زعفرانی مشاعرے

زعفرانی مشاعرے

اسپیشل فیچر

تحریر : سید عاصم محمود


چند برس قبل بھارتی شہر،مالیگائوں میں کل ہند مشاعرہ منعقد ہوا۔اس میں ایک مقامی شاعر،ارشد مینا نگری کلام سنانے آئے۔جب ان کی پہلی غزل ختم ہوئی،تو حاضرین نے کچھ اور سنانے کی فرمائش کر ڈالی۔ارشد صاحب نے نئی غزل سنائی۔بعد ازاں فرمائشوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔اُدھر منتظمینِ مشاعرہ پریشان کہ یہ سلسلہ نجانے کب تھمے گا؟ابھی خاصے شاعروں کی باری باقی تھی۔ارشد مینا نگری کے بالکل پیچھے دہلی کے معروف شاعر،مختار یوسفی بیٹھے تھے۔وہ منتظمین کی پریشانی بھانپ گئے کہ شاعر صاحب مائک چھوڑنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔انھوں نے جیب سے قلم نکالا اور پھر ایک پرچی!پرچی پہ کچھ الفاط رقم کیے اور خاموشی سے ارشد مینا نگری کو جا تھمائی۔وہ پڑھ کر کچھ جزبز ہوئے۔تھوڑی دیر بعد وہ سمٹے سمٹائے اٹھے اور اپنی نشست پر جا بیٹھے۔اس اچانک رخصتی پر منتظمین نے سکھ کا سانس لیا۔مشاعرہ ختم ہوا تو ایک متجسس منتظم نے مختار یوسفی سے دریافت کیا’’جناب! آپ نے چٹ پر ارشد صاحب کو کیا لکھا تھا؟وہ سادگی سے بولے ’’بس یہی کہ آپ کی پتلون پیچھے سے پھٹ چکی۔‘‘٭٭برصغیر پاک و ہند میں مشاعرہ قدیم تاریخ رکھتا ہے۔امیر خسرو نے اپنی کتاب ’’غرۃ الکمال‘‘ میں ایسے مشاعرے کا ذکر کیا ہے جس میں شہزادے اور امرا شریک تھے۔رفتہ رفتہ یہ عمل تہذیبی اقدار کا حصہ بھی بن گیا۔مشاعروں میں جب شاعر مل بیٹھتے تو چٹکلے بھی جنم لیتے۔انہی چٹکلوں کا انتخاب پیش خدمت ہے۔٭٭یہ کئی سال پہلے کی بات ہے،لاہور میں ایک کل ہند مشاعرہ منعقد ہوا۔اس میں مشہور شاعر،احمد ندیم قاسمی بھی شریک تھے۔مشاعرے میں قاسمی صاحب نے اپنی ایک غزل سنائی جس کا یہ شعر حاضرین کو بہت پسند آیا:کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جائوں گامیں تو دریا ہوں،سمندر میں اتر جائوں گایہ شعر سن کر ایک پنجابی نوجوان نے فرمائش کی کہ اسے مکررپڑھا جائے۔قاسمی صاحب نے دوبارہ سنایا۔اس بار انھوں نے دوسرا مصرع دو بار پڑھا:میں تو دریا ہوں،سمندر میں اتر جائوں گامصرع سنتے ہوئے ترنگ میں آیا نوجوان بولا:بلّے اوئے،تیراک دیا پترایہ فقرہ سنا تو قاسمی صاحب سمیت تمام حاضرین کی ہنسی چھوٹ گئی۔٭٭دہلی میں مشاعرہ جاری تھا۔ہال لوگوں سے کھچاکھچ بھرا تھا۔ایک ادھیڑ عمر شاعر کلام سنا رہے تھے کہ اچانک لائوڈسپیکر خراب ہو گیا۔شاعر صاحب کی آواز خاصی کمزور تھی جسے پیچھے بیٹھے حاضرین سن نہ پائے۔چناں چہ منتظمین ِمشاعرہ میں شامل ایک صاحب باآواز بلند بولے’’حضرت!مصرع اٹھائیے۔‘‘محفل میں دہلی کے سابق چیف کمشنر،شنکر پرشاد بھی موجود تھے۔وہ یہ سن کر بولے:’’صاحبو! کیوں نہ شاعر صاحب ہی کو اٹھا دیا جائے؟‘‘اس جملے نے مشاعرے کو کشت ِزعفران بنا ڈالا۔٭٭لکھنئو میں مشاعرہ جاری تھا۔شہر کے سبھی بڑے شاعر اس میںشریک تھے۔اتفاق سے ممتاز شاعر،ناسخ جب محفل میں پہنچے تو وہ آخری دموں پر تھی۔سامنے ہی آتش بیٹھے تھے۔ناسخ نے ان سے دریافت کیا’’میاں! مشاعرہ ختم ہو چکا؟‘‘’’جی ہاں،آپ کا بہت انتظار رہا۔‘‘جواب ملا۔یہ سن کر ناسخ نے اپنے حقیقی نام(امام بخش)کی مناسبت سے اسی وقت یہ شعر تخلیق کر ڈالا:جو خاص ہیں،وہ شریک ِگروہ عام نہیںشمار دانہ ِتسبیح میں امام نہیں

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
خلائی ملبہ: جدید خلائی دوڑ کا بڑھتا ہوا خطرہ

