علماء فرنگی محل

علماء فرنگی محل

اسپیشل فیچر

تحریر : عامر ریاض


علماء فرنگی محل کون تھے، ان کی کیا خدمات تھیں اور انہوں نے خصوصاً عام مسلمانوں کے لیے کیا کیا کارہائے نمایاں سرانجام دیے، شائد آج کا طالب علم ان سے ناواقف ہے۔ لندن مقیم مشہور محقق و پروفیسر فرانسس روبنسن نے تو فرنگی محلی علماء بارے تحقیقی مضامین پر مشتمل گرانقدر کتاب بھی لکھ دی تھی اور حال ہی میں مجھے ای میل پر انہوں نے بتایا کہ وہ جمال میاں فرنگی محلی کی سوانح بھی لکھ رہے ہیں۔ یہ وہی جمال میاں فرنگی محلی ہیں جو قائداعظمؒ کے رفقاء خاص میں شامل تھے۔ آج جو ہم آخری چہار شنبہ، عیدمیلادالنبیؐ اور دوسرے مذہبی تہوار مناتے ہیں ان روایات کی وسیع پیمانے پر داغ بیل ڈالنے کا سہرا بھی انہی فرنگی محلی علماء کے سر بندھتا ہے۔ جلال الدین اکبر کے زمانے سے ان کے کام اور کتب کی تفاصیل بارے روبنسن نے ہمیں سیر حاصل معلومات دیں ہیں۔ ان علماء کی آخری موثر لڑی مولانا عبدالباری فرنگی محلی پر جا کر ختم ہوتی ہے۔ یہ وہی مولانا عبدالباری تھے جنہوں نے 20 ویں صدی کے دوسرے عشرے کے ابتدائی برسوں میں ’’بزم صوفیا ہند‘‘ بنا کر شہرت حاصل کی تھی۔ ان دنوں ابھی سعودی عرب تو نہیں بنا تھا اور سلطنت عثمانیہ اپنے بکھرتے ہوئے اقتدار کو بچا رہی تھی۔ حجاز مقدس میں صحابہ و مقدس ہستیوں کے قبروں کے انہدام کی خبریں گرم ہوئیں تو مولانا نے اس کے خلاف زبردست احتجاج ریکارڈ کروایا۔ یہی مولانا عبدالباری تھے کہ جنہوں نے اپنی تمام تر ریاضت، جدوجہد اور سیاسی اثاثہ کو تحریک خلافت میں لگا دیا۔ اس تحریک کی قیادت کرنے والا نوجوان رہنما، مولانا محمد علی جوہر، مولانا عبدالباری ہی کا شاگرد خاص تھا۔ مگر اس شاگرد نے ایک اہم موقع پر جب اپنے استاد کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے حسین احمد مدنی وغیرہ کا ساتھ دیا تو عبدالباری کو نہایت دکھ ہوا کہ وہ دل کا دورہ پڑنے سے خالق حقیقی سے جا ملے۔ مولانا محمد علی جوہر کو بھی معلوم تھا کہ ان کے استاد کے دل پر کیا بیتی ہے۔ فرانسس روبنسن نے اپنی کتاب ’’علماء فرنگی محل اور جنوبی ایشیائی اسلام‘‘ (انگریز) میں لکھا ہے کہ خود مولانا جوہر تین دن اپنے استاد کی قبر پر جا کر روتے رہے۔ یہ کتاب بعد ازاں فیروز سنز نے لاہور میں انگریزی میں چھاپ دی تھی مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ فرنگی محل علماء کے بارے میںاردو میں لکھا جائے۔ حیران نہ ہوں، یہ مولانا عبدالباری ہی تھے جنہوں نے جمعیت علماء ہند کے تاسیسی اجلاس کی صدارت بھی کی۔ مگر اس جماعت نے ان سے وفا نہ کی۔ مولانا عبدالباری کے فرزند جمال میاں تحریک پاکستان میں بھی سرگرم رہے مگر ان کی کھری کھری باتیں لیاقت علی خان اور ان کے حواریوں کو بہ وجوہ پسند نہ آئیں۔ ان کا استدلال تھا کہ اسلام کو ریاستی امور میں استعمال کرنے سے مذہب متنازعہ بنے گا اور اس کی توقیر میں کمی آئے گی۔ صوفیا اور اولیا کو ماننے والے ان لوگوں کو اپنوں نے بھی بھلا دیا اور غیروں سے تو کسی نیکی کی امید بھی نہ تھی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
جنریشن الفا کی خوراک موسمیاتی تبدیلی کا سبب؟

