سنہرے بنگال کے آخری ایّام

سنہرے بنگال کے آخری ایّام

اسپیشل فیچر

تحریر : جاوید ہاشمی


اکتوبر 1971ء میں پنجاب یونیورسٹی یونین کو ایران یا مشرقی پاکستان میں سے کسی ایک جگہ دورہ کرنے کا اختیار دیا گیا۔ کچھ دوستوں کا خیال تھا ایران چلیں جہاں شہنشاہ رضا شاہ پہلوی بادشاہت کا اڑھائی ہزار سالہ جشن منا رہے تھے، اس بات سے بے خبر تھے کہ ان کی بادشاہت اڑھائی دن کی مہمان ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ مشرقی پاکستان جاکر اپنے روٹھے ہوئے بھائیوں کو منانے کی کوشش کریں۔ پروفیسر وارث میر کی قیادت میں قافلہ دل روانہ ہوا۔ سری لنکا کا طویل چکر کاٹ کر جب ہم ڈھاکہ ایئرپورٹ پر اترے تو ایک خوفناک خاموشی نے ہمارا استقبال کیا۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کے حکام اور اساتذہ کرام موجود تھے۔ پژمردہ چہروں نے اپنے مہمانوں کو ڈھاکہ یونیورسٹی پہنچا دیا۔ ایئرپورٹ سے یونیورسٹی کے ہاسٹلز تک راستے میں ایک مہیب خاموشی تھی۔ بعد میں پتہ چلا مکتی باہنی نے اپنے ریڈیو پر ہمیں قتل کرنے کے فیصلے کا اعلان کیا ہے اور ہر ایک کے سر کی قیمت مقرر کر دی ہے۔ ہم نے ہمت نہ ہاری اور اپنا دورہ شروع کر دیا۔ ہم ان 15 دنوں میں ہر مکتبہ فکر کے لوگوں سے ملے، اخبارات کو انٹرویو دیے، ٹی وی مکالموں میں حصہ لیا۔ بیت المکرم میں جمعہ ادا کیا۔ پلٹن میدان میں میزبانوں کے ساتھ چائے پی۔ شیر بنگال اور خواجہ ناظم الدین کے مزاروں پر حاضری دی۔ محمد پور اور میرپور کے بہاری کیمپوں کا دورہ کیا۔ بہاری عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور جوانوں کے کٹے ہوئے اعضاء دیکھے۔ ہماری ملاقات جنرل رائو فرمان اور جنرل اے کے نیازی سے ہوئی، البدر اور الشمس کے کمانڈروں سے بھی۔ چٹاگانگ کے کمشنر ایس کے جیلانی سے، فوج کے سپاہیوں اور کمانڈروں سے بھی۔ ہمیں بہت جلد احساس ہو گیا کہ ہم مفتوحہ علاقے میں ہیں اور یہ مغربی پاکستان کا آخری وفد ہے جو پاکستان کے پاسپورٹ پر یہاں آیا ہے۔ چار واقعات ایسے ہیں جو ہمیشہ یاد آتے ہیں۔ میں نے گاڑی سے اتر کر سائیکل رکشہ پر سفر شروع کیا اور دیکھا رکشہ ڈرائیور ہڈیوں کا ڈھانچہ ہے۔ میں نے کہا میں رکشا کھینچوں گا اور وہ پچھلی سیٹ پر بیٹھے گا۔ وہ خوف زدہ ہو گیا اور کانپنے لگا، مگر انکار نہ کر سکا۔ میں چاہتا تھا کہ ڈھاکہ کے لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ ہم انہی میں سے ہیں۔ تھوڑی دور جا کر اس نے بلند آواز سے کہا: رکشہ روکو، مجھے روزمرہ کی بنگالی آتی ہے۔ میں نے اس سے پوچھا تم ڈر کیوں رہے ہو؟ اس نے کہا یہ سائیکل رکشہ ہندو مہاجن کی ملکیت ہے، اگر اسے نقصان پہنچا تو میرے بچے بھوکے مر جائیں گے۔ مشرقی پاکستان کی ترقی کے نعرے کھوکھلے تھے، بنگالی معیشت پر ہندو کے اثرات کو سمجھنے کے لئے اب مجھے کسی دانشور، کسی کتاب کی ضرورت نہیں تھی۔ ہم ڈھاکہ ٹیلی ویژن پر انٹرویو دینے گئے تو ہمارے لیے ٹی وی سٹیشن پر خصوصی انتظامات کیے گئے۔ گویا جیسے شہزادے اپنی رعایا کو دیکھنے آئے ہیں۔ انٹرویو دے کر باہر نکل رہے تھے کہ ڈی ایس پی فیاض شاہ ہمیں دفتر میں لے گئے اور حکم جاری کیا کہ ٹی وی کے معمول کے پروگرام کو روک کر نورجہاں کے گانے شروع کر دیئے جائیں ’’لاہور توں منڈے آئے نیں۔‘‘ پورا مشرقی پاکستان پنجابی گانے سن رہا تھا۔ کیا آج بھی موسیقی روح کی غذا تھی؟ہم ڈھاکہ کے نواح میں دریائے شتولاک کو کشتی سے عبور کرکے پٹ سن کے کارخانے پر تعینات ان پولیس اور فوج والوں سے ملنے گئے جن کا تعلق لاہور سے تھا۔ راستے میں ہم نے دیکھا گدھ اور کتنے ایک انسانی لاش کو بھنبھوڑ رہے تھے۔ میں نے ایک آفیسر سے پوچھا تو وہ ہنسا اور اس نے کہا: یہ ایک چالاک بنگالی تھا۔ ہمارے بیٹ مین نے کہا کہ کئی دن ہو گئے ہیں ہم نے کوئی بنگالی نہیں مارا۔ یہ شخص کشتی پر جا رہا تھا، ہم نے پکارا تو اس نے کشتی تیز کرکے بھاگنا چاہا، میں نے نشانہ لے کر گولی چلائی اور اس نے پانی میں غوطہ لگا دیا، بڑی مشکل سے اس کی ٹانگ پر گولی لگی تو یہ قابو آ گیا، خیر آپ اس قصے کو چھوڑیں، ہم کافی دیر سے کھانے پر آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ بنگالنیں بہت اچھا کھانا بناتی ہیں اور ہر قسم کی خدمت کے لیے حاضر ہیں۔ جنرل فرمان علی نے کہا: آپ کو شفیق الاسلام کے ساتھ ان کے عزیزوں کے ہاں افسوس کے لیے جانا ہے کہ ایک المناک واقعہ ہوا ہے۔ شفیق الاسلام مسلم لیگی رہنما تھے۔ واقعہ کی جو تفصیلات انہوں نے ہمیں بتائیں وہ رونگٹے کھڑے کر دینے والی تھیں۔ فوجی ایکشن کے دوران کچھ جوان ایک گھر میں داخل ہوئے، جہاں خواتین جمع تھیں، خواتین پر حملہ کیا تو وہ قرآن اٹھا لائیں اور کہا: ہم آپ کی بہنیں ہیں اور آپ کی کامیابی اور سلامتی کے لیے اکٹھی ہو کر اجتماعی دعا مانگ رہی ہیں۔ حملہ آوروں نے کہا کہ ہم جس گھر میں جاتے ہیں یہی بہانہ بنایا جاتا ہے، ہمیں معلوم ہے آپ کا تعلق مکتی باہنی سے ہے۔ وہ واسطے دیتی رہیں، لیکن حملہ آوروں نے ان کی ایک نہ سنی۔ بعد میں حقیقت سامنے آئی اور محب وطن بنگالیوں نے شدید احتجاج کیا تو گورنر سمیت سب نے ان سے معذرت کی، صرف معذرت! اپنی مائوں اور بہنوں کے سامنے ہم شرم سے سر جھکائے کھڑے تھے۔ سفر کے آخری مرحلے میں ہم چٹاگانگ سے آگے کپتائی جھیل کے کنارے پہنچے ۔ ہمیں کہا گیا کہ فوراً ڈھاکہ پہنچیں، آپ کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ میں بضد تھا کہ ہمیں حسب پروگرام راجشاہی جانا چاہیے۔ حکام نے پروفیسر وارث میر کو اطلاع دی کہ راجشاہی کے وائس چانسلر راجشاہی سے بھاگ کر ڈھاکہ پہنچے ہیں، خطرہ مول نہ لینا چاہیے۔ میں نے کہا اگر ہماری لاشیں مغربی پاکستان جائیں گی تو انہیں احساس ہوگا کہ مشرقی پاکستان میں آگ اور خون کی ہولی جاری ہے۔ میرے ساتھیوں نے میری تجویز کو رد کر دیا اور واپسی کا سفر شروع ہو گیا۔ ہم چٹاگانگ گیریژن میں کھانا کھانے گئے۔ ایک کرنل نے پنجرے میں بند بلبل کی طرف اشارہ کرکے کہا: میں اس سے باتیں کرتا رہتا ہوں۔ میں نے کہا: کرنل صاحب: کیا آپ اس بلبل کو آزاد کر سکتے ہیں؟زندہ لاشہم مغربی پاکستان سے آنے والی آخری پروازو ں میں سے ایک پر سوار ہوئے۔ سنہرے بنگال کو کالے بادلوں نے ڈھانپ رکھا تھا۔ میں اپنے آپ کو زندہ لاش محسوس کر رہا تھا۔ میری روح سندر بن کے جنگلات شاہ جلال کے مزار اور بین المکرم کے میناروں کے گرد بھٹک رہی تھی۔ میں آج بھی بے روح زندگی گزار رہا ہوں۔ مجھے حبیب جالب کی نظم کے شعر یاد آ رہے تھے۔ محبت گولیوں سے بو رہے ہووطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہوگُماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہےیقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو1999ء میں میاں نوازشریف کی نمائندگی کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرنے گیا۔ مختلف ممالک کے وفود کو کارگل کی صورتحال پر پاکستان کے موقف سے آگاہ کرنے کے لیے بنگلہ دیشی وفد کے سربراہ ڈاکٹر عبدالصمد سے ملا۔ وہ شیخ مجیب کے قریبی ساتھی اور پرانے عوامی لیگی تھے۔ انہوں نے کہا کہ الگ ہو کر ہم دونوں ’’لائٹ ویٹ‘‘ ہو گئے۔ یہی بات مجھے عوامی لیگ کی وزیر ماحولیات ساجدہ سید نے پچھلے سال مالدیپ میں کانفرنس کے موقع پر کہی تھی۔ ڈاکٹر عبدالصمد سوالیہ انداز میں کہنے لگے، ہندوستان بین الاقوامی سیاست میں طاقتور بن کر ابھرا ہے۔ ہمیں نکال کر آپ نے کونسی ترقی کر لی ہے؟ پھر اچانک موضوع بدل کر کہنے لگے: آپ کی کرکٹ ٹیم انڈیا سے اتنی بری طرح کیوں ہاری؟ میں ساری رات روتا رہا ہوں، پھر ہم دونوں مل کر رو رہے تھے… انڈیا سے میچ ہارنے پر… ہمیں نہ اپنے سٹاف کی پرواہ تھی نہ اردگرد کے لوگوں کی…اسی رات ہم ٹوکیو روانہ ہو گئے۔ میں جہاز میں سو گیا، ٹوکیو پہنچ کر سیدھا ہوٹل گیا اور تیار ہو کر کانفرنس ہال پہنچا۔ ڈاکٹر عبدالصمد اس کانفرنس کی صدارت کر رہے تھے۔ انہوں نے اجلاس چائے کے لیے ملتوی کیا اور مجھے اپنے کمرے میں بلا لیا، میں جونہی اندر داخل ہوا، انہوں نے سیکرٹری کو ہدایت کی کہ کسی کو اندر نہ آنے دیا جائے۔ میرے بیٹھتے ہی اخبار میرے سامنے رکھ دیا جس میں لکھا تھا، ہندوستان نے کارگل میں سب سے بڑی اور آخری چوٹی ٹائیگر بھی پاکستان سے واپس چھین لی۔ میں نے نظر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا وہ پھر رو رہے تھے… ایک اور میچ ہارنے پر… مگر میرے آنسو خشک ہو چکے تھے… میں جانتا تھا اس میچ کی ناکامی کا طوق کس کے گلے میں پڑے گا۔ میں ان مقامات آہ و فغاں کے لیے اپنے آنسو بچا کر رکھنا چاہتا تھا۔ (جاوید ہاشمی کی کتاب’’ہاں میں باغی ہوں‘‘ سے ماخوذ، اسے ساگر پبلشرز نے اردو بازار لاہور سے چھاپا)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
غلامی سے نجات کا عالمی دن