خلائی ملبہ: جدید خلائی دوڑ کا بڑھتا ہوا خطرہ

زمین کے گرد مدار میں تقریباً 17کروڑ ٹکڑے موجود، ہر لمحہ تصادم کا خطرہ انسان نے گزشتہ چند دہائیوں میں خلائی تحقیق کے میدان میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔ مصنوعی سیاروں، خلائی اسٹیشنوں، بین السیارہ مشنز اور نجی خلائی کمپنیوں کی سرگرمیوں نے کائنات کے نئے راز دریافت کرنے کے ساتھ ساتھ زمین پر مواصلات، موسمیاتی پیش گوئی، نیوی گیشن اور دفاعی نظام کو بھی نئی جہت عطا کی ہے۔ تاہم اس حیرت انگیز ترقی کا ایک تاریک پہلو بھی سامنے آ رہا ہے جسے ''خلائی ملبہ‘‘ (Space Junk) کہا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ اب صرف سائنس دانوں ہی کیلئے نہیں بلکہ پوری دنیا کیلئے تشویش کا باعث بنتا جا رہا ہے، کیونکہ اگر اس پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو مستقبل میں خلائی سرگرمیاں شدید خطرات سے دوچار ہو سکتی ہیں۔ماہرین کے اندازوں کے مطابق زمین کے گرد مدار میں تقریباً 17کروڑ ایسے ٹکڑے موجود ہیں جنہیں خلائی ملبہ کہا جاتا ہے۔ یہ ملبہ مختلف خلائی مشنز کے بعد خلا میں رہ جانے والے اجزا پر مشتمل ہے، جن میں استعمال شدہ راکٹوں کے بڑے حصے، ناکارہ مصنوعی سیارے، دھاتی ٹکڑے، پیچ، بولٹ، دھماکوں سے پیدا ہونے والے ذرات اور یہاں تک کہ رنگ (پینٹ) کے نہایت باریک ذرات بھی شامل ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ تمام ملبہ تقریباً 700 ارب امریکی ڈالر (555 ارب برطانوی پاؤنڈ) مالیت کے فعال خلائی انفراسٹرکچر کے ساتھ ہی زمین کے گرد گردش کر رہا ہے، جس سے ہر لمحہ تصادم کا خطرہ موجود رہتا ہے۔اگرچہ خلائی ملبے کے لاکھوں ٹکڑے مدار میں موجود ہیں، مگر ان میں سے صرف 27 ہزار ٹکڑوں کی باقاعدہ نگرانی کی جا رہی ہے۔ باقی ملبہ اتنا چھوٹا ہے کہ اسے مسلسل ٹریک کرنا انتہائی مشکل ہے۔ تاہم اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ بے ضرر ہے۔ یہ ذرات تقریباً 27 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتے ہیں۔ اس رفتار پر چند ملی میٹر کا ایک ذرہ بھی کسی مصنوعی سیارے، خلائی جہاز یا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے ٹکرا جائے تو وہ شدید نقصان پہنچانے یا مکمل تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلائی ملبہ آج خلائی صنعت کیلئے سب سے بڑے خطرات میں شمار کیا جاتا ہے۔اس خطرے سے نمٹنے کیلئے مختلف ممالک اور تحقیقی ادارے نئے طریقوں پر کام کر رہے ہیں، لیکن خلا کا ماحول زمین سے بالکل مختلف ہونے کی وجہ سے روایتی ٹیکنالوجی وہاں مؤثر ثابت نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر سکشن کپ خلا میں موجود خلا (ویکیوم) کے باعث کام نہیں کرتے، جبکہ انتہائی کم درجہ حرارت کی وجہ سے ٹیپ اور گوند جیسی چپکنے والی اشیا بھی اپنی افادیت کھو دیتی ہیں۔ اسی طرح مقناطیس پر مبنی آلات بھی زیادہ کارآمد نہیں، کیونکہ زمین کے گرد گردش کرنے والے زیادہ تر خلائی ملبے میں مقناطیسی خصوصیات موجود ہی نہیں ہوتیں۔خلائی ملبہ ہٹانے کیلئے بعض سائنس دانوں نے ہارپون (Harpoon) ، جال (Nets) اور روبوٹک بازوؤں جیسے طریقے تجویز کیے ہیں، لیکن ان پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان طریقوں میں ملبے کے ساتھ براہِ راست اور طاقت کے ساتھ رابطہ کرنا پڑتا ہے، جس سے وہ غیر متوقع سمت میں جا سکتا ہے اور مزید تصادم کا باعث بن سکتا ہے۔ یوں مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ماہرین کی تشویش صرف ملبے کی تعداد تک محدود نہیں بلکہ اس کے مقام سے بھی وابستہ ہے۔ زمین کا نچلا مدار اس وقت سب سے زیادہ مصروف علاقہ ہے، جہاں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن، ہبل خلائی دوربین، مواصلاتی اور نیوی گیشن سیٹلائٹس کے علاوہ مختلف ممالک کے انسانی خلائی مشن بھی موجود ہیں۔ اسی طرح جیو اسٹیشنری مدار (Geostationary Orbit) بھی انتہائی اہم ہے، جہاں مواصلاتی، موسمیاتی اور نگرانی کے مصنوعی سیارے مستقل طور پر ایک ہی مقام پر کام کرتے ہیں۔ ان دونوں علاقوں میں خلائی ملبے کی بڑھتی ہوئی مقدار مستقبل کے خلائی منصوبوں کیلئے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔اگر خلائی ملبے کی تعداد اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو سائنس دانوں کو خدشہ ہے کہ ایک وقت ایسا آ سکتا ہے جب ایک تصادم دوسرے تصادم کو جنم دے گا اور یہ سلسلہ مسلسل جاری رہے گا۔ اس کیفیت کو کیسلر سنڈروم (Kessler Syndrome) کہا جاتا ہے، جس میں مدار اتنا آلودہ ہو جاتا ہے کہ نئے مصنوعی سیاروں کا بھیجنا انتہائی مشکل بلکہ ناممکن ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں دنیا بھر میں انٹرنیٹ، موبائل مواصلات، بینکاری، موسم کی پیش گوئی، فضائی سفر، بحری جہازوں کی رہنمائی اور عالمی نیوی گیشن جیسے بے شمار شعبے شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔خلائی ملبے میں اضافے کے دو بڑے واقعاتسائنسدانوں کے مطابق خلائی ملبے میں غیر معمولی اضافے کے پیچھے دو بڑے واقعات نے اہم کردار ادا کیا۔ پہلا واقعہ فروری 2009ء میں پیش آیا، جب امریکی کمپنی اریڈیم کا ایک ٹیلی کمیونیکیشن مصنوعی سیارہ روس کے فوجی سیٹلائٹ ''کوسموس2251‘‘ سے ٹکرا گیا۔ اس حادثے کے نتیجے میں ہزاروں نئے ملبے کے ٹکڑے خلا میں بکھر گئے۔ دوسرا اہم واقعہ جنوری 2007ء میں پیش آیا، جب چین نے ایک پرانے فینگ یون موسمیاتی مصنوعی سیارے کو اینٹی سیٹلائٹ میزائل سے تباہ کر کے اپنے ہتھیار کا تجربہ کیا۔ اس کارروائی سے بھی خلائی مدار میں بڑی مقدار میں خطرناک ملبہ پیدا ہوا، جس کے اثرات آج تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔خلائی ملبہ زمین پر بسنے والوں کیلئے بھی خطرناک؟خلائی ملبہ بظاہر خلا کا مسئلہ معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کے اثرات براہِ راست زمین پر بسنے والے انسانوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین زور دے رہے ہیں کہ خلائی تحقیق کے ساتھ ساتھ خلائی صفائی کو بھی عالمی ترجیح بنایا جائے۔ نئی ٹیکنالوجی کی تیاری، بین الاقوامی قوانین، خلائی مشنز کی ذمہ دارانہ منصوبہ بندی اور عالمی تعاون ہی وہ راستے ہیں جن کے ذریعے اس بڑھتے ہوئے خطرے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اگر آج مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو انسان کی خلائی کامیابیاں مستقبل میں اسی خلائی ملبے کے بوجھ تلے دب سکتی ہیں۔

