کتبہ کہانی

کتبہ  کہانی

اگر ہم ایک عالم ، محقق، نقاد، شاعر، دانشور، مصنف، صحافی، مترجم، خوش گلو، خوش تحریر ادیب، اور روحانی شخصیت کو یکجا کریں تو انکا حاصل بشیر حسین ناظم کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ وہ شاعر ہفت زباں تھے

جنہیں اردو، فارسی، عربی، انگریزی ، پنجابی، سرائیکی اور ہندی زبانوں پر دسترس حاصل تھی۔ نعت گوئی اور نعت خوانی انکا خاصا تھا ۔ ملک میں فروغ نعت کے حوالے سے انکی خدمات کے عوض 1992میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔ اردو ادب کی تاریخ میں انکا یہ منفردامتیاز اور اعزاز ناقابل فراموش ہے کہ انہوں نے دیوان غالب کی ہر غزل کی زمین میں نعت کہی ۔ انکی نعتوں کا یہ مجموعہ \\\'جمالِ جہاں فروز \\\' کے نام سے زیور طبع سے آراستہ ہوا۔ نعت گوئی اور نعت خوانی انکی زندگی کا معمول تھا ۔ نعتیہ محافل میں اپنا کلام ترنم سے پڑھتے تو حاضرین کو روحانی کیف و سرورسے ہمکنار کر دیتے۔ جس محفل میں مرحوم علاامہ بشیر حسین ناظم تشریف فرما ہوتے ، نامی گرامی شعراء سنبھل کر اپنے اشعار سناتے کیونکہ جوش ملیح آبادی کی طرح بشیر ناظم بھی زبان و بیاں کی کوئی غلطی اور سقم برداشت نہیں کرتے تھے ۔ لفظ کے غلط تلفظ پر فوراًٹوک دیتے۔ انکی اس عادت سے ایک طبقہ ہمیشہ نالاں بھی رہا۔وہ تضمین کے بادشاہ سمجھے جاتے تھے۔ غالبِ نعت، پنجاب کا سچل سر مست، یوسف تحریر،عہد سازاور ہمہ جہت شخصیت، اقبال شناس ، نابغہ عصر، عاشق رسولۖ، اور بلبل ہزار داستاں جیسے القابات بھی بشیر حسین ناظم کے حصہ میں آئے۔ 25 اکتوبر 1932 میںگوجرانوالہ میں جنم لینے والا بشیر ناظم بچپن ہی میں میاں شیر محمد شرقپوری رحمتہ اللہ علیہ کے برادرِخرد میاں غلام اللہ ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے حلقہ ارادت میں داخل ہو گئے۔ گوجرانوالہ کو علامہ بشیرحسین ناظم پنجاب کا ایتھنز کہا کرتے تھے،۔ انہوں نے برصغیر کے عظیم محدث سید البرکات علیہ الرحمہ سے درس نظامی کی تکمیل کی اور جدید علوم کی تحصیل کے لئے مسلسل محنت میں لگے رہے ۔ مختلف زبانوں میں ایم۔اے کے امتحانات پاس کئے، قانون کی ڈگری حاصل کی اور نہائت اعلیٰ نمبروں سے PCS میں کامیابی سمیٹی۔ اردہ، انگریزی ، فارسی، اورعربی میں مستند ماہر لسانیات تسلیم کئے جاتے تھے۔ انہیں بیس سے زائدمرتبہ حج کی سعادت سے فیض یابی ہوئی۔ 17جون 2012بمطابق 26رجب المرجب 1433ھ (شب معراج ) کی نورانی رات کو جب علامہ بشیر حسین ناظم کو لحد میں اتارا گیا تو ہر آنکھ اشک بار تھی کہ حضور ۖکی محبت اور درود شریف کی عبادت میں ہمہ تن مجسم رہنے والی یہ شخصیت اپنے علم و عرفان سے انہیں اب کبھی مستفید نہ کر سکے گی۔ سی ڈی اے کے قبرستان واقع سیکٹر H-11 میں بشیر حسین ناظم کے حصہ میں پلاٹ نمبر 22کی قبر نمبر 118آئی۔ یہ قبر 22نمبر پلاٹ کے آغاز میں کونے پر واقع ہے۔ قبر کی تعمیر میں وائٹ ماربل کا استعمال کیا گیا ہے جبکہ قبر کیساتھ بیٹھنے کے لئے ماربل سے تیار کئے گئے دوسٹول بھی لگائے گئے ہیں۔ قبر کے درمیانی حصہ کو کچا رکھا گیا ہے جس پر ننھے منے سرسبز پودے اور خوبصورت پھول مسکراتے دکھائی دیتے ہیں۔ قبر کے کتبہ کے اندرونی حصہ پر حاشیہ کے اندر دائیں طرف اوپر یا اللہ اور بائیں طرف اوپر یا رسول اللہ ۖدرج ہے جبکہ درمیان میں بسم اللہ تحریر ہے ۔ اسکے نیچے الصلوة والسلام علیک یا رسول اللہ درج ہے جس کے نیچے پہلا کلمہ کندہ کیا گیا ہے۔ وائٹ ماربل سے تیار کردہ اس کتبہ پر \\\'مرقد منور علامہ الحاج بشیر حسین ناظم رحمتہ اللہ علیہ ولد میاں غلام حسین چوہان رحمتہ اللہ علیہ جلی حروف میں کندہ ہے۔ کتبہ پر \\\'تاریخ ارتحال 17جون 2012بروز اتوار، بمطابق 26رجب المرجب 1433ھ\\\' تحریر ہے۔ کتبہ کے نچلے حصہ پر بشیر حسین ناظم کا اپنا تخلیق کردہ نعتیہ شعر \\\'تاابد سید عالمۖ کی ثنا ء میں ناظم ۔ ہوگی مٹی بھی میری نعت سرا میرے بعد\\\' درج کیا گیا ہے۔ کتبہ کے بیرونی حصہ پر بھی شعر \\\'مجھ کو معلوم نہ تھا تیری قضا ء سے پہلے ۔ نجم و تاباں بھی زمیں دوز ہوا کرتے ہیں\\\' کندہ ہے ۔ اسکے نیچے پلاٹ نمبر 22، قبر نمبر 118درج ہے۔ علامہ بشیر حسین ناظم شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کو ولی اللہ کہا کرتے تھے ۔ اقبال کے کلام سے بشیر ناظم کی وابستگی و شیفتگی کا یہ عالم تھا کہ 60 سال تک اسکی ترویج میںمشغول رہے ۔اسلام آباد اور لاہور میں منعقد کی جانے والی یوم اقبال کی تقاریب میں 60سال کلام اقبال پڑھنے پر1998میں مرکزی مجلس ِاقبال ، لاہور نے انہیں \\\'خصوصی اقبال گولڈ میڈل \\\' سے بھی نوازا گیا۔ ایک طرف کلام اقبال نے انہیں \\\'قادر الکلام \\\' بنا دیا تو دوسری طرف وفات سے قبل پانچ کروڑ درود پاکۖپڑھنے اور نعت گوئی و نعت خوانی کرتے کرتے ادبی حلقوں میں وہ \\\'غالب نعت\\\' کہلائے۔ بشیرحسین ناظم نے مختلف زبانوں میں 30 سے زائد کتب تحریر کیں ۔ انکی تصنیفات میں \\\'جمالِ جہاں فروز، ابدی آوازاں، کلاسیکی ادب، خوان رحمت (سلام ِ رضا پر تضمین)، پنجابی اکھان، مکھ، خواباں خواباں جامِ سفالین، شواہد النبوت، Supreme Prophet The، بیعت و خلافت، حسام الحرمین، شرب مدام ما، اور دیگرشامل ہیں۔ بشیر ناظم آخری وقت تک نعت اور کلام اقبال کے فروغ کے لئے کام کرتے رہے اور اکثرکہا کرتے کہ انہوں نے یہ مقام بہت جد و جہد کے بعد بنایا ہے ورنہ اس معاشرے میں موجود حاسد، بد عنوان اور جاہل لوگ کسی کو آگے بڑھتا نہیں دیکھ سکتے۔ بشیر حسین ناظم کا دل جہاں عشق رسول ۖ اور اقبال کے لئے دھڑکتا تھا وہاں وہ جمہوری اقدار کو بھی پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے تھے۔ ایک دفعہ ایک تقریب میں سابق صدر جنرل ضیاء الحق مہمان خصوصی تھے انہوں نے بشیر حسین ناظم سے فرمائش کی کہ وہ کلام اقبال کے چند اشعار پڑھیں۔ بشیر ناظم نے کلام اقبال پڑھنا شروع کیا اور جب وہ اس شعر پر پہنچے \\\'خداوند!یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں، کہ درویشی بھی عیاری ہے ، سلطانی بھی عیاری\\\'، تو انہوں نے جنرل صاحب کی طرف ذو معنی نظروں سے دیکھا جسے حاضرین مجلس نے بہت انجوئے کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں