کے مختلف شہروں میں لائے جاتے تھے۔ ان جانوروں میں شیر، چیتے، ہاتھی اور دوسرے جانور شامل تھے۔یہ جانور سمندری اور زمینی راستوں کے ذریعے ہزاروں کلومیٹر دور منتقل کیے جاتے تھے۔ پھر انہیں عوامی تماشوں اور مقابلوں میں استعمال کیا جاتا تھا۔ یارک میں ملنے والا ثبوت ظاہر کرتا ہے کہ رومن ایمپائر کی رسائی اور انتظامی صلاحیت کتنی وسیع تھی کہ وہ افریقی شیروں کو بھی برطانیہ تک لے آنے میں کامیاب تھی۔تاریخ اور سائنس کا امتزاجیہ دریافت صرف ایک ہڈی یا ایک زخم کی کہانی نہیں بلکہ تاریخ اور سائنس کے اشتراک کی ایک شاندار مثال بھی ہے۔ جدید تھری ڈی سکیننگ، حیاتیاتی تجزیے اور آثارِ قدیمہ کی تکنیکوں نے ایک ایسا معمہ حل کیا ہے جو تقریباً اٹھارہ سو برس سے پوشیدہ تھا۔ماضی میں جو باتیں صرف تحریری روایات یا فن پاروں میں موجود تھیں، اب ان کی تصدیق حقیقی جسمانی شواہد سے ہو رہی ہے۔ اس طرح انسانی تاریخ کے ان گوشوں کو بھی دیکھا جاسکتا ہے جو صدیوں سے دھند میں چھپے ہوئے تھے۔یارک میں ملنے والی یہ ہڈی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ رومن تفریحی کھیل محض ڈرامائی کہانیاں نہیں تھے بلکہ ان کے پیچھے حقیقی انسانوں کی زندگیاں، ان کی قربانیاں اور بعض اوقات ان کی ہولناک اموات بھی شامل تھیں۔

آج کا دن

آج کا دن

جان کیبوٹ کی شمالی امریکہ آمد24 جون 1497ء کو اطالوی ملاح جان کیبوٹ شمالی امریکہ کے ساحل پر پہنچا۔ وہ انگلستان کے بادشاہ ہنری ہفتم کی سرپرستی میں بحرِ اوقیانوس کے پار نئی تجارتی راہوں کی تلاش کے لیے روانہ ہوا تھا۔ مؤرخین کے مطابق وہ موجودہ کینیڈا کے علاقے نیوفاؤنڈ لینڈ یا اس کے قریبی ساحل تک پہنچا۔ جان کیبوٹ نے اپنے جہاز ''میتھیو‘‘ کے ذریعے بحرِ اوقیانوس عبور کیا اور ایک ایسے خطے تک پہنچنے میں کامیاب ہوا جس کے بارے میں یورپ میں بہت کم معلومات موجود تھیں۔ بعد کی صدیوں میں برطانیہ نے کینیڈا اور شمالی امریکہ کے دیگر علاقوں میں جو نوآبادیاں قائم کیں ان کے دعوؤں کی تاریخی بنیاد جان کیبوٹ کی دریافت کو قرار دیا گیا۔ نپولین کا روس پر حملہ24 جون 1812ء کو فرانسیسی شہنشاہ نپولین بوناپارٹ نے روس پر حملہ شروع کیا۔ تقریباً چھ لاکھ فوجیوں پر مشتمل یہ لشکر اس وقت یورپ کی سب سے بڑی فوجی قوت سمجھا جاتا تھا۔ نپولین نے دریائے نیمن عبور کرکے روسی سرزمین میں داخل ہونے کا حکم دیا اور یوں تاریخ کی ایک عظیم ترین فوجی مہم کا آغاز ہوا۔ابتدائی طور پر فرانسیسی فوج تیزی سے روس کے اندر داخل ہوئی لیکن روسیوں نے پسپائی اختیار کی اور راستے میں موجود خوراک اور وسائل تباہ کرتے گئے۔ جب فرانسیسی فوج ماسکو پہنچی تو شہر تقریباً خالی اور آگ کی لپیٹ میں تھا۔ شدید سردی، بھوک اور بیماری نے فرانسیسی فوج کو تباہ کر دیا۔روس سے واپسی کے دوران نپولین کی فوج کا بیشتر حصہ ختم ہو گیا۔ جنگِ سولفیرینو24 جون 1859ء کو شمالی اٹلی کے مقام سولفیرینو میں ایک عظیم جنگ لڑی گئی۔ اس جنگ میں تقریباً تین لاکھ فوجیوں نے حصہ لیا اور ایک ہی دن میں ہزاروں افراد ہلاک یا زخمی ہوئے۔ انیسویں صدی کی یہ خونریز ترین لڑائیوں میں سے ایک تھی۔جنگ کے بعد سوئس تاجر ہنری ڈونانٹ میدانِ جنگ سے گزرا اور زخمی فوجیوں کی حالت دیکھ کر شدید متاثر ہوا۔ اس نے زخمیوں کی امداد کے لیے رضاکارانہ خدمات کے تصور کو فروغ دیا اور بعد ازاں اپنی مشہور کتاب ''اے میموری آف سولفیرینو‘‘ تحریر کی۔ہنری ڈونانٹ کی انہی کوششوں کے نتیجے میں بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی وجود میں آئی اور جنیوا کنونشنز کی بنیاد پڑی۔ماسکو وکٹری پریڈ24 جون 1945ء کو دوسری جنگِ عظیم میں نازی جرمنی پر فتح کے بعد سوویت یونین نے ماسکو کے ریڈ اسکوائر میں ایک عظیم الشان وکٹری پریڈ کا انعقاد کیا۔ یہ تقریب جنگ کے اختتام کے بعد سوویت افواج کی کامیابی اور لاکھوں قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے منعقد کی گئی تھی۔اس پریڈ کا سب سے یادگار منظر وہ تھا جب جرمن فوج کے قبضے میں لیے گئے جھنڈے اور فوجی نشانات لینن کے مزار کے سامنے پھینکے گئے۔ اس عمل کو نازی جرمنی کی مکمل شکست اور سوویت فتح کی علامت سمجھا گیا۔یہ تقریب نہ صرف جنگ کے خاتمے کی یادگار بنی بلکہ اس نے سوویت یونین کی عالمی طاقت کے طور پر ابھرتی ہوئی حیثیت کو بھی نمایاں کیا۔