زیادہ پروٹین، خاموش قاتل؟

زیادہ پروٹین، خاموش قاتل؟

ماہرین نے مسلز بڑھانے کے شوق کو خطرناک قرار دے دیاپروٹین انسانی جسم کی نشوؤنما، پٹھوں کی مضبوطی اور خلیات کی مرمت کیلئے ایک نہایت اہم غذائی جزو ہے، تاہم ہر مفید چیز کی طرح اس کا ضرورت سے زیادہ استعمال بھی صحت کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ حالیہ برسوں میں جسمانی فٹنس، باڈی بلڈنگ اور عضلات بڑھانے کے رجحان نے پروٹین سے بھرپور غذا اور پروٹین سپلیمنٹس کے استعمال میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ مگر اب ایک نئی اور جامع طبی تحقیق نے اس تصور کو چیلنج کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ حد سے زیادہ پروٹین کا استعمال نہ صرف گردوں، جگر اور دل پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے بلکہ یہ قبل از وقت موت کے خطرات میں بھی اضافہ کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ متوازن غذا ہی صحت مند زندگی کی ضمانت ہے، جبکہ کسی بھی غذائی جزو کا غیر ضروری اور حد سے زیادہ استعمال سنگین نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر فٹنس ماہرین اور انفلوئنسرز اپنے پیروکاروں کو وزن کم کرنے اور پٹھے مضبوط بنانے کیلئے زیادہ سے زیادہ پروٹین استعمال کرنے کی تلقین کرتے رہتے ہیں۔اس رجحان کے نتیجے میں پروٹین مصنوعات، جیسے پروٹین شیکس، پروٹین بارز اور پروٹین پاؤڈرز کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ 2024ء کی ایک تحقیق کے مطابق تقریباً 56 فیصد صارفین پروٹین سے بھرپور خوراک اور مشروبات کو ترجیح دیتے ہیں۔تاہم اب 350 سے زائد تحقیقی مقالات کے جائزے پر مبنی ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پروٹین کی مقدار میں اعتدال یا کمی لانا وزن گھٹانے، دل کی بیماریوں سے بچاؤ اور حتیٰ کہ عمر میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔یونیورسٹی آف وسکونسن میڈیسن کے محققین کے مطابق پروٹین کی محدود مقدار جسم کے میٹابولزم کو بہتر بناتی ہے، سوزش میں کمی لاتی ہے اور خلیات کو اس نقصان سے بچاتی ہے جو جسم میں تیز رفتار بڑھاپے کا سبب بنتا ہے۔ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پروٹین صحت مند غذا کا ایک نہایت اہم جزو ہے۔ یہ غذائی عنصر پٹھوں کے ریشوں، جسمانی اعضا اور ٹشوزکی مرمت میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔تاہم ماضی کی متعدد تحقیقات سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ مکھیوں اور چوہوں پر کیے گئے تجربات میں پروٹین کی کم مقدار نے ان کی اوسط عمر میں اضافہ کیا۔اسی طرح حالیہ برسوں میں انسانوں پر کیے گئے کئی کلینیکل ٹرائلز سے بھی معلوم ہوا ہے کہ پروٹین کی مقدار کم کرنے سے نہ صرف وزن میں کمی آتی ہے بلکہ خون میں شوگر کی سطح کو مستحکم رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ نتائج اس حقیقت کے باوجود سامنے آئے کہ پروٹین کی کم مقدار استعمال کرنے والے افراد مجموعی طور پر زیادہ کیلوریز استعمال کرتے تھے۔ ''سیل پریس بلیو‘‘ (Cell Press Blue) جریدے میں شائع ہونے والے اس تازہ تحقیقی جائزے میں متعدد ممکنہ وجوہات بیان کی گئی ہیں کہ آخر پروٹین کی مقدار میں کمی صحت کیلئے کیوں فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق جب خوراک میں پروٹین کم ہوتی ہے تو جسم میں ''فائبروبلاسٹ گروتھ فیکٹر 21‘‘ (FGF21) نامی ہارمون کی سطح بڑھ جاتی ہے۔ یہ ہارمون جسم کی توانائی خرچ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے، خون میں شوگر کی سطح کو بہتر انداز میں قابو میں رکھتا ہے اور جسم میں سوزش کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس تحقیق کے زیادہ تر شواہد جانوروں پر کیے گئے تجربات سے حاصل ہوئے ہیں، اس لیے ضروری نہیں کہ یہی نتائج من و عن انسانوں پر بھی لاگو ہوں۔ چوہوں پر کی گئی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ جن جانوروں میں ''FGF21‘‘ ہارمون کی مقدار زیادہ تھی، وہ عام چوہوں کے مقابلے میں زیادہ عرصہ زندہ رہے۔ مزید یہ کہ یہ مثبت اثر مادہ چوہوں کی نسبت نر چوہوں میں زیادہ نمایاں تھا۔ تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ انسانوں میں بھی پروٹین کی مقدار کم کرنے سے اس ہارمون کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے۔اس تحقیقی جائزے میں بعض امینو ایسڈز (Amino Acids)، جو پروٹین کے بنیادی اجزا ہیں، کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہی امینو ایسڈز کی ضرورت سے زیادہ مقدار ان منفی اثرات کی بڑی وجہ بن سکتی ہے۔مختلف مطالعات سے پتا چلا ہے کہ بعض امینو ایسڈز کا حد سے زیادہ استعمال جسم میں ایسے حیاتیاتی عمل کو متحرک کر سکتا ہے جو خلیات کی غیر ضروری نشوؤنما کو بڑھاتا ہے، جس کے نتیجے میں موٹاپا، جسمانی سوزش اور عمر بڑھنے سے وابستہ دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔اس تحقیقی مقالے کے مرکزی مصنف ڈڈلی لیمنگ (Dudley Lamming)، جو یونیورسٹی آف وسکونسن میڈیسن سے وابستہ ہیں، کا کہنا ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پروٹین فعال افراد میں پٹھوں کی نشوؤنما اور ورزش کے بہتر نتائج کیلئے انتہائی مفید ہے، لیکن چونکہ زیادہ تر لوگ جسمانی طور پر زیادہ متحرک نہیں ہوتے، اس لیے غالب امکان ہے کہ وہ اپنی حقیقی ضرورت سے کہیں زیادہ پروٹین استعمال کر رہے ہیں، جو ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔تاہم مختلف مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ صحت مند بالغ افراد کو اپنے جسمانی وزن کے ہر ایک کلوگرام کیلئے روزانہ 0.75 گرام پروٹین استعمال کرنی چاہیے۔ اس حساب سے 60 کلوگرام وزن رکھنے والی خاتون کیلئے روزانہ تقریباً 45 گرام جبکہ 75 کلوگرام وزن رکھنے والے مرد کیلئے تقریباً 55 گرام پروٹین کافی سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ ضرورت سے کہیں زیادہ پروٹین کا استعمال گردوں پر اضافی دباؤ ڈال سکتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