جنریشن الفا کی خوراک موسمیاتی تبدیلی کا سبب؟

خوراک کا انتخاب صرف صحت ہی نہیں، زمین کے مستقبل پر بھی اثرانداز ہوتا ہےدنیا اس وقت موسمیاتی تبدیلی کے سنگین بحران سے دوچار ہے اور اب تک اس کی بڑی وجوہات میں صنعتی آلودگی، جنگلات کی کٹائی، فوسل ایندھن کا بے دریغ استعمال اور بڑھتی ہوئی آبادی کو شمار کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم حالیہ سائنسی تحقیق نے اس بحث میں ایک نیا اور حیران کن پہلو شامل کر دیا ہے۔ تحقیق کے مطابق جنریشن الفا (2010ء کے بعد پیدا ہونے والے بچوں) اور بالخصوص نوعمر افراد کی غذائی عادات بھی موسمیاتی تبدیلی پر نمایاں اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گوشت، پراسیسڈ فوڈ اور زیادہ کاربن اخراج سے وابستہ غذاؤں کا بڑھتا ہوا استعمال نہ صرف ماحول پر اضافی بوجھ ڈال رہا ہے بلکہ مستقبل میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں مزید اضافے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔عالمی سطح پر بچے اور نوجوان خوراک سے پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے لحاظ سے کسی بھی دوسری عمر کے گروہ سے آگے ہیں۔تشویشناک بات یہ ہے کہ ان بڑھتے ہوئے اخراج کا تعلق غیر صحت بخش غذائی عادات سے بھی ہے، جس کے نتیجے میں ناقص غذائیت اور تیز ہوتی موسمیاتی تبدیلی کی صورت میں ایک ''دوہرے بحران‘‘ نے جنم لیا ہے۔ بین الاقوامی محققین کی ایک ٹیم نے 149 ممالک اور عمر کے 22 مختلف گروہوں کی غذائی عادات کا جائزہ لیا۔ اس تحقیق کیلئے 2000ء سے 2019ء کے درمیان جمع کیے گئے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔تحقیق سے معلوم ہوا کہ جنریشن الفا اور جنریشن زی کی زیادہ کاربن اخراج والی غذائی عادات کی بنیادی وجہ گوشت، پراسیسڈ غذاؤں اور میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال ہے۔تحقیق کے شریک مصنف، یونیورسٹی آف برمنگھم کے پروفیسر یولی شان کا کہنا ہے کہ یہ حیران کن نتیجہ اس عام تصور کو چیلنج کرتا ہے کہ زیادہ عمر کے افراد ہی سب سے زیادہ کاربن پیدا کرنے والے صارفین ہوتے ہیں۔ یہ نتائج پالیسی سازوں کیلئے ایک اہم چیلنج ہیں، کیونکہ بڑھتے ہوئے کاربن اخراج پر قابو پانے کیلئے انہیں خوراک، صحت اور ماحول سے متعلق نئی اور مؤثر حکمت عملیاں اختیار کرنا ہوں گی۔تاہم محققین نے دریافت کیا ہے کہ مختلف عمر کے افراد اس مجموعی کاربن فٹ پرنٹ میں یکساں کردار ادا نہیں کرتے بلکہ ہر عمر کے گروہ کا حصہ مختلف ہے۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد غذائی عادات کے باعث سب سے زیادہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے ذمہ دار ہیں۔سال 2000ء سے 2019 ء کے درمیان خوراک سے متعلق عالمی کاربن اخراج میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی 2.1 ارب ٹن کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس میں ایک چوتھائی سے زیادہ حصہ بزرگ افراد کا تھا۔جاپان، امریکہ اور مغربی یورپ جیسے اعلیٰ آمدنی والے خطوں میں خوراک سے متعلق مجموعی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا 22 سے 29 فیصد حصہ اب 60 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد سے منسلک ہے۔تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ بزرگ افراد کی غذائی عادات ماحول کیلئے زیادہ نقصان دہ ہیں، بلکہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں بزرگ آبادی کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔خاص طور پر خوشحال ممالک میں عمر رسیدہ افراد کی بڑھتی ہوئی آبادی نے انہیں غذائی نظام سے پیدا ہونے والے کاربن اخراج میں سب سے تیزی سے اضافہ کرنے والا عمر کا گروہ بنا دیا ہے۔تاہم فی فرد کے حساب سے دیکھا جائے تو نوجوانوں کی غذائی عادات اب بھی بزرگ افراد کے مقابلے میں زیادہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا باعث بنتی ہیں۔محققین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ نوجوانوں میں جانوروں سے حاصل ہونے والی غذاؤں، خصوصاً سرخ گوشت، کے بڑھتے ہوئے استعمال کا رجحان ہے۔ متعدد تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ گوشت پر مبنی غذائیں نباتاتی خوراک کے مقابلے میں کہیں زیادہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا سبب بنتی ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق روزانہ صرف 100 گرام گوشت، جو ایک عام برگر سے بھی کم مقدار ہے، استعمال کرنے سے مکمل نباتاتی غذا کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ گرین ہاؤس گیسیں خارج ہوتی ہیں۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کی ذمہ داری صرف نئی نسل پر عائد ہوتی ہے، لیکن یہ تحقیق اس جانب ضرور توجہ دلاتی ہے کہ ماحول دوست طرزِ زندگی اور متوازن غذائی انتخاب کی تعلیم بچپن ہی سے دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔غذائی نظام گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا بڑا ذریعہ دنیا بھر کا غذائی نظام اس وقت گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا ایک بڑا ذریعہ بن چکا ہے، جو موسمیاتی تبدیلی کو تیزی سے بڑھا رہا ہے۔ اندازوں کے مطابق عالمی سطح پر پیدا ہونے والی مجموعی گرین ہاؤس گیسوں کا تقریباً ایک تہائی حصہ خوراک کی پیداوار اور فراہمی کے نظام سے وابستہ ہے۔یہ اخراج کئی عوامل کا نتیجہ ہے، جن میں کاشتکاری کیلئے جنگلات کی بڑے پیمانے پر کٹائی، مویشیوں خصوصاً گائے اور بیلوں سے خارج ہونے والی میتھین گیس، مصنوعی کھادوں کے استعمال سے پیدا ہونے والی گیسیں اور خوراک کو دنیا بھر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کیلئے استعمال ہونے والے ایندھن کا جلنا شامل ہیں۔نباتاتی غذائیں ماحول کیلئے بہترین قرارمحققین نے یہ بھی پایا کہ نباتاتی غذا(ایسی خوراک جو بنیادی طور پر پودوں سے حاصل کی جاتی ہے) اختیار کرنے والے افراد کی خوراک سے پیدا ہونے والا گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج، گوشت کھانے والے افراد کے مقابلے میں صرف 25 فیصد رہ جاتا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نباتاتی غذا ماحول پر نسبتاً کم منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جنریشن الفا کی گوشت سے بھرپور غذائی عادات انہیں ان بزرگ افراد کے مقابلے میں کہیں زیادہ آلودگی پھیلانے والا بنا رہی ہیں، جو نسبتاً کم جانوروں سے حاصل ہونے والی غذائیں استعمال کرتے ہیں۔