غلامی سے نجات کا عالمی دن

تاریخ،حقیقت اور آج کا چیلنجہر سال 25 مارچ کو دنیا بھر میں غلامی اور غلاموں کی تجارت کے متاثرین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن انسانیت کی تاریخ کے ایک سیاہ باب،بحرِ اوقیانوس کے پار غلاموں کی تجارت کو یاد کرنے اور اس کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے مخصوص ہے۔ اقوامِ متحدہ نے اس دن کو 2007ء میں باقاعدہ تسلیم کیا تاکہ نہ صرف ماضی کی ہولناکیوں کو یاد رکھا جائے بلکہ آج کی دنیا میں موجود جدید غلامی کے خلاف شعور بھی اجاگر کیا جا سکے۔ غلامی کی تاریخ، المناک داستانتاریخی طور پر غلامی صدیوں تک انسانی معاشروں کا حصہ رہی مگر 15ویں سے 19ویں صدی تک جاری رہنے والی ٹرانس اٹلانٹک غلاموں کی تجارت کو انسانی تاریخ کا بدترین باب سمجھا جاتا ہے۔ اس دوران اندازاً ایک کروڑ پچاس لاکھ سے زائد مرد، خواتین اور بچوں کو زبردستی افریقہ سے امریکہ منتقل کیا گیا۔ ان میں سے لاکھوں افراد سمندری سفر کے دوران ہی ہلاک ہو گئے جبکہ زندہ بچنے والوں کو غیر انسانی حالات میں کام کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اس ظلم نے نہ صرف لاکھوں زندگیاں تباہ کیں بلکہ نسل در نسل سماجی، معاشی اور ثقافتی اثرات بھی چھوڑے جن کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔مگریہ سمجھنا غلط ہوگا کہ غلامی صرف ماضی کا قصہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی دنیا میں غلامی مختلف شکلوں میں موجود ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً پانچ کروڑ لوگ جدید غلامی کا شکار ہیں۔ ان میں سے دو کروڑ80لاکھ افراد جبری مشقت میں جبکہ دوکروڑ20 لاکھ جبری شادیوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ہر 150 میں سے ایک انسان کسی نہ کسی شکل میں غلامی کا شکار ہے۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ غلامی ختم نہیں ہوئی بلکہ اس نے نئی شکلیں اختیار کر لی ہیں جیسے انسانی سمگلنگ، جبری مشقت،قرض کے بدلے غلامی،کم عمری کی شادی،جنسی استحصال وغیرہ۔اعداد و شمار کے مطابق خواتین اور بچے اس ظلم کا سب سے بڑا شکار ہیں۔جبری جنسی استحصال کے تقریباً 80 فیصد متاثرین خواتین اور لڑکیاں ہیں۔ غلامی کا شکار افراد میں ایک بڑا حصہ بچوں پر مشتمل ہے جنہیں مزدوری یا جنسی استحصال کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ غلامی صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین انسانی حقوق کا بحران ہے۔پاکستان اور خطے کی صورتحالگلوبل سلیوری انڈیکس کے مطابق پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں جدید غلامی ایک اہم مسئلہ ہے۔ اندازوں کے مطابق پاکستان میں تقریباً 23 لاکھ افراد کسی نہ کسی شکل میں غلامی کا شکار ہیں۔ غلامی کی عام صورتوں میں اینٹوں کے بھٹوں پر جبری مشقت،زرعی شعبے میں قرض کے بدلے کام،گھریلو ملازمین کا استحصال اور بچوں سے مشقت شامل ہے ۔یہ مسائل غربت، تعلیم کی کمی اور قانون کے کمزور نفاذ کی وجہ سے مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ماہرین کے مطابق جدید غلامی کے پھیلاؤ کی کئی بنیادی وجوہات ہیں جیسا کہ غربت اور بے روزگاری، تعلیم کی کمی، سیاسی عدم استحکام اور جنگیں، مجبوراً ہجرت اور کمزور قانونی نظام۔عالمی اقتصادی فورم کے مطابق جبری مشقت سے حاصل ہونے والی غیر قانونی آمدنی 236 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ چکی ہے جو اس مسئلے کے معاشی پہلو کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ دنیا بھر میں غلامی کے خاتمے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں جیسا کہ اقوامِ متحدہ کا ایس ڈی جی ٹارگٹ 8.7، جس کا مقصد 2030ء تک غلامی کا خاتمہ ہے۔اس کے علاوہ بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے قوانین،انسانی سمگلنگ کے خلاف عالمی معاہدے۔سپلائی چین میں شفافیت کے قوانین، مگراس کے باوجود غلامی کا مکمل خاتمہ ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ یہ اکثر خفیہ طریقوں سے جاری رہتی ہے۔ کیا کیا جا سکتا ہے؟پاکستان میں غلامی کے خاتمے کے لیے جو اقدامات ضروری ہیں ان میںجبری مشقت کے خلاف قوانین پر سختی سے عمل درآمد،تعلیم اور آگاہی مہمات،غریب طبقات کے لیے معاشی مواقع،میڈیا کا فعال کردار اورانسانی سمگلنگ کے خلاف مؤثر کارروائیاں شامل ہیں۔ 25 مارچ کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ غلامی صرف تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ ایک جاری مسئلہ ہے۔ یہ دن ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم نہ صرف ماضی کے متاثرین کو یاد کریں بلکہ آج کے مظلوم انسانوں کے لیے آواز بھی اٹھائیں۔ہر فرد، ہر ادارہ اور ہر ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ظلم کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرے۔ کیونکہ جب تک دنیا میں ایک بھی انسان غلامی کا شکار ہے، تب تک انسانی آزادی کا خواب ادھورا ہے۔