ہوائی میں ہولناک آتشزدگی8اگست 2023ء کو امریکی ریاست ہوائی کے جزیرے ماؤئی میں لگنے والی ہولناک جنگلاتی آگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ آگ کے نتیجے میں 17 ہزار ایکڑ سے زائد رقبہ جل کر خاکستر ہوگیا، جبکہ 101 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ان آتشزدگیوں نے ہزاروں مکانات، کاروباری مراکز اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے باعث یہ سانحہ ہوائی کی جدید تاریخ کی مہلک ترین قدرتی آفات میں شمار کیا جاتا ہے۔امریکی صدر مستعفی1974ء میں آج کے روزامریکی صدر رچرڈ نکسن نے قوم سے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے تاریخی خطاب میں اعلان کیا کہ وہ اگلے روز دوپہر سے امریکی صدرکے عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں۔ یہ فیصلہ واٹرگیٹ اسکینڈل کے باعث شدید سیاسی دباؤ اور مواخذے کے خطرے کے پیشِ نظر کیا گیا۔ رچرڈ نکسن امریکی تاریخ کے پہلے اور اب تک کے واحد صدر ہیں جنہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا۔ ان کے استعفے کے بعد نائب صدر جیرالڈ فورڈ نے صدر کا منصب سنبھالا۔گوام میں ہولناک زلزلہ8اگست 1993ء کو بحرالکاہل میں واقع امریکی جزیرے گوام میں 7.8 شدت کا زلزلہ آیا۔ جس کے نتیجے میں عمارتوں، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا، جس سے تقریباً 25 کروڑ امریکی ڈالر کا مالی خسارہ ہوا۔ اس قدرتی آفت کے باعث 71 افراد زخمی ہوئے، تاہم بروقت امدادی کارروائیوں کی بدولت بڑے پیمانے پر جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہو سکا۔خلائی شٹل اینڈیورکی روانگی2007ء میں آج کے روز امریکی خلائی ادارے ناسا کے خلائی شٹل پروگرام کے تحت ''ایس ٹی ایس118‘‘مشن کے دوران خلائی شٹل اینڈیور (Endeavour) کو کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ کیا گیا۔ اس مشن کا مقصد بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک عملہ، سائنسی آلات اور ضروری سامان پہنچانا تھا۔ اس مشن کے دوران خلا بازوں نے متعدد خلائی چہل قدمیاں (Spacewalks) بھی انجام دیں۔برطانیہ :ٹرین ڈکیتی8اگست1963ء کو برطانیہ میں تاریخ کی مشہور ترین وارداتوں میں سے ایک '' گریٹ ٹرین رابری‘‘ اس وقت پیش آئی جب 15 رکنی مسلح گروہ نے گلاسگو سے لندن جانے والی رائل میل ٹرین کو روک کر اس میں موجود 26 لاکھ پاؤنڈ لوٹ لیے۔ یہ اس زمانے کی سب سے بڑی ڈکیتی سمجھی جاتی تھی۔ بعد ازاں پولیس نے طویل تحقیقات کے بعد بیشتر ملزمان کو گرفتار کر لیا، جبکہ یہ واقعہ برطانوی جرائم کی تاریخ کا ایک یادگار باب بن گیا۔اینگلو افغان معاہدہ1919ء میں آج کے روز برطانیہ اور افغانستان کے درمیان اینگلو۔افغان معاہدہ پر دستخط کیے گئے، جس کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان پرامن تعلقات قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اس معاہدے میں ڈیورنڈ لائن کو دونوں ممالک کے درمیان باہمی سرحد کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ معاہدے کے تحت برطانیہ افغان حکومت کو مالی امداد فراہم کرنے کی اپنی سابقہ ذمہ داری سے بھی آزاد ہو گیا۔ یہ معاہدہ تیسری اینگلوافغان جنگ کے خاتمے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔

بیس سال پرانے نظریے کی تجرباتی تصدیق

بیس سال پرانے نظریے کی تجرباتی تصدیق

کوانٹم اینٹینگلمنٹ میں نئی پیش رفتکوانٹم فزکس جدید سائنس کی وہ شاخ ہے جس نے مادے اور توانائی کے نہایت باریک ترین ذرات کے رویوں کو سمجھنے میں انقلاب برپا کیا ہے۔ اس میدان میں کئی ایسے مظاہر سامنے آئے ہیں جو عام انسانی تجربے سے بالکل مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ انہی میں سے ایک حیران کن مظہر کوانٹم اینٹینگلمنٹ ہے جس میں دو یا زیادہ ذرات اس طرح ایک دوسرے سے مربوط ہو جاتے ہیں کہ ایک ذرہ متاثر ہونے پر دوسرے میں بھی فوری طور پر اس کا اثر ظاہر ہوتا ہے، خواہ دونوں کے درمیان کتنا ہی فاصلہ کیوں نہ ہو۔حال ہی میں انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی آسٹریا (ISTA) اور جرمنی میں میونخ کی ٹیکنیکل یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک ایسے نظریے کی تجرباتی تصدیق کی ہے جو تقریباً 20 سال قبل پیش کیا گیا تھا۔ اس کامیابی کو کوانٹم کمپیوٹنگ اور مستقبل کے کوانٹم مواصلاتی نظام کی ترقی میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔کوانٹم اینٹینگلمنٹ کیا ہے؟عام دنیا میں اگر دو اشیاایک دوسرے سے الگ ہو جائیں تو ان کے درمیان براہِ راست تعلق ختم ہو جاتا ہے لیکن کوانٹم دنیا میں ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا۔ بعض حالات میں دو ذرات اس قدر گہرے تعلق میں بندھ جاتے ہیں کہ انہیں الگ الگ سمجھنا ممکن نہیں رہتا۔ اس کیفیت کو کوانٹم اینٹینگلمنٹ کہا جاتا ہے۔یہ مظہر بیسویں صدی کے شروع سے سائنسدانوں کی دلچسپی کا مرکز رہا ہے۔ ابتدا میں اسے صرف ایک نظریاتی تصور سمجھا جاتا تھا لیکن بعد میں متعدد تجربات نے ثابت کیا کہ یہ حقیقتاً موجود ہے۔ اسی وجہ سے اسے جدید طبیعیات کی بنیادوں میں شمار کیا جاتا ہے۔دو دہائیاں قبل سائنسدانوں نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ اگر دو کوانٹم بٹس (Qubits) کو ایک خاص قسم کے مشترکہ کوانٹم ماحول یا کوانٹم باتھ سے جوڑ دیا جائے تو وہ بغیر مسلسل بیرونی کنٹرول کے خود بخود اینٹینگلمنٹ کی حالت میں آ سکتے ہیں۔اس وقت یہ خیال دلچسپ ضرور تھا لیکن دستیاب ٹیکنالوجی اتنی ترقی یافتہ نہیں تھی کہ اس کی عملی جانچ کی جا سکے۔ گزشتہ برسوں میں کوانٹم آلات اور انتہائی حساس تجرباتی تکنیکوں میں نمایاں بہتری آئی جس کے نتیجے میں محققین اس نظریے کو عملی طور پر آزمانے میں کامیاب ہوئے۔تجربات سے معلوم ہوا کہ واقعی مخصوص حالات میں دو دور موجود کیوبٹس ایک مشترکہ کوانٹم ماحول کی مدد سے اینٹینگلمنٹ پیدا کر سکتے ہیں اور اس کے لیے بار بار بیرونی مداخلت کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس طرح دو دہائیوں پرانا نظریہ بالآخر تجرباتی طور پر درست ثابت ہو گیا۔اس کامیابی کی اہمیتیہ کامیابی صرف ایک نظریے کی تصدیق نہیں بلکہ کوانٹم ٹیکنالوجی کے مستقبل کے لیے بھی بہت اہم ہے۔موجودہ کوانٹم کمپیوٹرز میں اینٹینگلمنٹ پیدا کرنے کے لیے پیچیدہ کنٹرول سسٹمز، نہایت درست ٹائم مینجمنٹ اور مسلسل نگرانی کی ضرورت پڑتی ہے۔ نئی تکنیک اس عمل کو نسبتاً آسان اور زیادہ خودکار بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اگر آئندہ برسوں میں اس طریقے کو مزید بہتر بنایا گیا تو ہزاروں یا لاکھوں کیوبٹس پر مشتمل کوانٹم کمپیوٹرز کی تعمیر نسبتاً آسان ہو سکتی ہے۔ اسی طرح مستقبل کے کوانٹم انٹرنیٹ میں دور دراز مقامات پر موجود کوانٹم آلات کو محفوظ اور مؤثر انداز میں ایک دوسرے سے جوڑنے میں بھی یہ طریقہ اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔مستقبل کے امکانات اور چیلنجزاگرچہ یہ تجربہ بہت اہم پیش رفت ہے لیکن سائنسدانوں کے مطابق ابھی کافی کام باقی ہے۔ موجودہ تجربات میں دستیاب اینٹینگلمنٹ کا صرف ایک محدود حصہ ہی مؤثر انداز میں منتقل کیا جا سکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عملی استعمال کے لیے اس ٹیکنالوجی کو مزید مؤثر، مستحکم اور قابلِ اعتماد بنانا ہوگا۔اس کے باوجود ماہرین پرامید ہیں کہ آنے والے برسوں میں اس میدان میں مزید کامیابیاں حاصل ہوں گی۔ بہتر کوانٹم کمپیوٹرز، انتہائی محفوظ مواصلاتی نظام، جدید طبی تحقیق، حساس سینسرز اور پیچیدہ سائنسی مسائل کے حل میں کوانٹم ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔بیس سال پرانے نظریے کی تجرباتی تصدیق اس بات کا ثبوت ہے کہ سائنسی نظریات کبھی کبھی اپنی تصدیق کے لیے کئی دہائیاں انتظار کرتے ہیں۔ کوانٹم اینٹینگلمنٹ کے اس نئے تجربے نے نہ صرف ایک اہم نظریاتی پیشگوئی کو درست ثابت کیا ہے بلکہ کوانٹم کمپیوٹنگ اور کوانٹم مواصلات کے مستقبل کے لیے بھی نئی امیدیں پیدا کی ہیں۔اگرچہ ابھی اس تحقیق کو عملی ٹیکنالوجی میں تبدیل ہونے میں وقت لگے گا، لیکن یہ کامیابی واضح کرتی ہے کہ سائنس مسلسل ترقی کر رہی ہے اور وہ تصورات جو کبھی صرف نظریاتی بحث کا حصہ تھے، آج تجربہ گاہوں میں حقیقت بن رہے ہیں۔ آنے والے برسوں میں ایسی مزید تحقیقات انسان کو کمپیوٹنگ، مواصلات اور سائنسی تحقیق کے بالکل نئے دور میں داخل کر سکتی ہیں۔