مسجد بی بی خانم

مسجد بی بی خانم

سمرقند میں عظمت تیموری کی شاندار یادگارسمرقند کی تاریخی سرزمین پر قدم رکھتے ہی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انسان صدیوں پر محیط تاریخ کے ایک زندہ باب میں داخل ہوگیا ہو۔ نیلے گنبدوں، بلند میناروں، نفیس نقش و نگار اور شاندار تیموری طرزِ تعمیر سے آراستہ یہ شہر وسطی ایشیا کی تہذیبی عظمت کا آئینہ دار ہے۔ اسی تاریخی شہر میں واقع مسجد بی بی خانم نہ صرف ایک عظیم الشان مذہبی عمارت بلکہ اسلامی فن تعمیر اور تیموری عہد کی شان و شوکت کی ایک قابلِ دید یادگار بھی ہے۔روایات کے مطابق بی بی خانم، امیر تیمور کی اہلیہ تھیں اور دین اسلام، عبادت اور مذہبی امور سے گہری وابستگی رکھتی تھیں۔ امیر تیمور نے اپنی اہلیہ کی خوشی اور عقیدت کے اظہار کیلئے سمرقند میں ایک ایسی عظیم مسجد تعمیر کروانے کا ارادہ کیا جو اپنے حجم، حسن اور شان و شوکت کے اعتبار سے منفرد ہو۔ چنانچہ اس دور کے ماہر معماروں اور کاریگروں نے اپنی فنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مسجد بی بی خانم کی تعمیر کا آغاز کیا۔ تکمیل کے بعد یہ مسجد اپنے زمانے میں وسطی ایشیا کی عظیم ترین مساجد میں شمار ہونے لگی۔مسجد کا سب سے نمایاں وصف اس کا شاندار طرز تعمیر ہے۔ بلند و بالا محرابیں، عظیم الشان گنبد، بلند مینار اور خوبصورت تزئینی کام دیکھنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ عمارت کے مختلف حصوں پر نیلے، فیروزی اور سفید رنگ کی ٹائلوں سے بنائے گئے نقش و نگار تیموری فن تعمیر کی نفاست کا اظہار کرتے ہیں۔ مسجد کی دیواروں اور محرابوں پر کی گئی خطاطی اور تزئینی آرائش اس دور کے فنکاروں کی غیر معمولی مہارت کی گواہی دیتی ہے۔صدیاں گزرنے کے باوجود مسجد بی بی خانم سمرقند کی شناخت کا اہم حصہ رہی، تاہم وقت کے ساتھ قدرتی آفات اور موسمی اثرات نے اس تاریخی عمارت کو شدید متاثر کیا۔ بالخصوص 1966ء کے تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں مسجد کے مختلف حصوں کو نمایاں نقصان پہنچا۔ عظیم گنبد اور دیگر تعمیراتی حصوں کو پہنچنے والے نقصانات نے اس تاریخی ورثے کے مستقبل کے حوالے سے خدشات پیدا کر دیے۔ تاہم بعدازاں اس کی بحالی اور تحفظ کیلئے مختلف ادوار میں اقدامات کیے گئے۔مسجد کی مرمت اور بحالی کے دوران اس بات کا خصوصی خیال رکھا گیا کہ اس کی اصل تاریخی اور معماری شناخت برقرار رہے۔ ماہرین تعمیرات اور ہنرمندوں نے قدیم نقش و نگار، ٹائلوں اور تعمیراتی اسلوب کا باریک بینی سے مطالعہ کیا اور اسی طرز پر بحالی کا کام انجام دیا۔ یوں مسجد کے کئی حصوں کو دوبارہ اس انداز میں آراستہ کیا گیا کہ قدیم تیموری فن تعمیر کی جھلک برقرار رہے۔ ازبکستان کے ماہر کاریگروں نے روایتی نقش و نگاری اور ٹائل سازی کی مہارت کو استعمال کرتے ہوئے اس تاریخی ورثے کی خوبصورتی کو بڑی حد تک بحال کیا۔آج مسجد بی بی خانم نہ صرف عبادت اور مذہبی عقیدت کا مرکز ہے بلکہ دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کیلئے بھی ایک اہم تاریخی مقام کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے بلند گنبد اور مینار دور سے ہی سمرقند کی عظمت کا اعلان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ مسجد کے قریب ایک وسیع اور خوبصورت منقش بازار بھی قائم ہے جہاں مقامی لوگ اور سیاح مختلف اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی چیزیں خریدتے ہیں۔ یہ بازار سمرقند کی قدیم تجارتی روایت اور موجودہ شہری زندگی کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔مسجد بی بی خانم دراصل صرف اینٹوں، پتھروں اور ٹائلوں سے بنی ہوئی عمارت نہیں بلکہ ایک پورے عہد کی تہذیبی، مذہبی اور فنی داستان ہے۔ اس کے بلند مینار تیموری دور کی عظمت کی یاد دلاتے ہیں، جبکہ اس کے مرمت شدہ حصے یہ پیغام دیتے ہیں کہ زندہ قومیں اپنے تاریخی ورثے کو محفوظ رکھ کر آنے والی نسلوں سے جوڑتی ہیں۔ سمرقند آنے والا شاید اس شہر کی بہت سی عمارتیں دیکھے، مگر مسجد بی بی خانم کی عظمت اور حسن کا نقش اس کے ذہن و دل پر ایک دیرپا اثر چھوڑے بغیر نہیں رہتا۔