ٹیکنالوجی کا دبائو :مدد کیسے حاصل کی جائے؟

ٹیکنالوجی کا دبائو :مدد کیسے حاصل کی جائے؟

آج کے دور میں ٹیکنالوجی ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ سمارٹ فون، لیپ ٹاپ، سوشل میڈیا اور مسلسل آن لائن رہنے کی عادت نے جہاں زندگی کو آسان بنایا ہے، وہیں ذہنی دباؤ (Stress) میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔ جدید تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ پہلے سے کہیں زیادہ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور اس کی ایک بڑی وجہ معلومات کی بھرمار اور مسلسل ڈیجیٹل رابطہ ہے۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ اگر ٹیکنالوجی ہمیں پریشان کر رہی ہے تو ہم اسی ٹیکنالوجی کے ذریعے مدد کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والا دباؤٹیکنالوجی کے بے تحاشا استعمال کے کئی منفی اثرات سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق زیادہ وقت سکرین کے سامنے گزارنے سے نہ صرف نیند متاثر ہوتی ہے بلکہ ذہنی صحت پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل میں موبائل اور کمپیوٹر کا زیادہ استعمال ڈپریشن، بے چینی اور نیند کی خرابیوں کا سبب بن رہا ہے۔اس کے علاوہ ہمیشہ آن لائن رہنے کا دباؤ، مسلسل نوٹیفکیشنز اور کام و ذاتی زندگی کے درمیان حد بندی کا ختم ہونا بھی ذہنی تھکن کو بڑھاتا ہے۔ یوں انسان ایک ایسے چکر میں پھنس جاتا ہے جہاں ٹیکنالوجی سہولت کے بجائے بوجھ بن جاتی ہے۔خوش آئند پہلو، ٹیکنالوجی ہی حل بھی ہےدلچسپ بات یہ ہے کہ جس ٹیکنالوجی کو ہم دباؤ کا سبب سمجھتے ہیں وہی اس کا حل بھی فراہم کر سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق جدید ڈیجیٹل ٹولز اور ایپس ذہنی سکون پیدا کرنے، عادات بہتر بنانے اور ذہنی صحت کو ٹریک کرنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔یہاں کچھ مؤثر طریقے بیان کیے جا رہے ہیں جن کے ذریعے ٹیکنالوجی کو مثبت انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے: سٹریس ٹریکنگ ایپس کا استعمالآج کل کئی موبائل ایپس دستیاب ہیں جو آپ کے ذہنی دباؤ کو مانیٹر کرتی ہیں۔ یہ ایپس آپ کے روزمرہ کے معمولات، دل کی دھڑکن اور نیند کے پیٹرن کا تجزیہ کر کے بتاتی ہیں کہ آپ کس وقت زیادہ دباؤ میں ہوتے ہیں۔ اس معلومات کی مدد سے آپ اپنی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔نیند بہتر بنانے والی ٹیکنالوجینیند ذہنی سکون کے لیے انتہائی ضروری ہے۔سلیپ سائیکل اور دیگر ایپس آپ کی نیند کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہیں جس سے ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے۔ بہتر نیند نہ صرف ذہنی صحت کو بہتر بناتی ہے بلکہ کام کی کارکردگی بھی بڑھاتی ہے۔ میوزک اور ساؤنڈ تھراپیموسیقی ذہنی سکون کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ مخصوص ایپس اور پلیٹ فارمز ایسے ساؤنڈز فراہم کرتے ہیں جو ذہن کو پُرسکون کرتے ہیں اور توجہ بڑھاتے ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ موسیقی سننے سے ذہنی دباؤ میں نمایاں کمی آتی ہے۔ آن لائن لرننگ اور مصروفیتخود کو مصروف رکھنا بھی دباؤ کم کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ آن لائن کورسز اور سیکھنے کے مواقع ذہن کو مثبت سرگرمیوں میں لگاتے ہیں جس سے منفی خیالات کم ہوتے ہیں۔ نئی مہارتیں سیکھنے سے خود اعتمادی بھی بڑھتی ہے۔ڈیجیٹل ڈیٹاکسمسلسل کام کے دوران وقفہ لینا بہت ضروری ہے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ دن میں چند منٹ مراقبہ (Meditation) یا سانس کی مشقیں کرنے سے ذہنی دباؤ کم ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ وقت کے لیے موبائل اور سوشل میڈیا سے دوری اختیار کرنا بھی فائدہ مند ہے۔ آن لائن سپورٹکبھی کبھار ٹیکنالوجی خود پریشانی کا باعث بنتی ہے، جیسے سافٹ ویئر خرابی یا ڈیٹا کا ضائع ہونا۔ ایسے مواقع پر ٹیک سپورٹ خدمات بہت اہم ہوتی ہیں۔ یہ نہ صرف مسائل کو فوری حل کرتی ہیں بلکہ صارف کو ذہنی سکون بھی فراہم کرتی ہیں۔ذہنی صحت کیلئے ڈیجیٹل وسائلدنیا بھر میں مختلف ادارے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ذہنی صحت کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ ان میں مشاورت، مدد کے ٹولز اور ذہنی صحت سے متعلق معلومات شامل ہیں۔ اگرچہ دنیا میں صرف ایک محدود فیصد افراد کو مناسب علاج مل پاتا ہے مگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اس خلا کو پر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔توازن ہی حل ہےیہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی نہ مکمل طور پر نقصان دہ ہے اور نہ ہی مکمل طور پر فائدہ مند۔ اصل مسئلہ اس کے استعمال کے انداز میں ہے۔ اگر ہم اسے متوازن طریقے سے استعمال کریں تو یہ ہماری زندگی کو بہتر بنا سکتی ہے مثلاًسونے سے پہلے سکرین ٹائم کم کریں، غیر ضروری نوٹیفیکیشنز بند کریں، سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کریں، مثبت اور تعمیری مواد پر توجہ دیں۔ٹیکنالوجی نے ہماری زندگی کو تیز اور آسان ضرور بنایا ہے مگر اس کے ساتھ ذہنی دباؤ بھی بڑھا ہے، تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ اسی ٹیکنالوجی کے ذریعے ہم اس دباؤ کا مؤثر مقابلہ بھی کر سکتے ہیں۔ سٹریس ٹریکنگ ایپس، آن لائن سپورٹ، میڈیٹیشن ٹولز اور بہتر نیند کی عادات اپنانا ایسے اقدامات ہیں جو ہمیں ذہنی سکون فراہم کر سکتے ہیں۔ ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ ٹیکنالوجی کو اپنی زندگی پر حاوی ہونے کے بجائے اسے ایک مفید آلے کے طور پر استعمال کریں۔ یہی شعور ہمیں ایک متوازن، پرسکون اور صحت مند زندگی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