انٹر نیشنل ٹریفک لائٹ ڈے

انٹر نیشنل ٹریفک لائٹ ڈے

محفوظ سفر، مہذب معاشرہہر سال 5 اگست کو دنیا بھر میں' ٹریفک لائٹ ڈے‘ منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد ٹریفک سگنلز کی اہمیت کو اجاگر کرنا، سڑکوں پر نظم و ضبط کو فروغ دینا اور عوام میں ٹریفک قوانین سے متعلق شعور پیدا کرنا ہے۔ بظاہر سرخ، زرد اور سبز روشنی پر مشتمل یہ نظام بہت سادہ دکھائی دیتا ہے مگر حقیقت میں یہی روشنیاں روزانہ لاکھوں افراد کی جان و مال کے تحفظ میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں، جہاں سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے، ٹریفک لائٹس کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ٹریفک لائٹ کی تاریخٹریفک لائٹ کی تاریخ تقریباً ڈیڑھ صدی پرانی ہے۔ دنیا کی پہلی ٹریفک لائٹ 10 دسمبر 1868ء کولندن میں پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب نصب کی گئی تھی۔ اسے برطانوی انجینئر J. P. Knight نے ڈیزائن کیا تھا، جنہوں نے ریلوے سگنلنگ کے نظام سے متاثر ہو کر سڑکوں کے لیے یہ تصور پیش کیا۔ اس ابتدائی نظام میں گیس سے جلنے والی سرخ اور سبز روشنیاں استعمال ہوتی تھیں مگر ایک حادثے کے بعد اسے ہٹا دیا گیا۔بعد ازاں، گاڑیوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ محفوظ اور خودکار نظام کی ضرورت محسوس ہوئی۔ 5 اگست 1914ء کو امریکہ کے شہر کلیولینڈ میں پہلی الیکٹرک ٹریفک لائٹ نصب کی گئی، جسے جدید ٹریفک سگنلز کا آغاز سمجھا جاتا ہے۔ اسی تاریخی واقعے کی یاد میں ہر سال 5 اگست کو بین الاقوامی ٹریفک لائٹ ڈے منایا جاتا ہے۔ بعد میں زرد روشنی کا اضافہ کیا گیا تاکہ ڈرائیوروں کو رکنے یا چلنے سے پہلے احتیاط کا موقع مل سکے۔ٹریفک لائٹ کی اہمیت اور پاکستانٹریفک لائٹ کا بنیادی مقصد سڑکوں پر نظم و ضبط قائم رکھنا اور حادثات کی روک تھام کرنا ہے۔ سرخ روشنی رکنے، سبز روشنی چلنے اور زرد روشنی احتیاط کی علامت ہے۔ اگر تمام ڈرائیور ان اشاروں کی پابندی کریں تو نہ صرف ٹریفک روانی سے چلتی ہے بلکہ انسانی جانوں کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔پاکستان میں ٹریفک کے مسائل صرف گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے نہیں بلکہ قوانین پر عمل درآمد کی کمی کی وجہ سے بھی پیدا ہوتے ہیں۔ سرخ بتی کا اشارہ توڑنا، غلط سمت سے گاڑی چلانا، لین کی پابندی نہ کرنا اور تیز رفتاری جیسے عوامل ہر سال ہزاروں حادثات کا سبب بنتے ہیں۔ ملک عزیز کے تقریباً ہر بڑے شہر میں جدید ٹریفک سگنلزنصب ہیں لیکن ان کی کامیابی کا انحصار شہریوں کے ذمہ دارانہ رویے پر ہے۔محفوظ ٹریفک کلچر کے لیے ہماری ذمہ داریاںمحفوظ ٹریفک صرف حکومت یا ٹریفک پولیس کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو کم عمری سے ہی ٹریفک قوانین سے آگاہ کریں۔ تعلیمی اداروں میں ٹریفک آگاہی پروگرام منعقد کیے جانے چاہئیں جبکہ میڈیا بھی اس حوالے سے مزیدکردار ادا کرے۔ڈرائیوروں کو موبائل فون استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے، رفتار مقررہ حد میں رکھنی چاہیے، ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کا استعمال یقینی بنانا چاہیے اور ایمبولینس یا دیگر ہنگامی گاڑیوں کو فوری راستہ دینا چاہیے۔ معمولی سی احتیاط ایک بڑی جان بچا سکتی ہے۔ایک محفوظ مستقبل کی طرف قدمبین الاقوامی ٹریفک لائٹ ڈے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سڑک پر نظم و ضبط صرف قانون نہیں بلکہ تہذیب، ذمہ داری اور انسانی جان کے احترام کی علامت ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کی کامیابی کا ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ وہاں شہری ٹریفک قوانین پر ہر صورت سختی سے عمل کرتے ہیں۔ ہمارا ملک بھی اسی وقت محفوظ اور مہذب ٹریفک کلچر کی طرف بڑھ سکتا ہے جب ہر فرد اپنی ذمہ داری ادا کرے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سرخ بتی پر رکنے کو وقت کا ضیاع نہیں بلکہ جان بچانے کا ذریعہ سمجھیں، زرد بتی پر احتیاط کریں اور سبز بتی پر بھی ذمہ داری سے آگے بڑھیں۔ یہی چھوٹی چھوٹی عادتیں بڑے مثبت نتائج پیدا کرتی ہیں۔ ہمیں سرخ بتی پر رکنے کو وقت کا ضیاع نہیں بلکہ زندگی کا تحفظ سمجھنا چاہیے، زرد بتی پر احتیاط کرنی چاہیے اور سبز بتی پر بھی ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ اگر ہر پاکستانی ٹریفک قوانین پر دل سے عمل کرے تو حادثات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے اور ہمارا ملک ایک محفوظ، منظم اور مہذب ٹریفک کلچر کی جانب تیزی سے گامزن ہو سکتا ہے۔ یہی بین الاقوامی ٹریفک لائٹ ڈے کا اصل پیغام ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