دنیا بدل دینے والے ریکارڈ ساز بچے

دنیا بدل دینے والے ریکارڈ ساز بچے

12 اگست کو عالمی یومِ نوجوانان منایا جاتا ہے۔ یہ دن نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور بالخصوص ان نوجوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے مخصوص ہے جو تبدیلی کی قیادت کر رہے ہیں اور ایک بہتر مستقبل کی تشکیل میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔گنیز ورلڈ ریکارڈز ایسے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی کامیابیوں کو سراہنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ عظمت اور کامیابی کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔ یہاں ایسے ہی چند حوصلہ افزا اور متاثر کن مثالیں پیش کی جا رہی ہیں۔انسانی کیلکولیٹربھارتی ریاست مہاراشٹرا سے تعلق رکھنے والے 15 سالہ آریان شکلا نے اپنی غیر معمولی ریاضی کی صلاحیتوں سے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ انہوں نے ذہنی حساب کتاب میں کئی عالمی ریکارڈ اپنے نام کیے ہیں۔ آریان اتنی تیزی سے ذہنی حساب کر سکتے ہیں کہ شاید کیلکولیٹر میں اعداد ٹائپ کرنے میں بھی اس سے زیادہ وقت لگ جائے۔آریان کے نام 50 پانچ ہندسوں والے نمبروں کو ذہنی طور پر جمع کرنے کا تیز ترین عالمی ریکارڈ ہے، جس کیلئے انہوں نے محض 25.19 سیکنڈ کا وقت لیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے 100 چار ہندسوں والے نمبروں کو ذہنی طور پر جمع کرنے کا تیز ترین ریکارڈ بھی قائم کیا، جس کیلئے صرف 30.9 سیکنڈ درکار ہوئے۔آریان گلوبل مینٹل کیلکولیٹرز ایسوسی ایشن (GMCA) کے بانی بورڈ اراکین میں شامل ہیں۔ ٹائم میگزین کی کم عمر ترین شخصیتامریکی ریاست کولوراڈو سے تعلق رکھنے والی گیتانجلی راؤ نے صرف 10 سال کی عمر میں ایک ایسا چھوٹا سا آلہ تیار کرنا شروع کیا جس کا نام ''ٹیتھس‘‘ (Tethys) رکھا گیا۔ یہ آلہ پانی میں سیسے کی موجودگی کا پتا لگا سکتا ہے، جو انسانی صحت کیلئے نقصان دہ ہے۔گیتانجلی کی ایک اور قابلِ ذکر ایجاد ''کائنڈلی‘‘ (Kindly) ہے، جو ایک کمپیوٹر ٹیکنالوجی ہے اور سائبربُلنگ یعنی انٹرنیٹ پر دوسروں کو ہراساں کرنے یا دھمکانے کے واقعات کی روک تھام میں مدد دیتی ہے۔ کم عمری میں متعدد نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے پر گیتانجلی راؤ نے ٹائم میگزین کی ''کڈ آف دی ایئر‘‘ بننے والی پہلی شخصیت کا اعزاز حاصل کیا۔کم عمر فیشن ڈیزائنر18 نومبر 2023ء کو امریکی ریاست کولوراڈو کے شہر ڈینور سے تعلق رکھنے والے میکس الیگزینڈر نے صرف 7 سال اور 266 دن کی عمر میں دنیا کے کم عمر ترین رَن وے شو ڈیزائنر کا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ انہیں ڈینور فیشن ویک میں اپنے ملبوسات پیش کرنے کا موقع ملا۔کم عمر ترین ایم بی ای اعزاز یافتہ بچیبرطانیہ کے علاقے ڈورسیٹ سے تعلق رکھنے والی کارمیلا چِلری واٹسن نے صرف 11 سال اور 78 دن کی عمر میں MBE کا اعزاز حاصل کرکے تاریخ رقم کی۔ وہ برطانوی سلطنت کے انتہائی ممتاز ترین اعزاز(Member of the Most Excellent Order of the British Empire)حاصل کرنے والی کم عمر ترین شخصیت بن گئیں۔ یہ ایک باوقار شاہی اعزاز ہے جو بادشاہ کی جانب سے دنیا کیلئے غیر معمولی خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔کارمیلا نے '' LMNA congenital muscular dystrophy‘‘ نامی پٹھوں کو کمزور کرنے والی بیماری کی تشخیص ہوئی۔ اس کے باوجود انہوں نے مختلف فلاحی سرگرمیوں اور فنڈ ریزنگ منصوبوں کے ذریعے اب تک 36 ہزار پاؤنڈ سے زائد رقم خیراتی اداروں کیلئے جمع کی ہے۔

فاطمہ الفہری:علم کی دنیا کا ایک روشن باب

فاطمہ الفہری:علم کی دنیا کا ایک روشن باب

انسانی تاریخ علم و دانش کی ایسی بے شمار روشن مثالوں سے عبارت ہے جہاں مردوں کے ساتھ خواتین نے بھی اپنی علمی، ادبی اور تحقیقی صلاحیتوں کے ذریعے ایسے نقوش چھوڑے جو صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی نمایاں ہیں۔ خصوصاً اسلامی تہذیب کے عہد زریں میں خواتین نے علم کے فروغ، تعلیم کے استحکام اور معاشرے کی فکری تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ انہی باہمت اور صاحب علم خواتین میں ایک نام فاطمہ الفہری کا ہے، جنہیں علمی دنیا میں غیر معمولی مقام حاصل ہے۔فاطمہ الفہری نے ایسے دور میں علم کی شمع روشن کرنے کا عزم کیا جب تعلیم کے مواقع محدود تھے اور علمی اداروں کا قیام آسان کام نہ تھا۔ انہوں نے اپنی خداداد صلاحیت، عزم و حوصلے اور علم دوستی کے ذریعے ایسا کارنامہ انجام دیا جس نے نہ صرف ان کے عہد کو متاثر کیا بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے بھی ایک روشن مثال قائم کر دی۔ ان کا نام بالخصوص مراکش کے شہر فاس میں قائم ہونے والے جامعہ القرویین (Al-Qarawiyyin University)سے وابستہ ہے، جسے دنیا کے قدیم ترین مسلسل قائم رہنے والے تعلیمی مراکز میں شمار کیا جاتا ہے۔فاطمہ الفہری آٹھویں صدی کے آخر میں تیونس کے شہر القیروان میں پیدا ہوئیں۔ بعدازاں ان کا خاندان میفاس مراکش منتقل ہو گیا تھا۔ اُس زمانے میں مراکش اسلامی تہذیب و ثقافت کا ایک بہت بڑا علمی مرکز تھا۔ انہوں نے اپنی ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم اپنے والد محمد الفہری جو ایک تاجر اور پڑھی لکھی شخصیت تھے، کی زیر سرپرستی گھر میں ہی حاصل کی۔ ان کا خاندان چونکہ شروع سے ہی علم دوست اور خوشحال تھا، اس لیے انہوں نے بچپن میں قیروان تیونس میں اسلامی علوم سیکھے اور بعد میں فاس مراکش منتقل ہو جانے کے بعد اسلامی علوم سیکھے۔ چند تاریخی روایات کے مطابق انہوں نے اسلامی فقہ اور ریاضی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی۔والد کے انتقال کے بعد انھیں اپنے والد سے وراثت میں سے خاصی جائیداد ملی۔انہوں نے اپنی دولت کا بہترین استعمال کیا اور اپنی دولت کو اپنی ذاتی آسائشوں کیلئے استعمال کرنے کے بجائے تعلم و علم کی راہ پر وقف کر دیا۔ جب بغداد، قرطبہ، غرناطہ اور فاس جیسے شہروں میں تحقیق، فلسفے اور سائنس کی ترقی پھیل رہی تھی، تو انھوں نے اسی علمی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے 859ء میں مراکش میں ایک مسجد اور علمی درسگاہ بنائی جو بعد میں جامعہ القرویین کے نام سے مشہور ہوئی۔ جس کو دنیا کی پہلی اسلامی اور باقاعدہ ڈگری جاری کرنے والی یونیورسٹی بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا ایک اعزاز یہ بھی ہے کہ یونیسکو، بلکہ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق یہ ایک قدیم ترین تعلیمی ادارہ ہے۔ جامعہ القرویین کی بنیاد پر ہی دنیا کی جدید یونیورسٹیز کی بنیاد رکھی گئی۔ جن میں یورپی جامعات، آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹیز بھی شامل ہیں۔یہ ایک جدید طرز کی اعلیٰ تعلیم گاہ تھی، جہاں مختلف علوم کی تدریس دی جاتی تھی، جن میں اسلامی علوم، عربی زبان و ادب، ریاضی، فلکیات، منطق اور فلسفہ، طبعیات اور کیمیا وغیرہ شامل تھے۔ یہاں کا نصاب جدید خطوط پر استوار تھا۔ اس عظیم ادارے سے نہ صرف مسلم مفکرین ابن خلدون، ابن رشد اور موسیٰ بن میمون نے تعلیم حاصل کی بلکہ مسیحی اور یہودی سکالرز جن میں مشہور یورپی سکالر پوپ سلویسٹر دوم شامل ہیں، جو بعد میں یورپ میں تعلیمی اصلاحات کے بانیوں میں شمار ہوئے، بھی یہیں سے فیض یاب ہوئے۔یوں یہ تعلیمی ادارہ ایک طرح سے مختلف تہذیبوں، ثقافت اور مذاہب کا مرکز بن گیا۔ ماضی میں قرونِ وسطی کے یورپ میں تعلیم کی روشنی پھیلانے میں کئی اہم مفکرین بالواسطہ اور بلاواسطہ اسی یونیورسٹی سے وابستہ رہے۔ یہاں سے فارغ التحصیل طالب علموں نے نہ صرف اسلامی دنیا بلکہ یورپ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔فاطمہ الفہری نے صرف مردوں کیلئے نہیں بلکہ خواتین کی تعلیم کیلئے بھی اہم اقدامات کیے۔ مسجد اور جامعہ کے اندر ایک مخصوص گیلری یا ہال جس کو ''رواق‘‘ کہا جاتا بنایا تاکہ خواتین پردے کے ساتھ تعلیم حاصل کرسکیں، اس طرح خواتین بڑے بڑے علماء کرام اور فقہاء کرام کے لیکچررز بغیر کسی پریشانی کے بڑی سہولت کے ساتھ سن سکتی تھیں۔ یہ ادارہ صرف علم فراہمی کا ہی کام نہیں کرتا تھا بلکہ یہاں علمی مباحث، سوال جواب کرنے کا بھی اہتمام ہوتا تھا۔ جن سے نہ صرف مرد بلکہ خواتین کو بھی عملی میدان میں آگے بڑھنے کی جستجو ہوتی تھی۔ فاطمہ الفہری خود اپنی بہن مریم الفہری کے ساتھ جامعہ کی علمی، ادبی اور تحقیقی سرگرمیوں میں حصہ لیتیں اور نگرانی کیا کرتی تھیں۔ اس طرح یہاں کی تعلیم صنف کے لحاظ سے مساوی تعلیم کے لحاظ سے جدید تعلیمی درسگاہ بھی ہے۔الغرض ان کا یہ کارنامہ نہ صرف اسلامی بلکہ عالمی علمی ورثے میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ فاطمہ الفہری کا یہ عظیم علمی قدم معاشی اور معاشرتی لحاظ سے خود مختاری کو فروغ دیتا ہے۔ فاطمہ الفہری آج کی ان خواتین کیلئے ایک روشن مثال ہیں جو اپنی زندگی میں بااختیار بن رہی ہیں، اگر آج کی خواتین اس مثال کو سامنے رکھیں تو وہ بھی اپنا نام رہتی دنیا تک سنہری حروف میں شامل کر سکتی ہیں جو ایک ترقی یافتہ اور باشعور و خوشحال معاشرے کی بنیاد بنتی ہیں۔فاطمہ الفہری کی زندگی اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ علم کی خدمت کیلئے نہ جنس رکاوٹ ہے، نہ زمانہ اور نہ ہی حالات۔ ان کی داستان دراصل ایک ایسی خاتون کی داستان ہے جس نے اپنے عزم، سخاوت اور علم سے محبت کے ذریعے تاریخ کے صفحات پر اپنا نام ہمیشہ کیلئے ثبت کردیا۔