نیویارک، فیکٹری آتشزدگی25 مارچ 1911ء کو امریکہ کے شہر نیویارک میں آتشزدگی کابدترین حادثہ پیش آیا ،جس میں 146 مزدور، جن میں زیادہ تر خواتین اور نوجوان لڑکیاں تھیں، ہلاک ہو گئیں۔یہ فیکٹری ایک کثیر المنزلہ عمارت میں قائم تھی جہاں حفاظتی انتظامات انتہائی ناقص تھے۔ جب آگ بھڑکی تو مزدوروں کے پاس بھاگنے کا کوئی مناسب راستہ نہ تھا جس کے باعث کئی افراد کھڑکیوں سے کودنے پر مجبور ہو گئے۔اس سانحے نے امریکہ میں لیبر قوانین اور صنعتی حفاظتی اقدامات میں بڑی تبدیلیاں لانے کی راہ ہموار کی۔ بعد ازاں فیکٹریوں میں آگ سے بچاؤ، ایمرجنسی اخراج کے راستے اور مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے سخت قوانین نافذ کیے گئے۔ یونان،جنگ آزادی 25 مارچ 1821ء کو یونان نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف آزادی کی جنگ کا آغاز کیا۔ یہ دن یونان کی قومی تاریخ میں بے حد اہم ہے کیونکہ اسی دن یونانی قوم نے تقریباً چار صدیوں کی عثمانی حکمرانی کے خلاف بغاوت کی۔اس تحریک کی بنیاد یونانی قوم پرستی، ثقافتی شناخت اور آزادی کی خواہش پر رکھی گئی تھی۔ یونانی باغیوں کو یورپ کے کئی ممالک خصوصاً برطانیہ، فرانس اور روس کی ہمدردی اور بعد ازاں مدد حاصل ہوئی۔یہ جنگ تقریباً ایک دہائی تک جاری رہی اور بالآخر 1830 میں یونان کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا گیا۔ 25 مارچ کو آج بھی یونان میں یوم آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ سوویت یونین، جلاوطنی25 مارچ 1949ء کو سوویت یونین نے بالٹک ریاستوں (لتھوانیا، لٹویا اور ایسٹونیا) میں ایک بڑے پیمانے پر جلاوطنی کی کارروائی شروع کی ۔ اس کارروائی کے دوران تقریباً 90 ہزارافراد کو زبردستی سائبیریا اور دیگر دور دراز علاقوں میں منتقل کر دیا گیا۔یہ اقدام سوویت حکومت کی طرف سے ان افراد کے خلاف کیا گیا جو حکومت مخالف یا ریاست کے دشمن سمجھے جاتے تھے۔ ان میں کسان، دانشور اور وہ لوگ شامل تھے جو اجتماعی زراعت کی پالیسی کے خلاف تھے۔اس جلاوطنی کے نتیجے میں ہزاروں خاندان تباہ ہو گئے اور بہت سے افراد سخت موسمی حالات اور ناقص سہولیات کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔ شہری حقوق کے مارچ کا اختتام25 مارچ 1965ء کو امریکہ میں افریقی نژاد شہریوں کے حقوق کے لیے ہونے والا ایک تاریخی مارچ اپنے اختتام کو پہنچا۔ اس تحریک کا مقصد سیاہ فام شہریوں کے ووٹنگ کے حق کو یقینی بنانا اور نسلی امتیاز کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔اس مارچ کی قیادت معروف رہنمامارٹن لوتھر کنگ جونیئر اور دیگر شہری حقوق کے کارکنوں نے کی۔25 مارچ کو جب یہ مارچ مونٹگمری پہنچا تو ہزاروں افراد اس میں شامل ہو چکے تھے۔ اسی دن مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نے ایک تاریخی خطاب کیا۔اس مارچ کے نتیجے میں امریکی حکومت پر دباؤ بڑھا اور اسی سالVoting Rights Act of 1965 منظور کیا گیا۔