میرینر 7 کی پرواز5 اگست 1969ء کو ناسا کے خلائی تحقیق کے مشن Mariner 7 نے مریخ کے انتہائی قریب سے کامیاب پرواز کی۔ یہ مشن مریخ کی سطح، فضا اور ماحول کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ خلائی جہاز نے ہزاروں تصاویر زمین پر بھیجیں جن سے معلوم ہوا کہ مریخ کی سطح پر بڑے بڑے گڑھے، برف سے ڈھکے قطبی علاقے اور آتش فشانی ساختیں موجود ہیں۔ Mariner 7 کی کامیابی نے بعد کے خلائی منصوبوں مثلاً وائکنگ،پاتھ فائنڈر،سپرٹ، اپرچونیٹی،کریوسٹی اورپریزروینس جیسے مشنز کی راہ ہموار کی۔ اٹلانٹک ٹیلی گراف کیبل5 اگست 1858 کوبحر اوقیانوس کے نیچے بچھائی گئی پہلی کامیاب اٹلانٹک ٹیلی گراف کیبل مکمل طور پر جوڑ دی گئی۔ اس عظیم منصوبے کا مقصد یورپ اور شمالی امریکہ کے درمیان فوری مواصلاتی رابطہ قائم کرنا تھا۔ اس سے پہلے دونوں براعظموں کے درمیان خبریں بحری جہازوں کے ذریعے پہنچتی تھیں جن میں کئی ہفتے لگ جاتے تھے۔ کیبل مکمل ہونے کے بعد پیغامات چند منٹوں یا گھنٹوں میں منتقل ہونے لگے، جو اس زمانے میں ایک غیر معمولی سائنسی کامیابی تھی۔ اگرچہ ابتدائی کیبل چند ہفتوں بعد خراب ہوگئی لیکن اس منصوبے نے ثابت کر دیا کہ سمندر کے نیچے طویل فاصلے کی مواصلاتی لائن بچھانا ممکن ہے۔ آج کی فائبر آپٹک انٹرنیٹ کیبلز اسی تصور کی جدید شکل ہیں۔امریکہ میں انکم ٹیکس کا نفاذ5 اگست 1861ء کو صدر ابراہام لنکن نے امریکہ میں پہلا وفاقی انکم ٹیکس نافذ کیا۔ خانہ جنگی سے نمٹنے کے لیے نقد رقم کے حصول کے لیے لنکن اور کانگریس نے 800 ڈالرسے زائد سالانہ آمدنی پر تین فیصد ٹیکس عائد کرنے پر اتفاق کیا۔سینیٹ کی مالیاتی کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر ولیم پٹ فیسنڈن کی قیادت میں کانگریس نے ریونیو ایکٹ کا مسودہ تیار کیا جس پر کافی بحث بھی ہوئی مگرآخر کار کانگریس نے اسے منظور کر لیا اور صدر لنکن نے اس پر دستخط کر دیے۔1861ء کے ریونیو ایکٹ میں چینی، چائے، گندھک، کافی، اور مختلف پھلوں اور جڑی بوٹیوں سمیت درآمدات پر مختلف محصولات لگائے۔ برکینا فاسو میں فوجی بغاوت5 اگست 1983ء کو مغربی افریقہ کے ملک اپر وولٹا (جسے آج برکینا فاسو کہا جاتا ہے) میں ایک فوجی انقلاب برپا ہوا جس کے نتیجے میں تھامس سنکارا ملک کے صدر بن گئے۔ انہوں نے اقتدار سنبھالنے کے بعد بدعنوانی کے خاتمے، زرعی اصلاحات، خواتین کے حقوق، تعلیم، صحت اور خود انحصاری کے لیے وسیع اصلاحات نافذ کیں۔ انہوں نے غیر ضروری سرکاری اخراجات کم کیے، عوامی خدمت کو فروغ دیا اور بیرونی امداد پر انحصار گھٹانے کی کوشش کی۔ ان کی اصلاحات نے انہیں افریقہ کے مقبول ترین انقلابی رہنماؤں میں شامل کر دیا۔ 5 اگست 1983ء کا انقلاب افریقی تاریخ میں ایک اہم موڑ سمجھا جاتا ہے۔ جنوبی افریقہ پر پابندیاں5 اگست 1986ء کو امریکی ایوانِ نمائندگان نے جنوبی افریقہ کی نسل پرستانہ حکومت کے خلاف سخت اقتصادی پابندیوں کے حق میں ووٹ دیا۔ یہ اقدام نیلسن منڈیلا اور نسل پرستی کے خلاف عالمی تحریک کی حمایت میں ایک اہم مرحلہ تھا۔ اگرچہ اس وقت منڈیلا جیل میں تھے لیکن دنیا بھر میں ان کی رہائی اور اپارتھائیڈ کے خاتمے کا مطالبہ زور پکڑ رہا تھا۔ امریکی کانگریس کے اس فیصلے نے جنوبی افریقہ پر بین الاقوامی دباؤ میں نمایاں اضافہ کیا۔ ان اقدامات نے جنوبی افریقہ کی حکومت کو معاشی اور سفارتی طور پر مزید تنہا کر دیا اور اس عالمی دباؤ کے نتیجے میں بالآخر 1990ء میں نیلسن منڈیلا کو رہا کیا گیا اور چند برس بعد اپارتھائیڈ کا خاتمہ ہوا۔