آج کا دن

آج کا دن

اناطولیہ میں زلزلہشمالی اناطولیہ میں 17 اگست 1668 ء کوخوفناک زلزلے نے تباہی مچائی جس کی شدت 7.8 سے 8.0 تک ریکارڈ کی گئی۔ تقریباً8ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ یہ اس وقت تک ترکی میں ریکارڈ کئے جانے والا سب سے طاقتور زلزلہ تھا۔شمالی اناطولیہ دو ٹیکٹونک پلیٹوں کے درمیان واقع ہے،یہی وجہ ہے کہ یہاں اکثر زلزلوں کے جھٹکے محسوس کئے جاتے ہیں۔انڈونیشیا کی آزادی کا اعلاندوسری جنگ عظیم کے اختتام پر 15 اگست 1945ء کو جاپان نے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا۔ جاپانی قبضے کے خاتمے اور ڈچ نوآبادیاتی حکومت کی عدم موجودگی نے ایک سیاسی خلا پیدا کیا جسے انڈونیشی قوم پرست قیادت نے آزادی کے اعلان کیلئے تاریخی موقع سمجھا۔ سوئیکارنو اور محمد حتّا نے ایک سادہ سی تقریب میں انڈونیشیا کی آزادی کا اعلان کیا۔آپریشن ہائیڈرا17اگست1943ء کی رات کو رائل ائیر فورس کی جانب سے جرمن سائنسی تحقیقی مرکز پر حملہ کیا گیا ۔ اس حملے کو ''آپریشن ہائیڈرا‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، جس میں جرمنی کے دوراکٹ سائنسدان ہلاک ہوئے جو ایک خصوصی راکٹ پروگرام پر کام کر رہے تھے۔ان دونوں کی ہلاکت کی وجہ سے راکٹ پروگرام میں دو سال کی تاخیر ہوئی۔ریگنز برگ مشندوسری عالمی جنگ کے دوران 17 اگست 1943ء کو امریکی فوج کی جانب سے ایک بھرپور فصائی حملہ کیا گیا۔اس مشن کو ''ڈبل سٹرائیک مشن ‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔یہ امریکی مشن ان چند حملوں میں سے ایک تھا جس میں مشن پر جانے والی افواج نے پہلی کارروائی پوری کرنے کے بعد واپس آنے سے قبل دوسرے ہدف کو بھی نشانہ بنایا۔ سٹریتھ فیلڈ قتل عام17اگست1991ء کو سڈنی ، آسٹریلیا ، فیلڈ سٹریتھ میں ایک شاپنگ مال میں فائرنگ کا ہنگامہ خیز واقع پیش آیا۔ فائرنگ فرینکم نامی شخص کی جانب سے کی گئی جس نے پولیس کے موقع پر پہنچنے سے قبل خودکشی کر لی۔اس واقعہ میں8افراد ہلاک جبکہ 6زخمی ہوئے۔ فرینکم کے گھر سے پر تشدد لٹریچر اور فلموں کی کاپیاں بھی ملیں۔ مائیکل فیلپس کا تاریخی ریکارڈ2008ء میں ہونے والی بیجنگ اولمپکس میں امریکی تیراک مائیکل فیلپس نے 17 اگست کو آٹھ سونے کے تمغے جیت کر نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا، جو آج تک اولمپک تاریخ کا یادگار لمحہ سمجھا جاتا ہے۔اس سے قبل 1972ء کے میونخ اولمپکس میں مارک اسپِٹز نے تیراکی میں سب سے زیادہ سات طلائی تمغے جیتنے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا جو 36 برس تک ناقابلِ شکست رہا۔لیونسکی سکینڈل1998ء میں آج کے روز امریکی صدر بل کلنٹن نے ریکارڈ شدہ بیان میں وائٹ ہاؤس کی انٹرن مونیکا لیونسکی کے ساتھ جسمانی تعلق کا اعتراف کیا۔ انہوں نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ انہوں نے اس تعلق کے بارے میں لوگوں کو گمراہ کیا تھا۔یہ اسکینڈل امریکی سیاست میں ایک بڑا تنازع بن گیا اور صدر کلنٹن کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی بنیاد بنا۔