عالمی معیشت کی شہ رگیں

عالمی معیشت کی شہ رگیں

اہم آبی گزر گاہیں اورتوانائی کی سیاستدنیا کی جغرافیائی سیاست میں سمندری گزرگاہوں کو ہمیشہ غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے مگر چند مخصوص راہداریاں جنہیں آبنائے (Straits) کہا جاتا ہے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ حالیہ صورتحال، جس میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کیا گیا ہے، ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ یہ آبی گزر گاہیں کس قدر حساس اور عالمی معیشت کے لیے ناگزیر ہیں۔آبنائے کیا ہے اور اس کی اہمیت؟دو بڑے سمندروں یا واٹر باڈیز کو ملانے والا تنگ سمندری راستہ آبنائے کہلاتا ہے۔ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ کے مطابق تقریباً 80 تا 90 فیصد عالمی تجارت (حجم کے لحاظ سے) سمندری راستوں کے ذریعے ہوتی ہے اور اس تجارت کا بڑا حصہ انہی اہم گزرگاہوں سے گزرتا ہے۔آبنائے ہرمز: توانائی کی سب سے بڑی گزرگاہآبنائے ہرمز دنیا میںتوانائی کی سب سے اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) کے مطابق روزانہ تقریباً 20 سے 21 ملین بیرل تیل اس راستے سے گزرتا ہے یہ عالمی تیل کی کھپت کا تقریباً 20 فیصد بنتا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کی مائع قدرتی گیس (LNG) کا تقریباً 25 فیصد بھی اسی راستے سے منتقل ہوتا ہے ۔سعودی عرب، ایران، عراق، کویت اور متحدہ عرب امارات اپنی برآمدات کے لیے اسی راستے پر انحصار کرتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے حالیہ بحران نے تقریباً 400 ملین بیرل یعنی عالمی سپلائی کے تقریباً چار دن کے برابر تیل مارکیٹ سے نکال دیا جس کی وجہ سے قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔آبنائے ملاکا: ایشیا کی معاشی لائف لائنآبنائے ملاکا جنوب مشرقی ایشیا میں واقع ہے اور بحر ہند کو بحیرہ جنوبی چین سے ملاتی ہے۔ بین الاقوامی بحری تنظیم (IMO) کے اندازوں کے مطابق سالانہ 90 ہزار سے زیادہ بحری جہاز اس راستے سے گزرتے ہیں اورعالمی تجارت کا تقریباً 30 فیصد اسی راستے سے ہوتا ہے۔روزانہ تقریباً 16 ملین بیرل تیل یہاں سے گزرتا ہے۔چین اپنی توانائی کی ضروریات کا تقریباً 60 فیصد اسی راستے سے حاصل کرتا ہے، اسی لیے اسےMalacca Dilemma بھی کہا جاتا ہے۔آبنائے باسفورس: اناج اور توانائی کا درہترکی میں واقع آبنائے باسفورس بحیرہ اسود کو بحیرہ روم سے ملاتی ہے۔سالانہ تقریباً 48 ہزار بحری جہاز یہاں سے گزرتے ہیں۔روس اور یوکرین کی 90 فیصد سے زائد اناج کی برآمدات اسی راستے سے ہوتی رہی ہیں۔ یومیہ لاکھوں بیرل تیل اور گیس بھی اس کے ذریعے منتقل ہوتی ہے۔روس یوکرین جنگ کے دوران اس راستے کی بندش یا محدودیت نے عالمی گندم کی قیمتوں میں 20 فیصد تک اضافہ کیا۔سویز کینال: یورپ اور ایشیا کاشارٹ کٹمصر میں واقع سویز کینال عالمی تجارت کا ایک اہم مرکز ہے۔عالمی تجارت کا تقریباً 12 فیصد اس راستے سے گزرتا ہے اورروزانہ 50 سے 60 بحری جہاز یہاں سے گزرتے ہیں۔2021ء میں سویز کینال میں ایک جہاز پھنسنے سے عالمی تجارت کو تقریباً نو سے 10 ارب ڈالر یومیہ نقصان ہوا۔یہ راستہ یورپ اور ایشیا کے درمیان سفر کو تقریباً سات ہزار کلومیٹر کم کر دیتا ہے۔آبنائے جبرالٹر: بحر اوقیانوس اور بحیرہ روم کا سنگمیہ آبنائے یورپ اور افریقہ کے درمیان واقع ہے اورروزانہ تقریباً 300 بحری جہاز یہاں سے گزرتے ہیں۔یورپ کی توانائی درآمدات کا بڑا حصہ بھی اسی راستے سے آتا ہے۔نیٹو ممالک کے لیے یہ ایک اہم عسکری گزرگاہ بھی ہے۔پاناما کینال: دو سمندروں کو ملانے والا شاہکارپاناما کینال بحر اوقیانوس اور بحرالکاہل کو ملاتی ہے اورعالمی تجارت کا تقریباً پانچ فیصد اس راستے سے گزرتا ہے۔سالانہ 14 ہزار سے زائد جہاز اس سے گزرتے ہیں۔امریکہ کی 40 فیصد کنٹینر ٹریفک اسی راستے سے ہوتی ہے۔یہ کینال جہازوں کو جنوبی امریکہ کے گرد 13ہزار کلومیٹر طویل سفر سے بچاتی ہے۔عالمی معیشت پر اثراتان اہم آبناؤں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے اثرات فوری طور پر عالمی معیشت پر ظاہر ہوتے ہیں مثال کے طور پرتیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ،سپلائی چین میں خلل،اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ اورعالمی مہنگائی میں اضافہ۔ دنیا کی بڑی طاقتیں ان آبناؤں پر اثر و رسوخ قائم رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔دنیا کی اہم آبنائیں عالمی معیشت کی شہ رگیں ہیں۔ ان کے ذریعے نہ صرف تجارت بلکہ توانائی، خوراک اور صنعتی پیداوار کا نظام چلتا ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے حساس علاقوں میں کشیدگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جغرافیہ صرف نقشے تک محدود نہیں بلکہ عالمی سیاست، معیشت اور امن و استحکام کا بنیادی عنصر ہے۔مستقبل میں اگرچہ متبادل توانائی اور نئے تجارتی راستوں پر کام جاری ہے مگر فی الحال دنیا کا انحصار انہی چند انتہائی اہم آبی گزرگاہوں پر برقرار ہے اور یہی حقیقت انہیں عالمی طاقتوں کے درمیان کشمکش کا مرکز بناتی ہے۔