’’موسیقی تمہارے لئے شجر ِممنوعہ ہے، پاس مت جانا‘‘

’’موسیقی تمہارے لئے شجر ِممنوعہ ہے، پاس مت جانا‘‘

فتح علی خان بیٹے کو ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے، اُسے بار بار یاد دلاتے ''موسیقی تمہارے لئے شجر ِممنوعہ ہے، پاس مت جانا‘‘نصرت فتح علی خان کی برسی کے حوالے سے ایک بچے کی مختصرداستان جسے قوالی سے دُور رکھا جاتا تھاسُر کے سفر پر روانگی بہت آسان لیکن سفر بہت جان لیوا ہوتا ہے۔ ہر گانے والے کو منزل بہت نزدیک نظر آتی ہے، لیکن جب قدم بڑھا کر قریب جانا چاہتا ہے تو فاصلہ کچھ اور بڑھ جاتا ہے۔ اس بحر بیکراں کا ماہر پیراک بھی کبھی کبھی ایک معمولی لہریا موج کے بھنور میں پھنس کر دم توڑ دیتا ہے۔ موسیقی کی دنیا آئینے کا وہ نازک کمرہ ہے جہاں فنکار کی آواز ذرا بھی سر سے لاتعلقی ظاہر کرتے تو یہ کمرہ چکنا چور ہو جاتا ہے۔ نصرت نے موسیقی کو کھیل سمجھ کر نہیں کھیلا۔ پورے جسم کو کان بنا کر اس کے اصول و قواعد کو رگ و پے میں اتارا ۔ فتح علی خان نے زمین میں ہل چلا کر اسے بھر بھرا کر دیا تھا۔ مبارک علی خان اور سلامت علی خان کی تربیت نے سونے پر سہاگے کا کام کیا۔فتح علی خان اور مبارک علی خان کی وفات کے بعد اس گھرانے سے قوالی کا سلسلہ بند نہیں ہوا تھا۔ ان دونوں کے بعد سلامت علی خان قوالی کو لیڈکرتے تھے۔ نصرت قوالی میں شامل ہوتے لیکن ان کی حیثیت کرکٹ کے بارھویں کھلاڑی جیسی تھی۔ قوالی کے شروع میں نصرت ایک آدھ سولوپروگرام کرتے۔ اس کے بعد ان سے کہا جاتا کہ گاڑی میں جا کر سو جائو۔ قوالی تمہارے بس کا روگ نہیں، ہم خود کر لیں گے۔نصرت اپنے نام کا مطلب جانتے تھے۔ اسے یقین تھا کہ فتح ان کی ہو گی لیکن کب ہو گی اس کا انہیں پتہ نہ تھا۔ انہیں صرف یہ پتہ تھا کہ انہیں محنت اور ریاض تیز اور طویل کردینا چاہیے تاکہ فتح کا لمحہ قریب تر ہو جائے۔ نصرت فتح علی خان استاد فتح علی خان کے بیٹے ضرور تھے لیکن انہوں نے شہرت کمانے کیلئے بہت پاپڑ بیلے۔ نصرت کے آغاز کا زمانہ دراصل غلام فرید صابری کے عروج کا زمانہ تھا۔ ہر طرف اس کا نام اور کام داد حاصل کر رہا تھا۔ نیشنل آرٹ کونسل اسلام آباد کا ''جشن امیر خسرو‘‘ قوالی کا ایک یاد گار جلسہ تھا۔ اس تقریب میں قوالی کی 700سالہ روایت کوبھرپور انداز میں پیش کیا گیا۔ بھٹو عہد میں ہونے والی یہ تقریب اسلامی ممالک کی کانفرنس کی طرح بڑی خوبصورت اور پروقار تقریب تھی۔ پورے ملک کے نامور قوال اس میں شرکت کر رہے تھے۔ منظور نیازی، بہائوالدین اور غلام فرید صابری ان میں پیش پیش تھے۔ نصرت فتح علی خان کو دعوت نامہ ملا مگر ذرا تاخیر کے ساتھ۔ وہ اپنی پارٹی کے ساتھ وہاں پہنچے تو عجیب سماں تھا، سب قوال پارٹیاں دو دو تین تین دن پہلے پہنچ چکی تھیں اور اپنے اپنے آئٹم منتخب کر لئے تھے۔ شرط یہ تھی کہ صرف حضرت امیر خسرو کا کلام گایا جائے۔ نصرت جس آئٹم کا نام لیتے،جواب ملتا ''یہ منظور نیازی گائیں گے‘‘۔وہ کوئی اور نام لیتے تو جواب آیا۔''یہ غلام فرید صابری گائیں گے‘‘۔ایک ایک کرکے سب آئٹم لوگوں کے حصے میں آ گئے۔ نصرت سوچ میں پڑ گئے لیکن گھبرائے نہیں۔خاندانی قوال تھے۔ یادداشت کے اوراق پلٹے۔ خاندانی ورثے کی طرف نظر دوڑائی جو بزرگوں سے سیکھا تھا اس کا جائزہ لیا۔ پرانی بندشوں کو یاد کیا اور پھر ایک ایسا گوہر نایاب سامنے رکھ دیا جو کسی قوال نے پہلے نہیں دیکھا تھا اور جو صرف نصرت فتح علی خان کے خاندان کو یاد تھا۔ یہ امیر خسرو کا ایک نایاب شاہکار تھا:''میں تو پیا سے نیناں ملا آئی رے‘‘بقول تقریب کے سیکرٹری ملک سجاد حیدر نصرت نے جو گایا وہ سب لوگوں اور قوال حضرات کیلئے بھی بالکل نئی چیز تھی۔ اس کے بعد نصرت فتح علی خان نے راگ ساز گیری گایا۔ ہال بے خود ہو گیا۔ لوگ نصرت کو سٹیج سے جانے نہیں دے رہے تھے، یہاں نصرت نے قوالی شروع کی تو سننے والے بے قابو ہو گئے۔ ایک روحانی اثر چاروں طرف پھیل گیا۔ امیر خسرو، موسیقی اور نصرت فتح علی خان کے انداز نے سب کو گرویدہ بنا لیا۔ اب نصرت اس منزل کے بالکل قریب آ گئے تھے جس کی طرف انہوں نے استاد فتح علی خان کے چہلم پر پہلا قدم بڑھایا تھا۔اب ذرا نصرت کے گھر چلتے ہیں۔استاد فتح علی خان نے اس گھر کو پوری آرائشوں اور سہولتوں سے آراستہ کیا تھا۔ ہر قسم کی نعمت اپنے بچوں کو دی۔ نصرت کی چار بہنیں اور ایک بھائی فرخ (راحت کے والد جو نصرت کے ساتھ قوالی میں سنگت کرتے تھے) آرام سے رہ رہے تھے۔ فتح علی خان نے نصرت کو بار بار احساس دلایا تھا ''موسیقی تمہارے لئے شجر ممنوعہ ہے۔ اس کے پاس نہ جانا، میں تمہیں گویا نہیں ڈاکٹر بنانا چاہتا ہوں‘‘۔ نصرت نے یہ بات غور سے سنی لیکن اندر رہی اندر شجر ممنوعہ کے پھل کی لذت آرزو بن کر پروان چڑھتی رہی۔ نصرت چپکے چپکے طبلے اور ہارمونیم پر موسیقی کے ابتدائی اسباق دھراتے رہے۔ فتح علی خان بڑے بارعب انسان تھے۔ گھر میں داخل ہوتے تو ہنستے چہرے سنجیدہ ہو جاتے تھے۔ بچوں پر ان کا بڑا رعب تھا، ان کی موجودگی میں کوئی ہوں تک نہیں کرتا تھا۔ ایک دن نصرت ہار مونیم پر دل بہلا رہے تھے۔ سروں میں اتنے مگن تھے کہ انہیں اس بات کا بھی پتہ نہ چل سکا کہ ان کے والد پیچھے کھڑے سب کچھ سن رہے ہیں۔ جب کسی نے اشارے سے فتح علی خان کی موجودگی کا احساس دلایا تو نصرت ہارمونیم چھوڑ کر کھڑے ہو گئے۔ فتح علی خان کے سنجیدہ چہرے پر مسکراہٹ مچلی، بیٹے کے شوق کو سراہا۔ کبھی کبھی موسیقی سے دل بہلانے کی اجازت دی لیکن یہ بھی یاد دلا دیا کہ میں تمہیں ڈاکٹر بنانا چاہتا ہوں، گویا نہیں۔باپ کی اجازت سے نصرت کے اندر موسیقی کے سوتے پھوٹنے لگے اور وہ فارغ وقت میں موسیقی کا ریاض کرنے لگے۔ فتح علی خان بیٹے کے اندر چھپے ذوق کو دیکھ کر اسے گاہے بگاہے کلاسیکل موسیقی کا سبق دیتے رہے اور پھر نصرت نے جی جان سے موسیقی کی طرف دھیان دینا شروع کردیا اور اپنے والد کو یقین دلا دیا کہ میں غبی نہیں۔ کچھ کرنے کا جذبہ اور حوصلہ رکھتا ہوں ۔کلکتے کا ایک مشہور گائیک پنڈت وینا ناتھ پاکستان کے دورے پر آیا ہوا تھا۔ سارا پاکستان گھوم کر وہ فیصل آباد آ گیا۔ فتح علی خان سے اس کی شناسائی تھی، اس کے پاس آکر ٹھہرا۔باتوں باتوں میں فتح علی خان نے پنڈت سے پوچھا ''سنایئے پنڈت جی، کیسا رہا پاکستان کا دورہ۔‘‘پنڈت نے جواب دیا۔''بالکل فضول، بکار، سُرگلے میں تڑپ رہے ہیں، گانے کو ترس گیا ہوں۔‘‘''کیوں پنڈت جی؟‘‘۔''ارے فتح علی خان۔ کیا گائوں، کوئی طبلے پر سنگت کی حامی بھرے تو گائوں، گانا شروع کرتا ہوں تو طبلے والا، طبلے پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاتا ہے۔ بس اپنی گائیکی جیسی لایا تھا۔ واپس کلکتے لے کر جا رہا ہوں...‘‘پنڈت جی یہ کہہ کر سونے چلے گئے۔ فتح علی خاں سوچ میں پڑ گئے کہ پنڈت کیا کہہ گیا۔ وہ اسی سوچ میں گم تھے کہ نصرت سکول سے واپس آ گیا۔ فتح علی خان نے بیٹے کو دیکھا۔ بالکل اس طرح جیسے ایک مالی کیاری میں لگے پودے کو پروان چڑھتے دیکھتا ہے۔ چند لمحے اسے غور سے دیکھتے رہے۔ فتح علی خان کو پتہ تھا کہ نصرت ہار مونیم کے ساتھ ساتھ طبلے پر بھی ریاضت کرتا ہے۔ اسے قریب بٹھایا اور کہنے لگے۔ ''پنڈت دینا ناتھ کہتے ہیں کوئی طبلے والا ان کے ساتھ سنگت نہیں کر سکتا۔‘‘نصرت نے جواب دیا۔''آپ کی اجازت ہو تو میں حاضر ہوں۔‘‘فتح علی خان کا سینہ خوشی سے پھول گیا۔ بیٹے کو دو چار گُر کی باتیں بتائیں۔ نصرت نے مشق کرکے انہیں ذہن نشین کر لیا۔ شام کو پنڈت جی سے گانے کی فرمائش کی گئی تو انہوں نے کہا،'' مگر طبلے پر سنگت کون کرے گا‘‘ ۔فتح علی خان نے نصرت کی طرف اشارہ کیا۔ پنڈت ہنس کر کہنے لگے۔''ارے، موٹو نصرت۔‘‘۔''ہاں، ہے موٹو مگر ذہن بہت باریک ہے‘‘۔باپ نے جواب دیا۔پنڈت نے یہ سوچ کر گانا شروع کر دیا کہ فتح علی خان کا بیٹا ہے ہاتھ چلا ہی لے گا۔ مچھلی کا بچہ پانی سے تھوڑا بہت تو واقف ہوتا ہی ہے۔ گانا شروع ہوا تو پنڈت کو محسوس ہوا کہ وہ سخت الجھن میں ہے۔ نصرت نے سوچا پہلی بار باپ نے میدان میں چھوڑا ہے ناکام ہواتو ساری عمر اعتماد قائم نہیں کر سکے گا۔ نصرت کی انگلیاں بجلی کی طرح طبلے کے پڑوں پر تھرک رہی تھیں وہ پنڈت کو یقین دلانا چاہتا تھا کہ میدان میں تمہارے مد مقابل عظیم فتح علی خان کا بیٹا ہے، سنبھل کے بول پکڑنا۔ اور پنڈت گانا روک کر حیرت بھری نظروں سے نصرت کو دیکھ رہا تھا۔ آخر اس نے نصرت کو گلے لگایا، چوما، داد دی اور فتح علی خان سے کہنے لگا:'' میں ہارا فتح علی خان۔ تیرا یہ چھوٹا سا بیٹا بڑا گُنی ہے‘‘مستقبل کے بڑے فنکار نصرت کی یہ پہلی کامیابی اور جیت تھی۔مقبول قوالیاں و گیت٭... اللہ ھو ٭... وہی خدا ہے٭...میری زندگی ہے تو،٭... کسی دا یار نا وچھڑے، ٭...تم اک گورکھ دھندا ہو،٭... یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے، نصرت کی گائی ہوئی غزلیں٭...نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالے(قمر جلالوی)٭...میرے رشک قمر(فنا بلند شہری)٭...سادگی تو ہماری ذرا دیکھیے اعتبار آپ کے وعدے پر کر لیا(صبا اکبرآبادی)٭...ہے کہاں کا ارادہ تمہارا صنم کس کے دل کو اداؤں سے بہلاؤ گے(فنا بلند شہری)٭...ایسا بننا سنورنا مبارک تمہیں کم سے کم اتنا کہنا ہمارا کرو(فنا نظامی کانپوری)٭...آنکھ اٹھی محبت نے انگڑائی لی دل کا سودا ہوا چاندنی رات میں(فنا بلند شہری)٭...آج کوئی بات ہو گئی(پرنم الہ آبادی)٭...سحر قریب ہے تاروں کا حال کیا ہوگا٭...ان کی طرف سے ترک ملاقات ہو گئی(قمر جلالوی)٭...شہر فصل گل سے چل کر پتھروں کے درمیاں(بشیر فاروقی)٭...پھروں ڈھونڈتا میکدہ توبہ توبہ مجھے آج کل اتنی فرصت نہیں ہے٭...مست نظروں سے اللہ بچائے مہ جمالوں سے اللہ بچائے٭...میری آنکھوں کو بخشے ہیں آنسو دل کو داغ الم دے گئے ہیںانعامات اور لقب٭...1987ء میں انھیں صدر پاکستان کی طرف سے ''پرائیڈ آف پرفارمنس‘‘ کا ایوارڈ ملا۔٭...1995ء میں انھیں یونیسکو میوزک پرائز ملا۔٭... 1996ء میں انہیں '' فوکوکا ایشین کلچر پرائز‘‘ سے نوازا گیا۔ ٭...جاپان میں انھیں بڈائی یا ''سنگنگ بدھا‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔٭...1997ء میں دو گریمی ایوارڈز لوک البم اور ورلڈ میوزک البم کیلئے نامزد ہوئے۔٭... 1998ء میں پی ٹی وی لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ٭...2001ء تک ان کے پاس ''سب سے زیادہ قوالی ریکارڈنگز‘‘کا گنیز ورلڈ ریکارڈ تھا۔٭...2005ء میں بعد از مرگ ''یو کے ایشین میوزک ایوارڈز‘‘ میں ''لیجنڈزایوارڈ‘‘ ملا۔ ٭...6 نومبر 2006ء کو شائع ہونے والے ٹائم میگزین کے شمارہ''ایشیائی ہیروز کے 60 سال‘‘میں انھیں 60 سالوں میں سرفہرست 12 فنکاروں میں درج کیاگیا۔ ٭... 2010ء میں این پی آر کی 50 عظیم آوازوں کی فہرست میں شامل ہوئے۔٭...2010ء: سی این این کی 50 سال کے 20 نامور موسیقاروں کی فہرست میں شامل ہوئے۔ ٭...اپنے والد کی برسی کے موقع پر کلاسیکی موسیقی پیش کرنے کے بعد استاد کا خطاب دیا گیا۔