مصنوعی ذہانت پر بڑھتا انحصار

مصنوعی ذہانت پر بڑھتا انحصار

کیا ہم اپنی ذہنی صلاحیتیں کھو رہے ہیں؟ڈیجیٹل دور میں مصنوعی ذہانت (AI) ہماری زندگی کا لازمی حصہ بنتی جا رہی ہے۔ تحقیق، تحریر، فیصلہ سازی اور روزمرہ مسائل کے حل میں AI ٹولز جیسے چیٹ بوٹس اور سمارٹ اسسٹنٹس تیزی سے استعمال ہو رہے ہیں، تاہم حالیہ سائنسی رپورٹس ایک اہم سوال اٹھا رہی ہیں کہ کیا AI پر ضرورت سے زیادہ انحصار ہماری ذہنی صلاحیتوں کو متاثر کر رہا ہے؟ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے فوائد اپنی جگہ مگر اس کا بے جا استعمال انسانی دماغ کی کارکردگی کو کمزور کر سکتا ہے۔ یہ مسئلہ محض ایک مفروضہ نہیں بلکہ مختلف تحقیقی مطالعات سے اس کے شواہد سامنے آ رہے ہیں۔ کگنیٹو آف لوڈنگ کا رجحانAI کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ایک اصطلاحCognitive offloading سامنے آئی ہے جس کا مطلب ہے کہ انسان اپنے ذہنی کام مشینوں کے حوالے کرنے لگتا ہے۔ مثال کے طور پر پہلے ہم معلومات یاد رکھنے کی کوشش کرتے تھے مگر اب ہم فوری طور پر AI یا انٹرنیٹ سے جواب حاصل کر لیتے ہیں۔تحقیقی ماہرین کے مطابق جب ہم مسلسل AI پر انحصار کرتے ہیں تو ہمارا دماغ کم محنت کرتا ہے، جس کے نتیجے میں یادداشت، تجزیاتی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ تنقیدی سوچ اور تخلیقی صلاحیت پر اثراتAI ٹولز فوری اور جامع جوابات فراہم کرتے ہیں لیکن اس سہولت میں ایک خامی بھی ہے کہ جب صارف خود سوچنے کے بجائے تیار شدہ جواب پر انحصار کرتا ہے تو اس کی تنقیدی سوچ کمزور پڑ جاتی ہے۔MIT اور دیگر اداروں کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ AI کی مدد سے تحریر کرنے والے افراد نہ صرف کم سیکھتے ہیں بلکہ ان کی تخلیقی صلاحیت بھی محدود ہو جاتی ہے۔ اسی طرح تعلیمی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر طلبہ ابتدائی مراحل میں ہی AI پر انحصار شروع کر دیں تو وہ بنیادی مہارتیں جیسے تجزیہ اور منطقی استدلال صحیح طور پر نہیں سیکھ پاتے۔ایک اور اہم مسئلہ False Masteryیا جھوٹی مہارت کا ہے۔ AI کی مدد سے بظاہر بہتر نتائج حاصل ہو جاتے ہیں لیکن درحقیقت صارف خود اس علم کو سمجھ نہیں پاتا۔OECDکی رپورٹ کے مطابق AI طلبہ کو ایسی غلط فہمی میں مبتلا کر سکتا ہے کہ وہ کسی موضوع پر عبور رکھتے ہیںحالانکہ حقیقت میں ان کی بنیادی سمجھ بوجھ کمزور ہوتی ہے۔ یہ رجحان نہ صرف تعلیمی کارکردگی بلکہ طویل المدتی ذہنی نشوونما کیلئے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔کیا AI واقعی نقصان دہ ہے؟یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ AI مکمل طور پر نقصان دہ ہے۔ درحقیقت یہ ایک طاقتور ٹول ہے جو انسانی صلاحیتوں کو بڑھا سکتا ہے بشرطیکہ اسے درست طریقے سے استعمال کیا جائے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ AI میں نہیں بلکہ اس کے استعمال کے طریقے میں ہے۔ اگر AI کو ایک مددگار کے طور پر استعمال کیا جائے نہ کہ مکمل متبادل کے طور پر تو یہ سیکھنے اور کارکردگی کو بہتر بنا سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت بلاشبہ انسانی ترقی کا ایک اہم سنگ میل ہے لیکن اس پر اندھا اعتماد خطرناک ہو سکتا ہے۔ اگر ہم اپنی ذہنی صلاحیتوں کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں AI کو ایک معاون کے طور پر استعمال کرنا ہوگا نہ کہ اس کا متبادل بننے دینا ہوگا۔ آنے والے دور میں اصل چیلنج یہ نہیں ہوگا کہ AI کیا کر سکتا ہے بلکہ یہ ہوگا کہ ہم اس کے ساتھ کس طرح کام کرتے ہیں۔ اگر ہم نے توازن برقرار نہ رکھا تو سہولت کی یہ ٹیکنالوجی ہماری سوچنے کی صلاحیت کو کمزور بھی کر سکتی ہے۔AI کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کا متوازن استعمال کیا جائے۔ چند اہم اصول درج ذیل ہیں:٭AI کو رہنمائی کے لیے استعمال کریں، مکمل انحصار نہ کریں٭خود تحقیق اور تجزیہ کی عادت برقرار رکھیں٭یادداشت اور سوچنے کی مشق جاری رکھیں٭طلبہ کو بنیادی مہارتیں سکھانے پر زور دیا جائے

آج تم یاد بے حساب آئے!اقبال باہو صوفیا نہ گائیکی  کے ماہر(2012-1944)

آج تم یاد بے حساب آئے!اقبال باہو صوفیا نہ گائیکی کے ماہر(2012-1944)

٭... 1944ء میں گورداسپور میں پیدا ہوئے ،اصل نام محمد اقبال تھا ٭... قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان لاہور منتقل ہوا ،یہیں ان کی تعلیم و تربیت ہوئی۔٭...تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے ایک بینک میں ملازمت اختیار کر لی ، گائیکی کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔٭... ریڈیو پاکستان سے شہرت کا سفر شروع ہوا پھر ٹیلی ویژن پر ناظرین نے انھیں دیکھا اور سنا۔٭... لوک گیتوں کے علاوہ جب انہیں صوفی شاعر سلطان باہو کے کلام سے بھی شہرت ملی۔٭...سلطان باہو کے علاوہ بابا فرید کے کلام کو بھی ان کی آواز میں بہت پسند کیا گیا٭...وہ ان گلوکاروں میں شامل تھے جو صوفیا کا کلام گاتے ہوئے زبان و بیان اور کلاسیکی الفاظ کے تلفظ کا خاص خیال رکھتے تھے۔ ٭... 2008ء میں انہیں تمغہ امتیاز سے نوازا گیا۔٭...68سال کی عمر میں دل کا جان لیوا دورہ پڑنے کے باعث 24مارچ 2012ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